[CRK]
حیدرآباد کنگز مین نے راولپنڈیز کو پاکستان سپر لیگ 2026 کے ایک پُر جوش میچ میں کراچی کی دھیمی اور سست پٹی پر پانچ وکٹوں سے شکست دے کر اپنی تیسری مسلسل فتح حاصل کر لی۔ ہونین شاہ اور محمد علی کی مہلک بولنگ کی بدولت راولپنڈیز صرف 121 رنز بنا سکی، جبکہ کوسال پیرا اور اعجاز خان نے دباو میں چھوٹی لیکن اہم شراکت داری بنا کر 21 گیندوں پہلے ہدف حاصل کر لیا۔
راولپنڈیز کی بیٹنگ: سست پٹی کا سامنا
راولپنڈیز کی بیٹنگ لائن اپ کو کراچی کی تازہ لیکن سست اور اسپن دوست پٹی پر کھلنا مشکل ہو گیا۔ صرف 24 رنز کے مجموعی اسکور پر تین وکٹیں گر گئیں، جس میں مائس سادق، سائم ایوب اور عثمان خان کے نام شامل تھے۔ اسپن اور پیس کے بہترین امتزاج نے حیدرآباد کو پہلے اوورز میں ہی کنٹرول دے دیا۔
محمد رضوان نے شروع میں دو چوکے لگائے، لیکن جلد ہی ان کی وکٹ گر گئی۔ گلین میکس ویل کی تیسرے اوور میں انیک سُٹ نے حیدرآباد کو پہلی کامیابی دلائی، جس کے بعد محمد علی نے سرپرائز فیصلہ کیا اور پرچم کے کپتان کے خلاف جافا گیند کھیلی جو باؤنس کے بعد اندر آ گئی اور اسٹمپس اڑا دیں۔ اس وکٹ کے بعد ہونین شاہ نے ڈیرل مچل کو صفر پر کیچ آؤٹ کر کے مزید دباو ڈالا۔
تباہ کن بولنگ: ہونین اور علی کا جادو
ہونین شاہ نے اپنے چار اوورز میں صرف 18 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں، جبکہ محمد علی نے 21 رنز پر تین وکٹیں لیں۔ دونوں فاسٹ بولرز نے لمبی لائن اور سست رفتار کو بہترین طریقے سے استعمال کیا، جو اس مشکل پٹی پر بالکل مناسب تھا۔ صائم ایوب اور ہیزلی وکٹس کے اوورز کی مجموعی اکانومی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ حیدرآباد کو پٹی کا بہترین فائدہ اٹھانے میں مدد ملی۔
- ہونین شاہ: 4 اوورز، 3 وکٹیں، 18 رنز
- محمد علی: 4 اوورز، 3 وکٹیں، 21 رنز
- اعجاز خان: 4 اوورز، 3.50 کی اکانومی
- حیدر علی: 4 اوورز، 5.75 کی اکانومی
ہدف کا تعاقب: کنگز مین کی محنت
جوابی بیٹنگ میں بھی حالات مشکل تھے۔ محمد عامر اور عاصف افریدی نے پاور پلے میں صرف 10 رنز دیے اور دو اہم وکٹیں حاصل کیں۔ 69 رنز پر پانچ وکٹیں گر چکی تھیں اور میچ تقریباً ہی راولپنڈیز کے ہاتھ لگ رہا تھا۔
لیکن مارنس لابوشیگن (32 رنز) نے پرطمینان اننگز کھیلی۔ انکے بعد آل راؤنڈر گلین میکس ویل ایک گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ ہدف تک پہنچنے کا بوجھ آخری جوڑی پر آ گیا۔
پیرا اور اعجاز: فاتح شراکت
کوسال پیرا (32 ناٹ آؤٹ، 24 گیندوں پر) اور اعجاز خان (34 ناٹ آؤٹ، 29 گیندوں پر) نے بے حد ہمت اور پُر سکون انداز میں 54 رنز کی شراکت بنا کر 13 ویں اوور تک ہدف کو پورا کر لیا۔ انہوں نے ایک گیند بھی ضائع نہیں کی اور باؤنڈریز کے لیے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطرناک شاٹس کو چھوڑا۔
جیسے جیسے وہ اسکور بورڈ پر آگے بڑھے، انہوں نے اسپن کو مارنا شروع کر دیا۔ آخری چھ اوورز میں صرف 23 رنز درکار تھے اور انہوں نے اسے 21 گیندوں کے اندر حاصل کر لیا۔
نقطہ نظر: کنگز مین کی حکمت عملی جیت گئی
حیدرآباد کنگز مین کے کوچ اور کپتان دونوں نے اس بات کو سمجھ لیا تھا کہ کراچی کی پٹی پر لمبی گیندیں، ورائی اور ویٹ اسٹنگ دفاعی اسٹریٹجی ہو گی۔ انکے بولرز نے پورے میچ میں رفتار اور لمبائی کو بہترین طریقے سے برقرار رکھا۔
راولپنڈیز کا ریکارڈ اب چھ ہاروں میں چھ ہار ہے اور وہ چھوٹی نیٹ رن ریٹ کے ساتھ انٹر ٹیبل پر سب سے نیچے ہیں۔ دوسری طرف کنگز مین نے دو درجے ترقی پا کر چوتھی پوزیشن حاصل کر لی، جس سے پلے آف کی امیدیں روشن ہو گئی ہیں۔
یہ فتح خاص طور پر نوجوان کھلاڑیوں جیسے ہونین شاہ (جسے گزشتہ میچ میں مہنگا سمجھا جا رہا تھا) اور اعجاز خان کی بحالی کے لیے بھی معنی خیز ہے۔ کنگز مین کا کہنا ہے کہ وہ اب ہر میچ پر فوکس کر رہے ہیں، اور آج کی فتح نے وہ یقین اور دم بحال کر دیا ہے۔