[CRK]
بنگلہ دیش کی شکست: جب ون ڈے میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلی گئی
ڈھاکہ کے شیر بنگلہ اسٹیڈیم میں جمع ہزاروں شائقین ایک سنسنی خیز مقابلے کی توقع کر رہے تھے، لیکن بدقسمتی سے بنگلہ دیش کی بیٹنگ لائن، خاص طور پر مڈل آرڈر، اپنی ہی غلطیوں کا شکار ہو گئی۔ نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ون ڈے میچ میں بنگلہ دیش کو 26 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور یہ ہار کسی بیرونی وجہ سے نہیں بلکہ ٹیم کی اپنی حکمت عملی اور مڈل اوورز میں جاری سست روی کا نتیجہ تھی۔
میچ کا آغاز بنگلہ دیش کے لیے انتہائی امید افزا تھا۔ ایک وقت ایسا تھا جب ٹیم 23ویں اوور میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 114 رنز بنا چکی تھی اور جیت کا راستہ بالکل صاف نظر آ رہا تھا۔ لیکن جس طرح سے کھیل کا رخ بدلا، اس نے ایک بار پھر بنگلہ دیش کے مڈل آرڈر کی کمزوریوں کو دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔
شروعاتی کامیابی اور پھر اچانک زوال
بنگلہ دیش کی جانب سے سیف حسن اور لٹن داس نے تیسری وکٹ کے لیے 93 رنز کی شاندار شراکت قائم کی۔ سیف حسن نے اپنی دوسری ون ڈے نصف سنچری مکمل کی، جس نے ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔ دوسری جانب لٹن داس نے 46 رنز بنائے، لیکن یہاں ایک تشویشناک رجحان نظر آیا؛ یہ مسلسل تیسرا موقع تھا جب لٹن 40 کی دہائی میں آؤٹ ہوئے۔
نیوزی لینڈ کے باؤلرز نے انتہائی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض پانچ اوورز کے وقفے میں ان دونوں اہم بلے بازوں کو پویلین بھیج دیا، اور یہاں سے میچ کا رخ تبدیل ہونا شروع ہوا۔
مڈل اوورز کی سست روی: شکست کی اصل وجہ
جب توہید ہریدو اور عفیف حسین کریز پر آئے، تو شائقین کو امید تھی کہ وہ اس مومنٹم کو برقرار رکھیں گے۔ تاہم، ان دونوں نے مل کر 13.1 اوورز میں 52 رنز بنائے، لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس پوری شراکت میں صرف ایک باؤنڈری لگی۔
- عفیف حسین: 59 گیندوں پر صرف 27 رنز بنائے۔
- توہید ہریدو: شراکت داری میں 24 رنز کا حصہ رہے۔
اس سست روی کا اثر رن ریٹ پر واضح طور پر نظر آیا۔ جب یہ جوڑی 28ویں اوور میں اکٹھی ہوئی تو مطلوبہ رن ریٹ 5.13 تھا، لیکن جب 41ویں اوور میں عفیف آؤٹ ہوئے تو یہ بڑھ کر 7.11 ہو چکا تھا۔ ون ڈے میچ میں اس طرح کی سست روی کسی بھی ٹیم کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
کپتان کی کارکردگی اور شائقین کی مایوسی
کپتان مہیدی حسن میرز کے بارے میں یہ بات عام ہے کہ وہ اننگز کا آغاز آہستہ کرتے ہیں، لیکن اس میچ میں اس سست روی نے ٹیم کو مزید دباؤ میں ڈال دیا۔ اسی طرح رشاد حسین کی بیٹنگ فارم پچھلے دو سالوں میں نمایاں طور پر گری ہے، جس کا اثر اس میچ میں بھی دیکھا گیا۔
شیر بنگلہ اسٹیڈیم میں موجود تماشائیوں کا صبر جواب دے گیا جب انہوں نے دیکھا کہ عفیف اور ہریدو ون ڈے میچ میں ٹیسٹ میچ کے انداز میں بیٹنگ کر رہے ہیں۔ نتیجے کے طور پر، اسٹیڈیم میں موجود شائقین کی جانب سے کھلاڑیوں کے لیے ناپسندیدگی کا اظہار (boos) کیا گیا، جو کھلاڑیوں کی کارکردگی پر عوامی غصے کی عکاسی کرتا تھا۔
پچ کے حالات اور کھلاڑی کا موقف
میچ کے بعد سیف حسن نے اپنی کارکردگی اور پچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا: “میرا خیال ہے کہ وکٹ شروع سے ہی چیلنجنگ تھی۔ لیکن ہم نے غلط وقت پر وکٹیں گنوائیں۔ اگر میں اپنی اننگز کو تھوڑا اور طول دے پاتا تو کام آسان ہو جاتا۔”
انہوں نے مزید اعتراف کیا کہ پچ غیر ہموار تھی، لیکن انہوں نے اسے بہانہ بنانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایک سیٹ بلے باز کے لیے کھیلنا آسان تھا، لیکن نئے بلے باز کے لیے مشکل تھا۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف سیریز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی وکٹیں بہتر تھیں، لیکن یہاں ہمیں حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا چاہیے تھا۔
سسٹیمیٹک مسئلہ اور کوچ کی رائے
بنگلہ دیش کے مڈل آرڈر کی یہ سستی کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے بلکہ ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔ کوچ فل سمنز نے حال ہی میں اس نکتے کی نشاندہی کی تھی کہ بنگلہ دیش کے زیادہ تر مڈل آرڈر بلے باز مقامی کرکٹ میں ٹاپ آرڈر پر بیٹنگ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہیں انٹرنیشنل لیول پر مڈل آرڈر میں لایا جاتا ہے، تو وہ اس کردار کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ناکام رہتے ہیں۔
عفیف حسین اور مہیدی حسن میرز کی کارکردگی اب شدید جانچ کے دائرے میں ہے، جبکہ نجمول حسین شانتو کی حالیہ فارم میں گراوٹ نے ٹیم کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اگر بنگلہ دیش نے اپنی اس حکمت عملی کو درست نہ کیا، تو آنے والے میچوں میں بھی انہیں اسی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔