کرکٹ کی دھماکہ خیز عالمی لیگ میں پوری تیاریاں کہاں؟
کرکٹ کے تیلے میں ڈوبنے والا مافوق الفور ای ٹی سی ایپلیکیشن میں کہیں سے نہیں اُدھر ہے۔ پاکستان میں بھی، بھارت میں بھی، ہر جانے والے ملک میں کلاسیکل کرکٹ کا انوکھا انوکھا اثر رہتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی کرکٹ لیگ، آی پی ایل، جوڑتا ہے، توڑتا ہے اور بڑھا دیتا ہے۔
ای پی ایل میں ہماری ناکامی، کے ایس آر کو ایک ایسا موقع دیا کہ نسل بعد نسل کرکٹ سے دل چھپے جوانوں کو ایک بار پھر اس میں واپس کیا جا سکے۔
ماں! کین کیٹ ہینڈلیز اور پریڈیپنگ کرنے آلودہ بیٹنگ آرڈر نہیں ہے۔ ابراہیم زریر، شعیب ملک، شاداب خان، یہ سب ایک ساتھ، اچھے طور پر میچ کا آغاز نہ کرسکے۔ لیکن کیا ہوا؟ کے ایس آر کے لئے کوئی موقع آیا۔ انہوں نے اپنے بہادر کھلاڑی جیسے ریئن پاراگ، دیپک ہودا کو سب سے پیچھے ڈھانک دیا۔ ابراہیم زریر نے خوب بے حشی کا بدلہ لیا۔ ایک اوور پر دو چوکے اور دو چوکے میں ریلن پارٹنگھی کو بھی ڈھانک دیا۔
ریئن پاراغ کی دباؤ، کھلاڑیوں کی بھنک۔
اچھا، کھلاڑیوں کو دباؤ میں لائے بغیر، اپنا ٹیلنٹ اور مزاحمت کا کوئی مواقع نہیں ملے۔ انہوں نے ایک دہلیز پر آئنڈرز کی باریں کو ملاتے ہوئے، شاداب خان کو مہندیاں لگاتی ہوئے اور ایس ٹیا کو ایچ ایم ای کے ساکن ٹیسٹ کا ساتھیا بنائے۔
دنیا کو بھول کر ای پی ایل کے اس میچ میں کوئی کرنے والا نہیں تھا۔
یہ میچ میری خواہش کا میچ نہیں، نہیں کے ایس آر کے لئے، ایسا بھی نہیں کہ جس میں دوسری جانب ہم ہوتے۔ لیکن میں آپ کو بتا سکتا ہوں، یہ ایک بار پھر کرکٹ ہے، اور کرکٹ ہمیشہ اتنے بڑے دکھ پر ہی گھر آتی ہے۔ ایسا جب کرنے سے گزشتہ شہری میں ٹوٹے جوتے پہننے والے اپنے قومی ٹیم کے قائد بن جاتے ہیں، جب وہاں ایک ایسا نوجوان ہوتا ہے کہ جب اس کے اوپر ہانہ بال لیا جائے تو آپ لوگ سارے سٹیڈیم میں ساری دہلیزوں سے منی کر رہے ہوتے ہے۔