[CRK]
سری لنکا کی شاندار واپسی: بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ون ڈے میں فتح حاصل کر کے سیریز برابر
راجشاہی ڈویژنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میچ میں سری لنکا کی خواتین ٹیم نے اپنی برتری ثابت کرتے ہوئے بنگلہ دیش کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی۔ اس جیت کے ساتھ ہی تین میچوں کی اس ون ڈے سیریز میں اب دونوں ٹیمیں 1-1 کی बराबरी پر ہیں، جس نے تیسرے اور فیصلہ کن میچ کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
بنگلہ دیش کی بیٹنگ: کپتان جٹی کی تنہا جدوجہد
میچ کے آغاز میں بنگلہ دیش نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم ان کی شروعات انتہائی مایوس کن رہی۔ اوپننگ جوڑی، جویریا فردوس اور شرمین سلطانہ، صرف 4 رنز کے اضافے پر الگ ہو گئی، جس نے بنگلہ دیش کو شروع میں ہی دباؤ میں لا دیا۔ جویریا فردوس 11 گیندوں پر محض 2 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئیں۔
تیسرے نمبر پر آنے والی شرمین اختر سپتا بھی کوئی خاص اضافہ نہ کر سکیں اور صفر پر آؤٹ ہو گئیں۔ اس نازک موڑ پر کپتان نگار سلطانہ جونی میدان میں آئیں اور شرمین سلطانہ کے ساتھ مل کر اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ شرمین سلطانہ نے 39 گیندوں پر 25 رنز بنائے، لیکن ان کی روانگی کے بعد سارا بوجھ کپتان جونی کے کندھوں پر آگیا۔
نگار سلطانہ جونی نے ایک نہایت ذمہ دارانہ اور مزاحمتی اننگز کھیلی۔ انہوں نے گراؤنڈ کے ہر حصے میں بہترین شاٹس کھیلے اور اسکور بورڈ کو متحرک رکھا۔ تاہم، انہیں دیگر بلے بازوں کا وہ ساتھ نہ ملا جس کی ٹیم کو ضرورت تھی۔ شورنا اختر نے 22 گیندوں پر 16 رنز اور رتو مونی نے 18 گیندوں پر 17 رنز بنائے، لیکن کوئی بھی بڑی پارٹنرشپ قائم نہ کر سکا۔
کپتان جونی نے 101 گیندوں پر 58 رنز کی نصف سنچری مکمل کی، لیکن جب وہ 144 رنز کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہوئیں تو بنگلہ دیش کی بیٹنگ کی کمر ٹوٹ گئی۔ آخر میں ناہیدا اختر نے 41 گیندوں پر 20 رنز اور روبیہ خان نے 19 گیندوں پر 15 رنز کا اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کی پوری ٹیم 45.5 اوورز میں 165 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
سری لنکا کی بولنگ کارکردگی
سری لنکا کی جانب سے بولنگ اٹیک نہایت منظم نظر آیا۔ کپتان چامری اتھپتھو نے قیادت کرتے ہوئے 3 اہم وکٹیں حاصل کیں، جس نے بنگلہ دیش کی بیٹنگ لائن کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔ دیگر بولرز کی کارکردگی درج ذیل ہے:
- n
- ملکی مدرا: 2 وکٹیں
- نماشہ میپیگی: 2 وکٹیں
- انوک راناویرا: 2 وکٹیں
- کاویشا دلہاری: 1 وکٹ
ہدف کا تعاقب: سری لنکا کی آرام دہ جیت
166 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے سری لنکا کو بھی ابتدائی جھٹکا لگا جب ہاسینی پیریرا 20 گیندوں پر 5 رنز بنا کر 19 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہو گئیں۔ اس کے بعد چامری اتھپتھو اور ایمیشا دولانی نے شراکت داری قائم کی۔ دولانی 17 گیندوں پر 8 رنز بنا کر 46 کے اسکور پر آؤٹ ہوئیں، لیکن اس وقت تک سری لنکا میچ میں واپس آ چکی تھی۔
اتھپتھو نے اننگز کو مضبوطی سے سنبھالا اور ہرشیٹھا سامراویکراما کے ساتھ مل کر اسکور کو آگے بڑھایا۔ دونوں بلے بازوں نے انتہائی سمجھداری سے بیٹنگ کی اور بنگلہ دیشی بولرز کو کوئی موقع نہ دیا۔ اتھپتھو نصف سنچری کے قریب پہنچ کر 39 گیندوں پر 40 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، لیکن انہوں نے ٹیم کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر دی تھی۔
اتھپتھو کی روانگی کے بعد ہنسما کروناراتنے میدان میں آئیں اور ہرشیٹھا کے ساتھ مل کر فتح کو یقینی بنایا۔ ہنسما نے 64 گیندوں پر 40 رنز بنائے، جبکہ ہرشیٹھا سامراویکراما نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 76 گیندوں پر 50 رنز کی نصف سنچری مکمل کی۔ اگرچہ سری لنکا نے آخر میں چند وکٹیں گنوائیں، لیکن اس وقت تک جیت یقینی ہو چکی تھی اور انہوں نے 70 گیندیں باقی رہتے ہوئے ہدف حاصل کر لیا۔
بنگلہ دیش کی بولنگ میں ناہیدا اختر کا جادو
اگرچہ بنگلہ دیش میچ ہار گیا، لیکن ناہیدا اختر کی بولنگ قابلِ تعریف رہی۔ انہوں نے اپنی بہترین لائن اور لینتھ کے ذریعے سری لنکا کی بیٹنگ لائن کو مشکلات میں ڈالا اور صرف 21 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے علاوہ سلطانہ خاتون اور رتو مونی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
آگے کیا ہوگا؟
اس دلچسپ مقابلے کے بعد اب دونوں ٹیموں کی نظریں تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے پر ہیں، جو 25 اپریل کو راجشاہی میں کھیلا جائے گا۔ یہ میچ طے کرے گا کہ سیریز کس کے نام رہے گی۔ ون ڈے سیریز کے اختتام کے بعد دونوں ٹیمیں سلیکٹ روانہ ہوں گی جہاں ان کے درمیان تین میچوں کی T20I سیریز کھیلی جائے گی۔