[CRK] متحدہ عرب امارات کی کرکٹ میں تاریخی موڑ: پانچ کھلاڑیوں کو شہریت کی فراہمی

[CRK]

متحدہ عرب امارات کی کرکٹ میں ایک نیا دور: پانچ کھلاڑیوں کو شہریت کی فراہمی

متحدہ عرب امارات (UAE) میں کرکٹ کی ترقی کے سفر میں ایک انتہائی اہم اور تاریخی موڑ آگیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ایک بڑے فیصلے کے تحت پانچ کرکٹرز کو قدرتی شہریت (Naturalisation) فراہم کی ہے، جس کے بعد وہ اب باقاعدہ طور پر یو اے ای کے شہری بن چکے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب کرکٹ کے کھلاڑیوں کو اس طریقے سے شہریت دی گئی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ملک اب اپنی کھیلوں کی پالیسیوں میں کرکٹ کو بھی وہی اہمیت دے رہا ہے جو دیگر عالمی کھیلوں کو حاصل ہے۔شہریت حاصل کرنے والے ان پانچ خوش نصیب کھلاڑیوں میں خوزیمہ تنویر، اجے کمار، اکشدیپ ناتھ، ہرپریت سنگھ بھٹیا اور ادیب عثمانی شامل ہیں۔ یہ تمام کھلاڑی اس وقت متحدہ عرب امارات کے اس 17 رکنی اسکواڈ کا حصہ ہیں جو نیپال میں دو T20 Internationals اور ایک ون ڈے (ODI) ٹرائے سیریز کے لیے موجود ہے۔

شہریت اور آئی سی سی (ICC) کے قواعد: ایک بنیادی فرق

اس فیصلے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس سے پہلے متحدہ عرب امارات کی قومی ٹیم میں کھلاڑی کس طرح شامل ہوتے تھے۔ اب تک، یو اے ای کی ٹیم میں زیادہ تر وہ کھلاڑی شامل ہوتے تھے جو غیر ملکی (Expatriates) تھے اور آئی سی سی (ICC) کے اہلیت کے معیار پر پورا اترتے تھے۔ آئی سی سی کے قوانین کے مطابق، اگر کوئی کھلاڑی کسی ملک میں مسلسل تین سال تک رہائش اختیار کرے، تو وہ اس ملک کی نمائندگی کرنے کا اہل ہو جاتا ہے۔

تاہم، اب شہریت ملنے کے بعد، یہ پانچ کھلاڑی محض ‘اہلیت’ کی بنیاد پر نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات کے پاسپورٹ رکھنے والے باقاعدہ شہریوں کے طور پر میدان میں اتریں گے۔ یہ تبدیلی کھلاڑیوں کو ایک نفسیاتی استحکام اور اپنے ملک کے لیے کھیلنے کا ایک نیا جوش و جذبہ فراہم کرتی ہے۔

کھیلوں کی پالیسی میں تسلسل: فٹ بال اور رگبی کی مثال

اگرچہ کرکٹ میں یہ پہلی بار ہوا ہے، لیکن متحدہ عرب امارات نے 2018 کے صدارتی فرمان کے بعد فٹ بال، رگبی اور جودو جیسے کھیلوں میں بھی اسی طرح کی پالیسی اپنائی تھی۔ ان کھیلوں کے کھلاڑیوں کو ان کی مہارت اور ملک کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں شہریت دی گئی تھی۔ اب کرکٹ کو بھی اس فہرست میں شامل کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ متحدہ عرب امارات عالمی سطح پر اپنی کرکٹ ٹیم کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانا چاہتا ہے۔

کھلاڑیوں کے جذبات اور ردعمل

اس اعزاز پر ردعمل دیتے ہوئے اجے کمار نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ متحدہ عرب امارات آنا اور یہاں کی نمائندگی کرنا ان کا خواب تھا۔ انہوں نے دی نیشنل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

“جس دن میں متحدہ عرب امارات میں اترا تھا، میرا خواب تھا کہ میں بین الاقوامی سطح پر اس ملک کی نمائندگی کروں۔ اب مجھے یہ موقع مل رہا ہے اور اس کے لیے میں یو اے ای، سپورٹ اسٹاف اور ان تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے مقامی اور کلب کرکٹ کھیلنے میں مدد دی۔ مینجمنٹ نے پورے سفر میں میری بھرپور حمایت کی ہے، میں بورڈ اور تمام کرکٹ برادری کا ممنون ہوں۔”

اسی طرح خوزیمہ تنویر نے اس موقع کو اپنی زندگی کا ایک انوکھا احساس قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی ملک آپ پر بھروسہ کرتا ہے اور آپ کو اپنی نمائندگی کا موقع دیتا ہے، تو یہ احساس الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ خوزیمہ نے مزید بتایا:

“میں نے گزشتہ تین سالوں سے یو اے ای کی مقامی کرکٹ کھیلی ہے اور پچھلے دو سیزنز میں ILT20 اور ابوظہبی T10 جیسے بڑے ٹورنامنٹس میں شرکت کی ہے۔ بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا میرے لیے ایک بہترین تجربہ رہا ہے، اور اب امارات کرکٹ بورڈ کی حمایت سے مجھے اپنے ملک کے لیے کھیلنے کا موقع ملا ہے، جس پر میں بہت شکر گزار ہوں۔”

مستقبل کے امکانات اور تجزیہ

اس اقدام کے اثرات دور رس ثابت ہو سکتے ہیں۔ جب کھلاڑیوں کو شہریت ملتی ہے، تو ان کا لگاؤ اور ملک کے لیے کھیلنے کی تڑپ بڑھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ دوسرے باصلاحیت کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ اگر وہ متحدہ عرب امارات کی کرکٹ میں اپنا نام بناتے ہیں، تو حکومت ان کی قدر کرے گی۔

متحدہ عرب امارات پہلے ہی ILT20 اور T10 لیگز کے ذریعے کرکٹ کے عالمی نقشے پر ایک مرکز بن چکا ہے۔ اب قومی ٹیم میں اس طرح کی تبدیلیوں سے امید ہے کہ یو اے ای کی ٹیم عالمی درجہ بندی میں اپنی پوزیشن بہتر کرے گی اور بڑے مقابلوں میں بہتر نتائج دے گی۔

خلاصہ کلام

خوزیمہ تنویر، اجے کمار اور ان کے ساتھیوں کو شہریت ملنا محض ایک قانونی عمل نہیں ہے، بلکہ یہ متحدہ عرب امارات کے اس وژن کا حصہ ہے جس کے تحت وہ کھیلوں کے میدان میں عالمی معیار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان پانچ کھلاڑیوں کی محنت اور امارات کرکٹ بورڈ کی بصیرت نے مل کر ایک ایسا راستہ کھولا ہے جس سے مستقبل میں مزید کھلاڑی یو اے ای کے جھنڈے تلے اپنی صلاحیتیں دکھا سکیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *