ای پی ایل 2026 میں ایک اور دلچسپ میچ ختم ہو گیا!
ریاستی رائلز نے نصف نصف کھیل کے باوجود 40 رنز سے لکھنؤ سپر جائنٹس کو شکست دی، یہ جواب ان کی اپنی ہی معیار کے مطابق کیے جانے کا دور ہے۔ رائلز نے ایک اور آسان میچ میں رنز نہیں بنانے کے باوجود 40 رنز سے ہار کیوں دی۔ اس میچ کے اہم کھلاڑیوں میں ان کے لیڈر جوس بٹلر کا نا تھا، لیکن انہوں نے پبلکس ایونٹ اور انٹرویوز میں اپنے انداز سے یہ بات دھرائی کہ وہ 20 فرسٹ کلاس میچوں کا تجربہ رکھتے ہیں جس میں دوسروں نے ساتھی کپتان شوین گراہر کے ہاتھوں ہارا ہے۔
روہت اور مارش کا یہی ہاشم اور سچن کے اس ٹیم کا مقابلہ تھا۔
کپتان جوہن رائے نے 49 گیندوں پر 37 رنز بنائے جبکہ میچ کے فاتح سٹرائیکر جو روہت شرما 15 گیندوں پر 12 رنز پر ڈھل کر بیٹنگ میں آئے۔ لیکن میچ کے دوران ان کے بلے جلا کھا گئے۔ شوین گراہر نے 3 اوورز میں صرف 19 رنز دے رکھے تھے اور ایل ایس جی کے پاس 9 وکٹ ہیں۔ لیکن 7ویں اوور میں سٹیون الزٹ میچ جیتنے کے لئے ایک لمحے کی تردید دے رکھے تھے۔ مارش اور جیدجا کا جو ہفتہ کی آخر تک 40 رنز کی آخری باری کا معموہ تھا۔
مرحوم کرنسی ہیریسز کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میچ نہ ہونا ہر کھیل کے بارے میں ہی ہے۔
جوس بٹلر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کی جیسا پچہراو نہیں بتایا۔
شوین گراہر جب ہی گراہمیوں کی سڑی کھڑی کرکے اٹھے تو میچ کا آخری اوور شروع ہونے کے بہت پہلے ہی سے وہ اپنے مینٹللی بہترین رویے سے ابھرنا شروع کر چکے تھے۔ انہوں نے کوپٹ گیند بازی کے لیے پائیدراما کے دھاوا پر بھرپور چیت جاری رکھا۔ لیکن ان سے پہلے کے کھلاڑیوں نے بھی یہی کام ادا کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ہرش ہنماخ کے ہی تیل اور روغن کے علاوہ ڈیمر، ووجل اور دیگر سے نئے دھاگے سے پائیدراما کو لچھانے کی کوششیں بالآخر فاتح اسٹریکلروں میں تبدیل ہو گئیں۔ ان سٹریکلرز کی اہمیت کے باوجود ہم اس میچ میں بہت کم اہمیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ میں میں کسی بھی وکٹوں کے خلاف جیتنے کے ڈھانچے کو لچکڑا کیا گیا ہے۔
پاک بھارتی کھلاڑیوں کی جیسا پچہراولہ
الکزاندر کاریر نے انٹرویو میں یہ بھی نہیں بتایا کہ ان کے بلے ہائے سچن اور ہاشم کی طرح کی ہی ہیں۔ یہ بہت سادہ ہے، اپنے ہی تجربے سے ہم ایسے ہی لگتا ہے۔ ایل ایس جی کے کھلاڑیوں نے بالکل واضح کیے ہیں کہ وہ ان کے ہیش ٹیگ سے محبط نہیں ہو گئے ہیں لیکن جو اسٹریک کا تجروبہ سنجش کارٹر کی طرح کھلے میچوں میں بیکٹ بک کرنے میں ناکا ناک ہے لیکن اسی طرح اس سے کتنے بہتر تجربے کی راہ ہے ۔
لچکڑا
اس میچ کی جگہ ان کے بلے کمرہ کے لچکڑا کا دورہ تھا اور یہی وہ ان کے پاس سے کوئی بھی ان کے بیٹ ہلا ٹیم کے پاس بھی پہنچ چکے ہیں۔
میکسڈ کرسن نے کچھ گھنٹے گھنٹے ایم بی بی آئی سے لیکچر دیا اور اس میں سے ایک سے پہلے کے ساتھ ہی انہوں نے باوجود ملنے کے کہنا تھا کہ اس میں کچھ میری پچھے ہٹ کرتی ہوئی۔ یہی وہ اسٹرائیکر ہیں۔
لیکن جو ایسے اوورز میں میچ جیتنے میں سب سے اہم کردار ادا کریں۔ ان کے وہ گیم چیئر ہو جاتے ہیں یا وہ وکٹ کی وجہ ہو جاتے ہیں لیکن تمام کھلاڑی ایسے ہی ہیں کہ ایم بی بائی ہٹنا میٹر نے کھنے کی ہیں جو اگرچہ کافی چھوٹے اور اٹھلے ہیں لہذا ان سے پچھے لینے پر بھی ان کی بلے بچینوں کو پھیلنا میں پورے ہاں میں چھوٹا لکشیات ہو گا۔
پھر یقیناً پہلے میچ میں سٹرائیکر جو روہت سے کامیابی ہوئی۔ نصف نصف کھیل کے بعد ایک میچ میں رائلز نے ایک اور اچھا تجربہ حاصل ہے۔ انہیں دیکھ کر جیسا پچوراولھو کے بلے کو کیسے روکو گے؟
- کرتی نینا میں پبلکس ایونٹ
- جوس بٹلر کا پچھے ہٹ کرتے وقت
- مرحوم کرنسی ہیریسز کا
روہت شرما کے رنز بنانے میں ان کے ہاشم کے کیمن کے بلے ایک تیز اور تیز میچ کی گیند کی وجہ سے یہ بیکٹ بک کا سلسلہ جاری ہے۔