[CRK]
مچل سٹارک کی واپسی: دہلی کیپیٹلز کے لیے خوشخبری
آسٹریلیا کے ممتاز فاسٹ بولر مچل سٹارک کے مداحوں کے لیے بڑی خوشخبری ہے کہ وہ کندھے اور کہنی کی انجری سے نجات پانے کے بعد آئی پی ایل 2026 میں شرکت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ 36 سالہ سٹارک طویل انتظار کے بعد بھارت روانہ ہونے کے لیے تیار ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ یکم مئی کو راجستھان رائلز کے خلاف دہلی کیپیٹلز کے اہم میچ کے لیے دستیاب ہوں گے۔
انجری کی تفصیلات اور طویل وقفہ
مچل سٹارک نے جنوری کے آخر سے کوئی کرکٹ نہیں کھیلی ہے۔ ایشز سیریز کے دوران ان کا ورک لوڈ ناقابل یقین حد تک زیادہ تھا، جہاں انہوں نے پانچ ٹیسٹ میچوں میں 153.1 اوورز کرائے اور 19.93 کی اوسط سے 31 وکٹیں حاصل کر کے ‘پلیئر آف دی سیریز’ کا اعزاز اپنے نام کیا۔ تاہم، سڈنی سکسرز کے لیے بگ بیش لیگ (BBL) کھیلتے ہوئے پرتھ سکارچرز کے خلاف ایک میچ میں کیچ پکڑنے کی کوشش میں وہ بری طرح زمین پر گرے، جس سے ان کا بائیں کندھا اور کہنی شدید متاثر ہوئی۔
فروری میں آرام کے بعد جب انہوں نے دوبارہ بولنگ کا آغاز کیا تو انہیں تکلیف کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے ان کی آئی پی ایل میں شمولیت میں تاخیر ہوئی۔ اس دوران میڈیا پر ان کی غیر موجودگی کے حوالے سے چہ مگوئیاں ہوتی رہیں جس پر سٹارک نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر وضاحت دیتے ہوئے ‘غلط اطلاعات’ پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔
آئی پی ایل میں واپسی کی حکمت عملی
سڈنی میں اپنی فٹنس پر کام کرتے ہوئے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سٹارک نے بغیر کسی تکلیف کے بولنگ کا سیشن مکمل کیا ہے۔ وہ جمعہ کو بھارت کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق انہیں بھارت کی گرم اور مرطوب آب و ہوا میں خود کو ڈھالنے اور بولنگ کی شدت بڑھانے کے لیے وقت درکار ہوگا۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو وہ یکم مئی کو جے پور میں راجستھان رائلز کے خلاف میدان میں اتر سکیں گے اور باقی آئی پی ایل سیزن میں دہلی کیپیٹلز کے پیس اٹیک کی قیادت کریں گے۔
پیٹ کمنز کی بھی واپسی
یہ خبر نہ صرف دہلی کیپیٹلز کے لیے بلکہ آسٹریلوی کرکٹ کے مجموعی منظرنامے کے لیے حوصلہ افزا ہے۔ اسی ہفتے آسٹریلیا کے ٹیسٹ اور ون ڈے کپتان پیٹ کمنز بھی سن رائزرز حیدرآباد کی جانب سے اپنے پہلے میچ کے لیے تیار ہیں۔ کمنز دسمبر کے وسط سے کمر کی تکلیف کے باعث کرکٹ سے دور تھے۔
کرکٹ آسٹریلیا کا مستقبل کا لائحہ عمل
مچل سٹارک، پیٹ کمنز اور جوش ہیزل ووڈ جیسے اہم کھلاڑیوں کی مکمل فٹنس کرکٹ آسٹریلیا کے لیے ایک بڑی ریلیف ہے۔ آسٹریلیا کے اگلے 18 ماہ انتہائی مصروف ہیں، جس میں اگست 2026 سے اگست 2027 کے درمیان 20 سے 21 ٹیسٹ میچز کھیلے جانے ہیں، جس کا حتمی ہدف اکتوبر-نومبر 2027 میں ہونے والا ون ڈے ورلڈ کپ ہے۔ ان اہم فاسٹ بولرز کی صحت کا خیال رکھنا آسٹریلیا کے لیے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ اور ورلڈ کپ کی مہم میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔
مداح اب شدت سے منتظر ہیں کہ آیا سٹارک اپنی واپسی پر آئی پی ایل کی پچوں پر اپنی پرانی فارم بحال رکھ پائیں گے یا نہیں۔ دہلی کیپیٹلز کا مینجمنٹ یقیناً ان کی واپسی کو ٹورنامنٹ میں اپنے پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم موڑ سمجھ رہا ہے۔