[CRK] مارک چیپمین کی دھواں دھار بیٹنگ: نیوزی لینڈ نے ویسٹ انڈیز کو ہرا کر سیریز برابر کر لی

[CRK]

نیوزی لینڈ کی شاندار واپسی: ایک سنسنی خیز مقابلہ

نیوزی لینڈ نے اپنے ہوم سیزن کے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں شکست کے بعد ایک زبردست واپسی کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کو ایک انتہائی سنسنی خیز مقابلے میں 3 رنز سے ہرا دیا۔ ایڈن پارک میں کھیلے گئے اس میچ میں جہاں ایک طرف مارک چیپمین کی جارحانہ بیٹنگ نے تماشائیوں کو حیران کیا، وہی دوسری طرف آخری اوور کے ڈرامے نے میچ کو آخری گیند تک دلچسپ بنائے رکھا۔ اس جیت کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ نے سیریز میں 1-1 کی बराबरी کر لی ہے۔

مارک چیپمین کا طوفان: 28 گیندوں میں 78 رنز

نیوزی لینڈ کی جانب سے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم پر دباؤ تھا کیونکہ پہلے میچ میں بیٹنگ لائن مجموعی طور پر ناکام رہی تھی۔ تاہم، مارک چیپمین نے اس دباؤ کو اپنی طاقت میں بدل دیا۔ چیپمین نے صرف 28 گیندوں پر 78 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی، جس میں چھکوں کی بارش شامل تھی۔

ان کی اس اننگز کی خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے صرف 19 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی، جو ان کے ٹی ٹوئنٹی کیریئر کی تیز ترین ففٹی ہے۔ یہ فارم کی ایک بہترین واپسی تھی کیونکہ اس سیزن کے پچھلے چار میچوں میں وہ صرف 39 رنز بنا پائے تھے۔ چیپمین نے خاص طور پر روماریو شیپرڈ کو نشانہ بنایا اور ایک ہی اوور میں تین چھکے جڑ کر میچ کا رخ بدل دیا۔

اوپننگ میں ڈیون کنوے اور ٹم رابنسن نے 55 رنز کی شراکت قائم کر کے ایک مضبوط بنیاد رکھی۔ رابنسن نے اپنے مخصوص ‘ریمپ شاٹس’ کے ذریعے ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بولرز کو پریشان رکھا۔ اگرچہ نیوزی لینڈ کی ٹیم 59 رنز پر 2 وکٹیں گنوا چکی تھی، لیکن چیپمین کی آمد نے میچ کا نقشہ بدل دیا۔ آخر میں مچل سنتنر نے بھی چھکے لگا کر ٹیم کا مجموعہ 207 رنز تک پہنچایا۔

ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ: آغاز کی ناکامی اور پھر حیران کن واپسی

208 رنز کے بڑے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کی شروعات انتہائی مایوس کن رہی۔ 13ویں اوور تک ویسٹ انڈیز کی ٹیم 93 رنز پر 6 کھلاڑی کھو چکی تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ میچ یکطرفہ ہو چکا ہے۔ اس مرحلے پر نیوزی لینڈ کے اسپنرز ایش سوڈھی اور مچل سنتنر نے تباہ کن کھیل پیش کیا اور دونوں نے مل کر 6 وکٹیں حاصل کیں۔

ایش سوڈھی، جنہوں نے جمی نیشم کی جگہ ٹیم میں شمولیت اختیار کی تھی، نے اپنی اہمیت ثابت کی۔ انہوں نے الک اتھناز اور جیسون ہولڈر سمیت اہم کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ تاہم، جب سب نے سمجھ لیا تھا کہ ویسٹ انڈیز یہ میچ ہار چکا ہے، تو روومین پاول اور روماریو شیپرڈ نے ایک خطرناک شراکت قائم کر لی۔

پاول (45 رنز) اور شیپرڈ (34 رنز) نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کے بولرز میں خوف پیدا کر دیا۔ انہوں نے مسلسل چھکوں کی مدد سے رن ریٹ کو تیزی سے نیچے لایا اور میچ کو آخری اوور تک لے گئے۔

آخری اوور کا ڈرامہ اور کائل جیمیسن کی ہمت

میچ کے آخری اوور میں ویسٹ انڈیز کو جیت کے لیے 16 رنز درکار تھے۔ میتھیو فورڈ نے دو چوکے لگا کر میچ کو ویسٹ انڈیز کے حق میں جھکایا، جس کے بعد صرف 4 گیندوں پر 8 رنز کی ضرورت تھی۔ پورا اسٹیڈیم سنسنی میں تھا، لیکن یہاں کائل جیمیسن نے اپنی اعصاب پر قابو رکھا۔

جیمیسن نے ایک بہترین ‘سلوور بال’ ڈالی جس پر روومین پاول کی شاٹ سیدھی فیلڈر کے ہاتھوں میں گئی اور وہ آؤٹ ہو گئے۔ اس ایک وکٹ نے میچ کا رخ دوبارہ پلٹ دیا۔ آخری گیند پر میتھیو فورڈ صرف ایک رن بنا سکے اور ویسٹ انڈیز یہ مقابلہ محض 3 رنز سے ہار گیا۔

بولنگ تجزیہ: فورڈ کی کامیابی اور دیگر کی ناکامی

ویسٹ انڈیز کی جانب سے میتھیو فورڈ نے متاثر کن کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے ڈیون کنوے کو اسی طرح کی گیند پر آؤٹ کیا جیسا کہ انہوں نے پہلے میچ میں کیا تھا۔ فورڈ نے 4 اوورز میں صرف 17 رنز دیے اور ایک وکٹ حاصل کی۔ تاہم، کپتان شائی ہوپ کی حکمت عملی میں کچھ خامیاں نظر آئیں۔ بائیں ہاتھ کے اسپنر عقیل حسین کو بہت دیر سے بولنگ دی گئی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈیرل مچل اور مارک چیپمین نے ان کے اوور میں 23 رنز بٹور لیے۔

نتیجہ اور مستقبل کی حکمت عملی

نیوزی لینڈ کے لیے یہ جیت ایک بڑی ریلیف ہے، لیکن آخری اوور میں ویسٹ انڈیز کی جارحانہ بیٹنگ نے انہیں خبردار کر دیا ہے کہ وہ اپنی ‘ڈیتھ اوورز’ کی حکمت عملی پر دوبارہ غور کریں۔ دوسری طرف، ویسٹ انڈیز کی پانچ میچوں کی جیت کی لڑی ٹوٹ گئی ہے، لیکن ان کی بیٹنگ گہرائی اب بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔

خلاصہ اسکور:
نیوزی لینڈ: 207/5 (مارک چیپمین 78، ٹم رابنسن 39)
ویسٹ انڈیز: 204/8 (روومین پاول 45، روماریو شیپرڈ 34)
نتیجہ: نیوزی لینڈ 3 رنز سے فاتح۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *