[CRK]
بابر اعظم کی تباہ کن بیٹنگ: پشاور زلمی کی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز پر تاریخی فتح
پاکستان سپر لیگ کے ایک یادگار مقابلے میں پشاور زلمی نے اپنی جارحانہ بیٹنگ اور منظم بولنگ کے ذریعے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو مکمل طور پر تہہ و بالا کر دیا۔ اس میچ کی سب سے بڑی کہانی بابر اعظم کی وہ شاندار بیٹنگ رہی جس نے نہ صرف زلمی کو ایک پہاڑ جیسا اسکور کرنے میں مدد دی بلکہ کرکٹ کی دنیا میں ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کیا۔
بابر اعظم کی 12ویں ٹی ٹوئنٹی سنچری اور زلمی کا ریکارڈ اسکور
میچ کا آغاز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹاس جیت اور پہلے فیلڈنگ کرنے کے فیصلے سے ہوا، لیکن یہ فیصلہ ثابت ہوا کہ ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ پشاور زلمی نے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 255 رنز کا دیو قامت مجموعہ کھڑا کیا، جو اس ٹورنامنٹ کا اب تک کا سب سے زیادہ اسکور ہے۔
اس اننگز کے اصل ہیرو بابر اعظم رہے جنہوں نے 52 گیندوں پر ناقابل شکست 100 رنز بنائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بابر نے اپنی سنچری اننگز کی آخری گیند پر مکمل کی، جس نے اسٹیڈیم میں موجود شائقین کو جوش سے بھر دیا۔ یہ بابر کی 12ویں ٹی ٹوئنٹی سنچری تھی، جس کے ساتھ ہی وہ کرس گیل جیسے لیجنڈز کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ بابر کی اس اننگز کی خاص بات ان کی رفتار میں تبدیلی تھی۔ اپنی پہلی 40 گیندوں پر انہوں نے نسبتاً احتیاط سے 63 رنز بنائے، لیکن آخری 12 گیندوں پر انہوں نے اپنی رفتار میں بے پناہ اضافہ کیا اور 37 رنز کڑائے، جس سے یہ واضح ہوا کہ وہ صرف کلاس نہیں بلکہ جارحیت بھی جانتے ہیں۔
کُسل مینڈس اور بابر کی خطرناک شراکت
پہلی اننگز کا آغاز انتہائی دھماکے دار رہا۔ محمد حارث نے پہلے ہی اوور میں جہان داد خان کی سخت دھلائی کرتے ہوئے 22 رنز بٹورے، جس نے زلمی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی۔ اس کے بعد میدان میں کُسل مینڈس اور بابر اعظم کی جوڑی آئی، جنہوں نے کراچی کے میدان میں کوئٹہ کے بولرز کو بے بس کر دیا۔
مندیس اور بابر کے درمیان ہونے والی شراکت نہ صرف سائز میں بڑی تھی بلکہ شدت میں بھی بے مثال تھی۔ دونوں بلے بازوں نے مل کر صرف 75 گیندوں میں 135 رنز جمع کیے، جس نے میچ کا پانسہ بالکل زلمی کے حق میں پلٹ دیا۔ کُسل مینڈس نے اپنی فارم برقرار رکھتے ہوئے 44 گیندوں پر 83 رنز بنائے، جس نے بابر اعظم کے لیے اسکور بورڈ کو تیزی سے آگے بڑھانے کا راستہ ہموار کیا۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی بیٹنگ لائن کا انہدام
256 رنز کے ہدف کا تعاقب کرنے اتری کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم شروع سے ہی دباؤ کا شکار نظر آئی۔ سعود شکیل اور رلی روسو جیسے تجربہ کار کھلاڑی بھی زلمی کے بولرز کے سامنے بے بس دکھائی دیے۔ محمد باسط نے ابتدائی وار کیا اور شکیل کے ساتھ ساتھ رلی روسو کو بھی جلد آؤٹ کر دیا، جہاں روسو ایک ‘گولڈن ڈک’ (پہلی گیند پر آؤٹ) کا شکار ہوئے، جو ان کے لیے اس ٹورنامنٹ کا اب تک کا بدترین لمحہ تھا۔
کوئٹہ کی ٹیم جلد ہی 44 رنز پر 4 وکٹوں کے نقصان پر پہنچ گئی، جس نے جیت کی تمام امیدیں ختم کر دیں۔ اگرچہ دنیش چندمل اور بیون جیکبز (جس نے 34 رنز بنائے) نے ایک مختصر شراکت قائم کر کے مجموعی اسکور کو 137 تک پہنچایا، لیکن وہ زلمی کے بولرز کے سامنے زیادہ دیر تک نہیں ٹک سکے۔
علی رضا: ایک ابھرتا ہوا تیز رفتار ستارہ
دوسری اننگز کی سب سے بڑی کہانی 18 سالہ علی رضا رہے، جنہوں نے اپنی بجلی جیسی رفتار سے کوئٹہ کے بلے بازوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ علی رضا کی گیندیں مسلسل 147 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تجاوز کر رہی تھیں، جس کے سامنے کوئٹہ کی بیٹنگ لائن تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی۔ انہوں نے صرف 9 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں، جس نے زلمی کی جیت پر مہر لگا دی۔
پشاور زلمی نے یہ میچ 118 رنز کے بھاری مارجن سے جیت لیا۔ اس فتح نے نہ صرف زلمی کے نیٹ رن ریٹ کو بہتر کیا بلکہ انہیں ٹورنامنٹ کے ٹاپ ٹو (Top 2) میں جگہ بنانے کے لیے ایک مضبوط پوزیشن میں کھڑا کر دیا ہے۔
- پشاور زلمی: 255/3 (بابر 100*، مینڈس 83)
- کوئٹہ گلیڈی ایٹرز: 137 آل آؤٹ (جیکبز 34، رضا 3-9، باسط 3-26)
- نتیجہ: پشاور زلمی 118 رنز سے فاتح