[CRK]
وولوارڈٹ کا عالمی کرکٹ پر راج
خواتین کی کرکٹ میں ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ون ڈے بیٹنگ رینکنگ میں جنوبی افریقہ کی لورا وولوارڈٹ نے پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ یہ کامیابی انہیں ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں پیش کی گئی ان کی غیر معمولی بیٹنگ کی بدولت ملی ہے، جس نے کرکٹ شائقین کو مسحور کر کے رکھ دیا۔
ورلڈ کپ میں تاریخی کارکردگی
لورا وولوارڈٹ نے ورلڈ کپ کے دوران رنز کے انبار لگا دیے۔ سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف ان کی شاندار 169 رنز کی اننگز ہو یا فائنل میں بھارت کے خلاف لڑتے ہوئے بنائی گئی 101 رنز کی سنچری، وولوارڈٹ نے ہر موقع پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 571 رنز بنا کر انہوں نے ورلڈ کپ کی تاریخ کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس کارکردگی نے انہیں 814 ریٹنگ پوائنٹس تک پہنچا دیا، جو ان کے کیریئر کی بہترین ریٹنگ ہے اور وہ سمرتی مندھانا کے 811 پوائنٹس سے تین پوائنٹس آگے نکل گئی ہیں۔
سمرتی مندھانا کا سفر اور چیلنج
بھارت کی سمرتی مندھانا، جو پورے ٹورنامنٹ کے دوران نمبر ون بیٹر کے طور پر فائز تھیں، ناک آؤٹ مرحلے میں اپنی توقعات کے مطابق کارکردگی نہ دکھا سکیں۔ سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف 24 رنز اور فائنل میں 45 رنز بنانے کے باوجود وہ پہلی پوزیشن برقرار نہ رکھ سکیں، تاہم وہ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی دوسری بیٹر کے طور پر ابھریں۔
دیگر کھلاڑیوں کی پیش قدمی
رینکنگ میں صرف وولوارڈٹ ہی نہیں بلکہ دیگر کھلاڑیوں نے بھی اپنی پوزیشن مستحکم کی ہے۔ ایلیس پیری نے سیمی فائنل میں بھارت کے خلاف 77 رنز کی اننگز کھیل کر ٹاپ ٹین میں ساتویں پوزیشن حاصل کی ہے۔ نیوزی لینڈ کی صوفی ڈیوائن، جنہوں نے ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے، بھی ساتویں نمبر پر مشترکہ طور پر موجود ہیں۔ جمیما روڈریگز، جنہوں نے سیمی فائنل میں ناقابل شکست 127 رنز بنا کر میچ کا پانسہ پلٹا، نو درجے بہتری کے ساتھ دسویں نمبر پر آ گئی ہیں، جبکہ فوبی لچ فیلڈ نے 13 درجے ترقی کے ساتھ 13ویں پوزیشن سنبھال لی ہے۔
باؤلنگ اور آل راؤنڈر رینکنگ میں تبدیلیاں
باؤلنگ کے شعبے میں ماریزان کیپ نے انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں 20 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔ اس شاندار کارکردگی کے ساتھ وہ باؤلرز کی رینکنگ میں دوسرے نمبر پر آ گئی ہیں، اب وہ صرف انگلینڈ کی صوفی ایکلیسٹون سے پیچھے ہیں۔ آل راؤنڈرز کی بات کریں تو ٹورنامنٹ کی بہترین کھلاڑی (Player of the Tournament) دیپتی شرما نے ناک آؤٹ مرحلے میں سات وکٹیں اور 82 رنز کے ساتھ چوتھی پوزیشن حاصل کر لی ہے، جس سے آل راؤنڈر رینکنگ کا مقابلہ مزید دلچسپ ہو گیا ہے۔
مستقبل کے امکانات
لورا وولوارڈٹ کا یہ عروج نہ صرف ان کی ذاتی محنت کا ثمر ہے بلکہ یہ جنوبی افریقہ کی خواتین کرکٹ ٹیم کے لیے بھی ایک خوش آئند بات ہے۔ آنے والے دنوں میں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا مندھانا اپنی کھوئی ہوئی پوزیشن دوبارہ حاصل کر پاتی ہیں یا وولوارڈٹ اس ٹاپ پوزیشن پر مزید عرصہ براجمان رہتی ہیں۔ کرکٹ کے شائقین کے لیے یہ مقابلہ آنے والی سیریز میں مزید جوش و خروش لائے گا۔