[CRK]
گجرات ٹائٹنز کی تزویراتی جیت: رابڈا اور سراج کا پاور پلے میں غلبہ
گجرات ٹائٹنز (GT) اپنی ٹھوس منصوبہ بندی اور اس پر سختی سے عمل کرنے کے لیے جانی جاتی ہے۔ جمعہ کی رات احمد آباد میں کولکتہ نائٹ رائڈرز (KKR) کے خلاف کھیلے گئے میچ میں یہ بات ایک بار پھر ثابت ہوئی۔ جہاں زیادہ تر ٹیمیں پاور پلے کے دوران اپنے باؤلرز کو تبدیل کرتی رہتی ہیں، وہیں GT نے ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا اور محمد سراج اور کاگیسو رابڈا کو پاور پلے کے تین تین اوورز دینے کا فیصلہ کیا۔
میچ کے بعد پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کاگیسو رابڈا نے بتایا کہ یہ فیصلہ وکٹ کی صورتحال کا گہرا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا تھا۔ رابڈا کے مطابق، بھارت میں وکٹ کی نوعیت تین مختلف منظرناموں پر منحصر ہوتی ہے: کالی مٹی، سرخ مٹی، یا دونوں کا مجموعہ۔ احمد آباد کی وکٹ سرخ مٹی والی تھی، جو کہ بظاہر دیگر سرخ مٹی والی پچوں جیسی تھی لیکن اس کا رویہ تھوڑا مختلف تھا۔
وکٹ کی صورتحال اور رابڈا کا تجزیہ
رابڈا نے وضاحت کی کہ نئی گیند کے ساتھ وکٹ میں نمی موجود تھی اور گیند کی رفتار میں اتار چڑھاؤ (two-paced) تھا۔ اس کے علاوہ، باؤنس بھی غیر ہموار تھی، جس کی وجہ سے بلے باز ہر گیند پر بلا گھمانے کے بجائے اپنے شاٹس کو احتیاط سے کھیلنے پر مجبور ہوئے۔
“پاور پلے میں مجھ اور سراج کو باؤلنگ کرانے کا فیصلہ کیا گیا، اور کسی بھی دن ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ پاور پلے میں پانچ وکٹیں لے لیں، لیکن ہم تین وکٹوں کے ساتھ بھی خوش ہیں،” رابڈا نے اعتماد کے ساتھ کہا۔
اس حکمت عملی کے نتائج واضح تھے؛ پاور پلے کے اختتام تک کولکتہ نائٹ رائڈرز کے تین کھلاڑی صرف 37 رنز پر پویلین لوٹ چکے تھے، جس سے یہ ثابت ہوا کہ GT کا منصوبہ مکمل طور پر کامیاب رہا۔
ایکسٹرا باؤنس: رابڈا کا سب سے بڑا ہتھیار
اس سیزن میں اب تک 10.05 کی اکانومی ریٹ کے ساتھ جدوجہد کرنے والے رابڈا کے لیے یہ میچ ان کی فارم کی واپسی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ انہوں نے 29 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں، جبکہ پہلے چار میچوں میں ان کے نام صرف چار وکٹیں تھیں۔
رابڈا نے اپنی باؤلنگ کی خاصیت پر بات کرتے ہوئے کہا: “ایکسٹرا باؤنس میرے پورے کیریئر میں میرا بہترین ساتھی رہا ہے۔ ہر باؤلر کا انداز مختلف ہوتا ہے؛ کچھ باؤلرز کی گیند پھسلتی (skiddy) ہے اور کچھ کو اضافی باؤنس ملتا ہے۔“
انہوں نے محمد سراج کے ساتھ اپنا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ سراج ایک ‘سکڈی’ باؤلر ہیں، اس لیے جب گیند نیچی رہتی ہے تو سراج زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، ایسی پچیں جہاں باؤنس زیادہ ہو، وہاں رابڈا کی طاقت زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔ رابڈا کے مطابق، احمد آباد کی وکٹ آج بالکل بھی سادہ نہیں تھی بلکہ نمی اور باؤنس نے ان کی باؤلنگ میں مزید مدد کی۔
میچ کا اختتام اور نیٹ رن ریٹ کی بحث
گجرات ٹائٹنز کے باؤلرز نے KKR کو 180 رنز تک محدود رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔ اگرچہ ڈیتھ اوورز کے آغاز میں ایسا لگ رہا تھا کہ KKR 200 کا ہدف عبور کر لے گا، لیکن آخری چار اوورز میں انہوں نے صرف 23 رنز بنائے، جو GT کی بہترین باؤلنگ پلاننگ کا ثبوت تھا۔
دوسری جانب، GT نے ہدف حاصل کرنے میں 19.4 اوورز لیے۔ اس سست رفتار اسکورنگ کی وجہ سے ٹیم کے نیٹ رن ریٹ (NRR) کے حوالے سے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں، کیونکہ ٹورنامنٹ کے آخری مراحل میں NRR بہت اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ تاہم، رابڈا نے اس بارے میں واضح موقف اپنایا:
- جیت پہلی ترجیح: رابڈا کا ماننا ہے کہ سب سے اہم چیز میچ جیتنا ہے، نیٹ رن ریٹ کو ترجیح نہیں دینی چاہیے۔
- ٹیم کی صلاحیت: انہوں نے کہا کہ ٹیم میں اتنی گہرائی اور مہارت موجود ہے کہ وہ تیزی سے رنز بنا سکتے ہیں، خاص طور پر مڈل اوورز میں۔
- باہمی اعتماد: رابڈا نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ جس طرح بلے باز انہیں باؤلنگ نہیں سکھاتے، اسی طرح وہ بلے بازوں کو بیٹنگ نہیں سکھائیں گے، بلکہ ان کے قدرتی کھیل پر بھروسہ کریں گے۔
رابڈا نے یاد دلایا کہ یہ ابھی صرف پانچواں میچ ہے اور نو مزید مقابلے باقی ہیں، جن میں نیٹ رن ریٹ کو بہتر بنانے کے کافی مواقع موجود ہیں۔ ان کے مطابق، یہ سب ‘مومینٹم’ کا کھیل ہے اور ٹیم کو صرف جیت پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔