[CRK] ای سی بی انجری ریپلیسمنٹ کے متنازعہ قوانین پر نظرثانی کرے گا – کاؤنٹی چیمپئن شپ

[CRK]

ای سی بی انجری ریپلیسمنٹ کے متنازعہ قوانین پر نظرثانی کرے گا: کاؤنٹی ٹیموں کی شدید ناراضگی

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) نے کاؤنٹی چیمپئن شپ کے دوران کھلاڑیوں کی تبدیلی کے لیے متعارف کرائے گئے تجرباتی قوانین پر نظرثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب مختلف کاؤنٹی ٹیموں، بالخصوص لنکاشائر، نے ان نئے ضوابط کے نفاذ کے طریقہ کار پر شدید تنقید کی ہے۔ بورڈ اب کاؤنٹی چیمپئن شپ کے پہلے وقفے کے دوران ان قوانین میں ضروری ترامیم کرنے پر غور کرے گا۔

لنکاشائر کا واقعہ اور ‘لائیک فار لائیک’ کا تنازعہ

تازہ ترین تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب گлоسCESTERSHIRE کے خلاف میچ کے پہلے ہی دن لنکاشائر کے تیز گیند باز اجیت سنگھ ڈیل ہمسٹرنگ کی انجری کا شکار ہو گئے۔ وہ اس سیزن میں انجری کی بنیاد پر تبدیل ہونے والے نویں کھلاڑی بن گئے۔ تاہم، اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب میچ ریفری پیٹر سچ نے ٹام بیلی کو متبادل کھلاڑی کے طور پر قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

ریفری کا موقف تھا کہ ٹام بیلی ‘لائیک فار لائیک’ (یعنی بالکل اسی قسم کے ہنر رکھنے والے کھلاڑی) کی تعریف پر پورا نہیں اترتے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ لنکاشائر کے اسکواڈ میں موجود مچل اسٹینلے کمر کی تکلیف کی وجہ سے دستیاب نہیں تھے، جس کے نتیجے میں لنکاشائر کو بالآخر اولی سٹن کو شامل کرنا پڑا۔ سٹن ایک آل راؤنڈر ہیں جو بائیں ہاتھ سے سیم بولنگ کرتے ہیں، جبکہ اجیت سنگھ ڈیل دائیں ہاتھ کے تیز گیند باز تھے۔

اس فیصلے کے نتیجے میں اولی سٹن کو لیسٹر شائر سے برسٹل تک ٹیکسی کے ذریعے تین گھنٹے کا سفر طے کرنا پڑا، کیونکہ وہ سیکنڈ الیون کے لیے کھیل رہے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ میچ کے دوسرے دن ہی میدان میں اتر سکے، جبکہ ٹام بیلی کو پہلے دن کا زیادہ تر وقت صرف ایک متبادل فیلڈر کے طور پر گزارنا پڑا۔

کوچ اسٹیون کرافٹ کا سخت ردعمل

لنکاشائر کے ہیڈ کوچ اسٹیون کرافٹ نے اس صورتحال پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پورا عمل انتہائی مشکل رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان تجرباتی قوانین کو لانے کا مقصد ہی ایسی صورتحال سے نمٹنا تھا جہاں کھلاڑی اچانک زخمی ہو جائے۔

کرافٹ نے اپنے اعتراضات میں کہا: “اجیت میچ کے دوسرے اوور میں زخمی ہوئے، یہ کوئی پہلے سے طے شدہ منصوبہ نہیں تھا۔ ہم چوتھے دن کوئی تازہ کھلاڑی نہیں لا رہے تھے اور نہ ہی کوئی ایسا کھلاڑی لا رہے تھے جو 10 میل فی گھنٹہ زیادہ رفتار سے گیند بازی کرے۔ ہم نے ٹام بیلی کا مطالبہ کیا جو ایک دائیں ہاتھ کے سیم بولر ہیں اور اوپننگ کرتے ہیں، لیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔ اس کے بجائے ہمیں ایک بائیں ہاتھ کے آل راؤنڈر (اولی سٹن) کی اجازت ملی، جو کہ منطقی طور پر درست نہیں لگتا۔”

کرافٹ کا مزید کہنا تھا کہ ریفری کا فیصلہ شاید کھلاڑی کے اعداد و شمار (stats) یا تجربے کی بنیاد پر تھا، جبکہ قوانین میں ایسی کوئی شرط موجود نہیں تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ٹام بیلی کی شرکت سے ٹیم کو غیر معمولی فائدہ پہنچتا، تو وہ انہیں شروع سے ہی ٹیم میں شامل کرتے۔

دیگر ٹیموں کے تحفظات اور نظام کی خامیاں

صرف لنکاشائر ہی نہیں بلکہ دیگر ٹیمیں بھی ان قوانین سے پریشان ہیں۔ گلیموگن کے کپتان کرن کارلسن نے بھی اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ ان قوانین کو مزید بہتر بنانے اور واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا حوالہ نٹنگ ہیم شائر کے اس واقعے کی طرف تھا جہاں انہوں نے زخمی فرگس اونیل کی جگہ آل راؤنڈر لنڈن جیمز کو شامل کیا، جنہوں نے میچ کے چوتھے دن دو اہم وکٹیں حاصل کیں اور اپنی ٹیم کی فتح کو یقینی بنایا۔

ای سی بی کے کرکٹ آپریشنز کے سربراہ ایلن فورڈہم نے سیزن کے آغاز میں ٹیموں کو خبردار کیا تھا کہ وہ قوانین کی حدود سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں، لیکن اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ ‘لائیک فار لائیک’ کی تعریف ہر ریفری کے لیے مختلف ہے، جس سے کھیل میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل اور نظرثانی

ان تمام شکایات کو مارک مک کیفرٹی کی سربراہی میں ‘پروفیشنل گیم کمیٹی’ کے سامنے پیش کیا جائے گا، جو یہ طے کرے گی کہ قوانین میں کیا تبدیلیاں لائی جائیں۔

  • نظرثانی کا وقت: مئی کے وسط میں جب کاؤنٹی چیمپئن شپ میں وقفہ ہوگا اور T20 بلاسٹ شروع ہوگا، تب ان ترامیم کو نافذ کیا جائے گا۔
  • منطقی وجہ: اس وقت تک تمام 18 کاؤنٹی ٹیمیں چھ میچز کھیل چکی ہوں گی، جس سے بورڈ کو ڈیٹا جمع کرنے اور بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔
  • امکانات: یہ بہت کم امکان ہے کہ اس قانون کو مکمل طور پر ختم کیا جائے، بلکہ اس کی تعریف کو واضح کیا جائے گا تاکہ ریفریز کی اپنی ذاتی رائے کے بجائے ایک معیاری پیمانہ موجود ہو۔

مجموعی طور پر، یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ پروفیشنل کرکٹ میں قوانین کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ان کے نفاذ کے لیے واضح گائیڈ لائنز کا ہونا کتنا ضروری ہے تاکہ کھیل کی روح برقرار رہے اور کسی بھی ٹیم کو غیر منصفانہ نقصان نہ پہنچے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *