[CRK]
ایڈ سمتھ کی ECB بورڈ میں واپسی: انگلش کرکٹ کے لیے ایک نئی حکمت عملی کا آغاز
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) نے ایک اہم انتظامی فیصلہ کرتے ہوئے سابق نیشنل سلیکٹر ایڈ سمتھ کو بورڈ میں بطور نان ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کیا ہے۔ ایڈ سمتھ، جو کرکٹ کی گہری سمجھ اور انتظامی تجربے کے حامل ہیں، ایک بار پھر انگلش کرکٹ کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کریں گے۔
تقرری کی تفصیلات اور ٹائم لائن
ایڈ سمتھ کی یہ نئی ذمہ داری یکم اکتوبر سے شروع ہوگی۔ اس وقت تک وہ میریل بون کرکٹ کلب (MCC) کے صدر کے طور پر اپنی ایک سالہ مدت مکمل کریں گے۔ 48 سالہ ایڈ سمتھ کا کرکٹ کے ساتھ تعلق محض انتظامیہ تک محدود نہیں رہا، بلکہ وہ ایک تجربہ کار کھلاڑی بھی رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران مڈلسیکس اور کینٹ کے لیے نمائندگی کی اور 2003 میں انگلینڈ کی جانب سے تین ٹیسٹ میچز بھی کھیلے۔
سابقہ خدمات اور کامیابیاں
ایڈ سمتھ کا ECB کے ساتھ تعلق پرانا ہے، خاص طور پر ان کی بطور نیشنل سلیکٹر خدمات (2018 سے 2021 تک) انتہائی قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی نگرانی میں انگلینڈ نے کرکٹ کی تاریخ میں ایک بڑا سنگ میل عبور کیا جب 2019 میں انگلینڈ نے ون ڈے ورلڈ کپ جیت کر دنیا کو اپنی برتری ثابت کی۔
ورلڈ کپ کی جیت کے علاوہ، ایڈ سمتھ نے کھلاڑیوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے حوالے سے ایک انقلابی قدم اٹھایا۔ انہوں نے کورونا وبا کے مشکل دور میں ‘ریسٹ اینڈ روٹیشن’ (Rest-and-Rotation) پالیسی نافذ کی، جس کا مقصد کھلاڑیوں کی صحت کو برقرار رکھنا اور انہیں ذہنی دباؤ سے بچانا تھا۔ اس پالیسی نے انگلش کرکٹ میں کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے ایک نیا معیار قائم کیا۔
نئی ذمہ داریاں اور بورڈ کا مقصد
ECB کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ایڈ سمتھ کا بطور نان ایگزیکٹو ڈائریکٹر کردار انتہائی اہم ہوگا۔ ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں درج ذیل امور شامل ہوں گے:
- حکمت عملی کی نگرانی: کھیل کے تمام پہلوؤں، بشمول پرفارمنس کرکٹ، کی طویل مدتی حکمت عملی کا جائزہ لینا اور اس میں بہتری لانا۔
- گورننس اور شفافیت: بورڈ کے نظم و نسق (Governance) کو مزید مضبوط بنانا تاکہ کھیل کے انتظام میں شفافیت آ سکے۔
- تنقیدی جائزہ: بورڈ کے فیصلوں پر تنقیدی نظر رکھنا اور جہاں ضرورت ہو وہاں چیلنج کرنا تاکہ بہترین نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
ایک مشکل دور میں واپسی
ایڈ سمتھ کی یہ تقرری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب انگلینڈ کی ٹیم مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ گزشتہ موسمِ سرما میں Ashes سیریز میں 4-1 کی شکست نے انگلش کرکٹ کے مداحوں کو مایوس کیا تھا۔ اس کے علاوہ، ٹیم کے نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ رویے پر بھی سوالات اٹھائے گئے، خاص طور پر اکتوبر میں ویلنگٹن کے ایک نائٹ کلب کے باہر ہری بروک کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے کافی بحث چھیڑ دی۔ ایسے میں ایڈ سمتھ جیسے تجربہ کار شخص کی واپسی کو ٹیم میں نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ مہارت کی بحالی کے لیے ایک مثبت قدم دیکھا جا رہا ہے۔
اہم شخصیات کے تاثرات
اپنی تقرری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایڈ سمتھ نے کہا:
“میں ECB بورڈ میں شامل ہونے پر بے حد خوش ہوں۔ سابقہ نیشنل سلیکٹر کے طور پر میں پہلے بھی انگلینڈ مینز سیٹ اپ کا حصہ رہا ہوں، اور اب نان ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر دوبارہ اپنا حصہ ڈالنے پر مجھے فخر ہے۔ یہ وقت انگلینڈ کی مردوں اور خواتین دونوں ٹیموں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اور میں رچرڈ تھامپسن اور بورڈ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں۔”
ECB کے چیئرمین رچرڈ تھامپسن نے ایڈ سمتھ کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا:
“ایڈ کے پاس گہری سوچ اور مقامی و بین الاقوامی کرکٹ کا وسیع تجربہ ہے۔ کرکٹ کے پس منظر کے ساتھ ساتھ ان کی اسٹریٹجک سوچ اور آزادانہ رائے ہماری بورڈ کی گفتگو میں حقیقی قدر کا اضافہ کرے گی۔”
تبدیلی اور مستقبل کے اہداف
ایڈ سمتھ، بیرونی ڈائریکٹر کے طور پر بیرونی بارنس زاہدہ منظور کی جگہ لیں گے، جنہوں نے اپنی تین سالہ مدت مکمل کر لی ہے۔ رچرڈ تھامپسن نے بارنس منظور کی خدمات اور ان کی گہری لگن پر بورڈ کی جانب سے شکریہ ادا کیا۔
انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے لیے آنے والا وقت انتہائی مصروف ہے۔ خواتین کی ٹیم 10 مئی کو نیوزی لینڈ کے خلاف وائٹ بال سیریز سے اپنے بین الاقوامی سیزن کا آغاز کرے گی، جبکہ مردوں کی ٹیم 4 جون کو لارڈز کے میدان میں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں اترے گی۔ اب تمام نظریں اس بات پر ہوں گی کہ ایڈ سمتھ کی انتظامی بصیرت ان ٹیموں کی کارکردگی پر کیا اثر ڈالتی ہے۔