[CRK] جارج بالڈرسن کی شاندار باؤلنگ: گلوسٹر شائر مشکل میں، بارش نے کھیل روک دیا

[CRK]

جارج بالڈرسن کی شاندار باؤلنگ: بارش نے گلوسٹر شائر کو مزید تباہی سے بچا لیا

برسٹل کے سیٹ یونیک اسٹیڈیم میں روتھیسی کاؤنٹی چیمپئن شپ ڈویژن ٹو کے ایک سنسنی خیز مقابلے میں لنکشائر نے گلوسٹر شائر پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ میچ کے پہلے دن کھیل بارش کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا، لیکن جتنی دیر کھیل جاری رہا، لنکشائر کے باؤلر جارج بالڈرسن نے اپنی مہارت کا لوہا منوایا۔ بالڈرسن نے 16 اوورز میں صرف 27 رنز دے کر 4 اہم وکٹیں حاصل کیں، جس نے میزبان ٹیم کو شدید مشکل میں ڈال دیا۔

میچ کا آغاز اور ٹاس کا فیصلہ

میچ کے آغاز پر موسم کافی ابر آلود تھا اور گراؤنڈ میں فلڈ لائٹس جلائی گئی تھیں، جس سے واضح تھا کہ باؤلرز کو مدد ملے گی۔ لنکشائر کے تجربہ کار کپتان جیمز اینڈرسن نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اینڈرسن نے اپنے پہلے چھ اوورز انتہائی نظم و ضبط کے ساتھ کروائے، جس میں انہوں نے صرف 7 رنز دیے اور کئی بار بیٹر کو چکمہ دے کر اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا۔

گلوسٹر شائر کی شروعات کسی خاص طور پر اچھی نہیں رہی۔ کیمرون بینکرافٹ اور بین چارلس ورتھ نے ملا کر 22 رنز بنائے، لیکن پھر ایک ڈرامائی موڑ آیا۔ بینکرافٹ نے اینڈرسن کی گیند پر آگے بڑھ کر رن لینے کی کوشش کی، لیکن جوش بوهانن کے براہ راست ہٹ (Direct Hit) نے انہیں پویلین بھیج دیا، اور لنکشائر کو پہلی کامیابی حاصل ہوئی۔

جارج بالڈرسن کا جادو اور بیٹنگ لائن کا انہدام

گلوسٹر شائر کے لیے اولی پرائس اور بین چارلس ورتھ نے دوسری وکٹ کے لیے 58 رنز کی شراکت قائم کر کے ٹیم کو سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن لنچ سے ٹھیک پہلے بالڈرسن نے اولی پرائس (35 رنز) کا دفاع توڑتے ہوئے ان کے لیگ اسٹمپ کو اکھاڑ پھینکا۔ یہ وکٹ میچ کا کلیدی موڑ ثابت ہوئی۔

لنچ کے بعد بالڈرسن مزید خطرناک ہو گئے۔ انہوں نے انتہائی مختصر وقفے میں دو مزید وکٹیں حاصل کیں۔ پہلے انہوں نے بین چارلس ورتھ (26 رنز) کو ایل بی ڈبلیو (lbw) آؤٹ کیا، اور پھر مائلز ہیمنڈ کو کیٹ پیچھے کرتے ہوئے پویلین کی راہ دکھائی۔ اچانک گلوسٹر شائر کی حالت خراب ہو گئی اور وہ 94 رنز پر 4 وکٹیں گنوا چکے تھے۔

بالڈرسن کا कहर یہیں نہیں رکا، انہوں نے جیمز بریسے کو بھی ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر کے اپنی چوتھی وکٹ حاصل کی۔ اس کے بعد پال کوفلن نے گریم وین بیورن کو صفر پر آؤٹ کیا، جن کا کیچ کیٹن جینس نے سلپ میں گرفت میں لیا۔ گلوسٹر شائر کی ٹیم 44 اوورز کے بعد 124 رنز پر 6 وکٹیں گنوا چکی تھی، اور ان کی بیٹنگ ایک بار پھر مایوس کن نظر آئی۔

زخموں کی بھرمار اور نئے قوانین کا اطلاق

اس میچ میں لنکشائر کو انجری کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کھیل کے چھٹے اوور میں سابق گلوسٹر شائر پیس باؤلر اجیت سنگھ ڈیل ہیمسٹرنگ کے زخم کی وجہ سے میدان چھوڑ کر چلے گئے۔ وہ اس میچ میں مزید حصہ نہیں لے سکیں گے۔ اس صورتحال میں، چیمپئن شپ کے نئے ‘سبسٹٹیوٹ رول’ (Substitute Rule) کا استعمال کرتے ہوئے لیستر سے سیکنڈ الیون کے کھلاڑی اولی سٹن کو فوری طور پر بلایا گیا تاکہ وہ ڈیل کی جگہ لے سکیں۔

اس کے علاوہ، وکٹ کیپر میٹی ہرسٹ بھی بالڈرسن کی ایک گیند کی زد میں آ گئے، جس سے ان کے بائیں ہاتھ پر شدید چوٹ آئی۔ شدید تکلیف کے باوجود، وہ کچھ منٹ کے علاج کے بعد دوبارہ کھیل میں شامل ہوئے، اگرچہ وہ واضح طور پر تکلیف میں تھے۔

بارش کی آمد اور موجودہ صورتحال

گلوسٹر شائر کے لیے ایک بڑی راحت بارش کی صورت میں آئی۔ جب 21 سالہ ٹومی بورمین، جو اپنا چیمپئن شپ ڈیبیو کر رہے تھے، 11 رنز پر غیر شکست خوردہ موجود تھے، تب شدید بارش شروع ہو گئی۔ بارش اتنی تیز تھی کہ کھیل دوبارہ شروع ہونے کی تمام امیدیں ختم ہو گئیں اور دن کا کھیل ختم کرنا پڑا۔

خلاصہ اور تجزیہ

  • گلوسٹر شائر کا اسکور: 124 رنز فی 6 وکٹیں (44 اوورز)
  • جارج بالڈرسن کی کارکردگی: 16 اوورز، 4 وکٹیں، 27 رنز
  • ٹاپ اسکورر: اولی پرائس (35 رنز)
  • اہم واقعات: اجیت سنگھ ڈیل انجری کی وجہ سے باہر، میٹی ہرسٹ زخمی۔

گلوسٹر شائر کے لیے یہ ایک مایوس کن آغاز ہے، خاص طور پر جب وہ پہلے دو چیمپئن شپ میچز میں اننگز کی شکست کے بعد اس مقابلے میں اترے تھے۔ اب تمام نظریں اگلے دن کے کھیل پر ہوں گی، جہاں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا ٹومی بورمین اور بقیہ بلے باز اپنی ٹیم کو ایک معقول اسکور تک پہنچا پاتے ہیں یا لنکشائر اپنی گرفت مزید مضبوط کرے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *