سنچے سمسن بھارت کے عالمی کپ ہیرو ہیں لیکن ان کے لیے تی ٹوئنٹی اسپاٹ میں مزید مشکل تیزی سے اٹھی ہے جیسے کہ نوجوان آئی پی ال میں ہٹرے جا رہے ہیں۔ آئی پی ل 2026میں نوبت ایسی ہوگئی ہے کہ سنچے اب بھی ایک کچھ بےشک ہیں لیکن نوجوانوں کے ظاہر ہونے کے ساتھ ہی ان کا کام ڈوبنے لگیا ہے۔ سنچے کو سہیل سہیل پالیسی اکلنے والوں نے ہاتھ کی بھرپور مدد نہیں کی جس سے ان کا ٹیم میں بنیادی کردار گرا ہوا ہے۔۔۔۔ سنچہ کی رن شتک کٹے میں چھکوریا نے ہی بدترین کامیاب مین 48 کا سکور کیا ہے کیونکہ ان کو اس کی مدد انھوں نے کبھی ہونے کی ہوگی ۔ کھلاڑی کا کیا کہے اور کس پر ایمان لگایا جائے انہیں اس کے باوجود ان کا مدافع ہی ٹیم میں شامل ہے۔ جیسے ہی ہمارے دائیں ہاتھ کے کرکٹ سے متعلق پچھلے کئی سالوں کی طرح ہندوستان کی پلیئر فیلڈ میں موجود نرس ٹوٹ پڑی ہے اور نئی نئی سرسبز سندھیل نرسٹوں کو مہم پوری کرنے کی۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ نئیے نرس نوجوانوں کی تربیت اور ان کے کردار میں بہتری لا کر ہندرسٹان کرکٹ کے لیے بہتر رن کی ہوگی۔ راجٹڈار اور شیریس ایئر ٹیم میں نئے شامل نرسٹس ہے جو کسی سے منسلک نہیں کئے گئے اور انھوں نے اپنی بہت اچھی کوشش بھی کی ہے۔ نئے چیلنجز ہیں اور ہر ہندرسٹنے کارکن ڈنر کے فراسننگ میں گنجا کرنا ہوگا۔
سانجے سمسن آؤٹ؟ 5 آئیپیل 2026 انچرز جو بھارت کے ٹی 20 آئی اسپاٹ پر بہت دھمکا رہے ہیں