رہیت Sharma کے لیے “میں معافی میں” سابق بھارتی سلیکٹر روہت شرما سے منسلک ہیں۔

ریوٹائر بھارتی کرکٹ اسٹار اور سابق کپتان روہت شرما 38 سال کی عمر میں بیل بے ہدرے ہیں۔ کپتان کے طور پر ان کی کامیابیوں کے باوجود انھوں نے ہمیں یاد دیلتے ہیں کہ وہ 2011 کے عالمی کپ سے محروم رہے۔ یہ تقریبات ہم سے اپنے ہوم گراؤنڈ میں ہیں۔ ۔اے پی ایل 2026 میں ویسٹ انڈیز کی انہوں نے فتح حاصل کی۔ سر کرش سیونگ کا ایک دلچسپ جملہ ہے جو ان کے لیے ہے۔ میڈیا کے دورے کے دوران ان کے ساتھ ہم گفتگو کرتے ہیں۔ سیونگ کو وہ شخص سمجھا جاتا ہے جو ریوار ہو سکتا ہے جو ہم اپنے گھر پر ہیں۔ ۔ ایک سال پہلے، انھوں نے روہت کی باتیں بتا کر کہ روہت شرما، میں تجھ سے معافی مانگتی ہوں۔ یہ مقصد بلا وجہ نہیں تھا، لیکن یہ ہی جو ہوتا ہے کہ ہم نے وہ تمام ہاف الاراؤंडرز کو منتخب کیا۔ ہمیں لگا کہ ہم ہماری سوچ کو ہمیشہ اسی طرح رکھیں گے جو 1983 کے عالمی کپ میں تھی۔ آخری دن کس کا اعزاز تھا؟ یوفری سنگھ کا اعزاز ہے، وہ کبھی بھی کھاتا، گیند کھڑکایا۔ “ہمارے خیالات جو 20 سال قبل تھے، ہم نے ہاف الاراؤڈرز کو بھرتی کے لئے ہام رکھے۔ ان کے پاس یوسف پٹھان کیو ہیں گیند ڈالیا کرتے تھے اور یؤ ہیں سچ نہ کے سچ ہے۔” ان کا یہ حوالہ ایسا ہے کیونکہ روہت شرما جو 1983 کے اسکورر کے طور پر رکھتا تھا، وہ سیزن میں صرف ایک ہی سیزن میں کھیلا۔ اسی طرح اسی طرح انفرادی طور پر رویت کے ساتھ یہ لئے۔ ، وہ ہمیشہ ایسے ہی رہے، تاکہ یوفری سنگھ ان کے ساتھ جو کچھ کہہ رہے تھے وہ ہمیشہ ان کی ہی نہیں رہیں۔ “،ہمراے ان کا کہنا تھا «روہت بہت اچھے کھلاڑیوں میں سے تھے۔ہم اس نئے سال میں انھیں وہ جگہ نہیں دی جا سکنا۔ انھیں ڈھونڈوں اور اس کے لیے میٹرک بھی کرسکتے ہیں»۔ کپتان۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *