[CRK]
کرکٹ کینیڈا میں بدعنوانی کے سنگین الزامات: آئی سی سی کی تحقیقات کا آغاز
عالمی کرکٹ کی دنیا میں ایک بار پھر بدعنوانی کے سائے منڈلا رہے ہیں، لیکن اس بار مرکز توجہ کرکٹ کینیڈا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کے اینٹی کرپشن یونٹ (ACU) نے کرکٹ کینیڈا سے متعلق بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ان تحقیقات کا ایک بڑا حصہ بھارت اور سری لنکا میں منعقدہ حالیہ مردوں کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے ایک میچ کے گرد گھومتا ہے، جس نے کھیلوں کی شفافیت پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ورلڈ کپ میچ اور مشکوک اوور کی تفصیلات
ESPNcricinfo کی رپورٹ کے مطابق، آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ اس وقت دو فعال تحقیقات کر رہا ہے جو کرکٹ کینیڈا کے مختلف پہلوؤں اور بین الاقوامی و مقامی سطح پر آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزیوں سے متعلق ہیں۔ ان الزامات کی بنیاد کینیڈین تحقیقاتی پروگرام the fifth estate کی ایک دستاویزی فلم ‘Corruption, Crime and Cricket‘ ہے، جو کینیڈین عوامی براڈکاسٹر CBC پر نشر ہوئی۔
اس دستاویزی فلم میں کینیڈا اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے ورلڈ کپ میچ پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ تحقیقات کا مرکز نیوزی لینڈ کی بیٹنگ کا پانچواں اوور ہے، جب کینیڈا کے کپتان دلپریت باجوہ بولنگ کے لیے آئے۔ باجوہ، جو کہ محض 22 برس کے تھے، انہیں ٹورنامنٹ شروع ہونے سے صرف تین ہفتے پہلے کپتان مقرر کیا گیا تھا۔
دلپریت باجوہ بنیادی طور پر ایک بیٹنگ آل راؤنڈر ہیں جو آف اسپن بولنگ کرتے ہیں۔ جب وہ بولنگ کے لیے آئے تو نیوزی لینڈ کا اسکور 2 وکٹوں پر 35 رنز تھا۔ کینیڈا نے میچ کا آغاز فاسٹ بولرز جسکرن سنگھ اور ڈیلون ہیلگر سے کیا تھا، لیکن ان کی کارکردگی مایوس کن رہی اور انہوں نے بالترتیب 15 اور 14 رنز conceded کیے۔ اگرچہ تیسرے اوور میں سعد بن ظفر نے ایک وکٹ میڈن اوور کر کے میچ میں واپسی کی کوشش کی، لیکن باجوہ کا اوور انتہائی مشکوک رہا۔ انہوں نے اوور کا آغاز ایک نو بال سے کیا، ایک لیگ سائیڈ وائیڈ پھینکی اور مجموعی طور پر اس ایک اوور میں 15 رنز دیے، جس نے تحقیقات کے ادارے کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔
منتخب کے انتخاب میں مداخلت اور سابق کوچ کے الزامات
تحقیقات کا دوسرا اہم رخ کینیڈا کے سابق کوچ خورم چوہان سے متعلق ایک ریکارڈڈ ٹیلی فون کال ہے، جس میں وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ کرکٹ کینیڈا بورڈ کے سینیئر ارکان نے ان پر مخصوص کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں شامل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ یہ آڈیو ریکارڈنگ گزشتہ سال لیک ہوئی تھی اور تب سے اے سی یو اس کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اس ریکارڈنگ میں میچ فکسنگ کی کوششوں کے دعوے بھی موجود ہیں، تاہم ان کے لیے ٹھوس ثبوت فراہم کرنا اب تک ایک چیلنج رہا ہے۔
صرف خورم چوہان ہی نہیں، بلکہ ایک اور سابق کوچ پوبودو دسانیکے نے بھی اسی طرح کے الزامات عائد کیے ہیں۔ دسانیکے کا دعویٰ ہے کہ 2024 کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے اسکواڈ کے انتخاب میں ان پر ناجائز دباؤ ڈالا گیا۔ the fifth estate کے مطابق، بورڈ نے دسانیکے کو مجبور کرنے کی کوشش کی کہ وہ ان کی پسند کے کھلاڑیوں کو منتخب کریں، اور جب انہوں نے انکار کیا تو انہیں بتایا گیا کہ ان کا کنٹریکٹ ختم کر دیا جائے گا۔ دسانیکے نے اب غلط طریقے سے برطرفی کے خلاف کرکٹ کینیڈا پر مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔
انتظامی بدانتظامی اور مالیاتی بحران
کرکٹ کینیڈا گزشتہ ایک سال سے شدید انتظامی افراتفری کا شکار ہے۔ سب سے نمایاں واقعہ سابق سی ای او سلمان خان کی تقرری اور پھر ان کی برطرفی ہے۔ سلمان خان کی تقرری نے آئی سی سی کی توجہ اس لیے حاصل کی کیونکہ انہوں نے اپنے سابقہ مجرمانہ ریکارڈ کو ظاہر نہیں کیا تھا۔ کیلگری پولیس نے ان پر چوری اور فراڈ کے الزامات عائد کیے ہیں، اگرچہ سلمان خان نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ حال ہی میں، امجد باجوہ کی جگہ اروینڈر کھوسا کو بورڈ کا صدر منتخب کیا گیا ہے۔
انتظامی مسائل کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کے مالی حقوق کی پامالی بھی سامنے آئی ہے۔ 2024 کے ٹی 20 ورلڈ کپ سے کھلاڑیوں کو ملنے والی انعامی رقم کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی ہے۔ دستاویزی فلم میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ قومی کھلاڑی جولائی 2025 سے بغیر کسی کنٹریکٹ کے تھے اور پھر اس سال کے ورلڈ کپ سے قبل صرف چار ماہ کے لیے انہیں معمولی ریٹینرز پر رکھا گیا تھا۔
آئی سی سی کا موقف اور منظم جرائم کا خدشہ
آئی سی سی کے انٹیگریٹی یونٹ کے عبوری جنرل منیجر اینڈریو ایپگریو نے ایک بیان میں کہا کہ اے سی یو سی بی سی کے پروگرام سے آگاہ ہے، لیکن وہ اس وقت الزامات کی تفصیلات پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئی سی سی کے ممبران کے گورننس معاملات کو آئینتی طریقہ کار کے مطابق دیکھا جاتا ہے اور اے سی سی کا کام انٹیلیجنس، روک تھام، تعلیم اور تحقیقات کے ذریعے کھیل کی شفافیت کو برقرار رکھنا ہے۔
دستاویزی فلم میں منظم جرائم (Organized Crime) کے روابط کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جہاں ایک سابق کھلاڑی نے دعویٰ کیا کہ اسے دھمکیاں دی گئیں۔ تاہم، اینڈریو ایپگریو نے واضح کیا کہ اس قسم کے الزامات اے سی یو کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں اور یہ مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔
یہ پورا معاملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کرکٹ کینیڈا اس وقت اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے، جہاں کھیل سے زیادہ انتظامیہ کی بدعنوانی اور اندرونی سیاست حاوی نظر آتی ہے۔ اب تمام نظریں آئی سی سی کی تحقیقات پر ہیں کہ آیا یہ کھیل کو دوبارہ شفاف بنا پائے گا یا نہیں۔