[CRK]
لاہور قلندرز کی واپسی: فخر اور فاروق کی بیٹنگ نے راول پنڈز کے خواب چکنا چور کر دیے
پی ایس ایل 2026 کا سفر لاہور قلندرز کے لیے اب تک انتہائی کٹھن اور مایوس کن رہا ہے، لیکن کرکٹ کی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ اعتماد بحال کرنے کے لیے ایک بڑی جیت کافی ہوتی ہے۔ قلندرز نے بالکل یہی کیا جب انہوں نے راول پنڈز کے خلاف ایک یکطرفہ مقابلے میں 32 رنز کی فتح حاصل کی اور اپنی مسلسل تین شکستوں کے سیاہ سلسلے کو ختم کیا۔ اگرچہ یہ مقابلہ پوائنٹس ٹیبل پر ساتویں اور آٹھویں نمبر پر موجود ٹیموں کے درمیان تھا، لیکن جس طرح لاہور قلندرز نے غلبہ حاصل کیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ راول پنڈز اور باقی ٹیموں کے درمیان مہارت کا ایک بڑا فرق موجود ہے۔
پہلی اننگز: فخر زمان کی فارم کی واپسی اور فاروق کا طوفان
ٹاس ہارنے کے بعد لاہور قلندرز نے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، جو کہ اس سیزن کے عمومی رجحانات کے برعکس تھا۔ تاہم، یہ فیصلہ انتہائی سودمند ثابت ہوا۔ اننگز کا آغاز محمد فاروق کی شاندار بیٹنگ سے ہوا، جنہوں نے پاور پلے کے دوران جارحانہ انداز اپنایا۔ فاروق نے اپنی ‘شارٹ آرم جب’ (short-arm jab) کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے فیلڈرز کے سروں کے اوپر سے کئی چوکے اور چھکے لگائے، جس سے قلندرز کو وہ دھماکے دار آغاز ملا جس کی انہیں ضرورت تھی۔
دوسری جانب، فخر زمان جو اس سیزن میں اپنی فارم تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے، نے آہستہ آہستہ میچ میں جگہ بنائی۔ حیرت انگیز طور پر، فخر نے اس سیزن کے پچھلے میچوں میں ایک بھی چھکا نہیں لگایا تھا، اور اس میچ میں بھی انہوں نے صرف ایک چھکا لگایا، لیکن 11 چوکے لگا کر اپنی کلاس دکھائی۔ فخر زمان نے 54 گیندوں پر 84 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور 19ویں اوور تک کریز پر موجود رہے، جس کی بدولت لاہور قلندرز نے 210 رنز کا پہاڑ کھڑا کیا، جو کہ اس سیزن میں ان کا سب سے زیادہ اسکور ہے۔ محمد فاروق نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا اور 63 رنز بنا کر ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچایا۔
راول پنڈز کی بیٹنگ: شاہین کی تباہ کاری اور یسیر کی تنہا جدوجہد
211 رنز کے مشکل ہدف کے تعاقب میں اتری راول پنڈز کی ٹیم شروع سے ہی دباؤ کا شکار نظر آئی۔ محمد رضوان کے ساتھ 20 سالہ نوجوان شاہزیب خان کو اوپننگ کے لیے لایا گیا، لیکن شاہین شاہ آفریدی نے اپنی دوسری ہی اوور میں دونوں بیٹسمینوں کو پویلین بھیج کر میچ کا رخ موڑ دیا۔ دونوں اوپنرز دہرے ہندسوں تک نہیں پہنچ سکے، جو کہ اس سیزن میں راول پنڈز کے لیے ایک مسلسل تباہ کن رجحان رہا ہے۔
تاہم، یسیر خان نے ایک مختصر وقفے کے لیے امیدیں جگائیں۔ انہوں نے پاور پلے کے باقی حصے اور پہلی دس اوورز میں بہترین کاؤنٹر اٹیک کیا اور 29 گیندوں پر 58 رنز بنا کر اپنی ٹیم کو رن ریٹ کے قریب رکھا۔ یسیر کی یہ پرفارمنس ان کی اسی فارم کی یاد دلاتی تھی جو انہوں نے سیزن کے پہلے میچ میں دکھائی تھی جہاں انہوں نے 83 رنز بنائے تھے۔
درمیانی ترتیب کا collapse اور اختتام
یسیر خان کو ساتھ دینے والا کوئی نہ تھا۔ نیوزی لینڈ کے تجربہ کار بلے باز ڈریل مچل نے 15 گیندوں پر صرف 11 رنز بنائے، اور ان کی وکٹ گرنے کے بعد راول پنڈز کی بیٹنگ بکھر گئی۔ اگلی 46 رنز کی جگہ پر 6 وکٹیں گر گئیں، جس میں حارث رؤف (3-43) اور اسامہ میر و سکندر رزا نے تباہ کن بولنگ کی۔
میچ کے آخری لمحات میں سعد مسعود نے 21 گیندوں پر 50 رنز کی تیز ترین اننگز کھیل کر اسکور کو 178 تک پہنچایا، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ قلندرز کے بولرز نے کھیل کی شدت کم کر دی تھی، لیکن جیت ان کے ہاتھ سے نہیں نکلی۔
نتیجہ اور تجزیہ
اس شکست کے بعد راول پنڈز ریاضیاتی طور پر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہے اور وہ اس سیزن کی پہلی ٹیم بن گئی ہے جسے مقابلے سے باہر کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف، لاہور قلندرز نے نہ صرف 6 پوائنٹس حاصل کیے بلکہ اپنی ٹیم کے مورال کو بھی بلند کیا ہے۔
- لاہور قلندرز: 210 رنز برائے 4 وکٹیں (فخر 84، فاروق 63)
- راول پنڈز: 178 رنز برائے 9 وکٹیں (یسیر 58، مسعود 54)
- نتیجہ: لاہور قلندرز 32 رنز سے فاتح