[CRK] ایشیز سیریز 2024: مارکس ٹریسکوتھک کا انگلینڈ کی محدود تیاریوں کا دفاع

[CRK]

جدید کرکٹ اور تیاریوں کا نیا انداز

ایشیز سیریز جیسے بڑے مقابلوں کے لیے ٹیموں کی تیاری ہمیشہ سے ہی بحث کا موضوع رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کو ان کی محدود پریکٹس کے حوالے سے سابق کھلاڑیوں اور ماہرین کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ پرتھ کے لیلک ہل (Lilac Hill) میں شیروں (Lions) کے خلاف تین روزہ وارم اپ میچ سے قبل، انگلینڈ کے اسسٹنٹ کوچ مارکس ٹریسکوتھک نے ان تحفظات کو مسترد کر دیا ہے۔

مارکس ٹریسکوتھک کا موقف

مارکس ٹریسکوتھک کا ماننا ہے کہ کرکٹ کا کیلنڈر اتنا مصروف ہو چکا ہے کہ اب پرانے وقتوں کی طرح دو یا تین فرسٹ کلاس میچز کھیلنے کی گنجائش نہیں رہی۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ‘یہ جدید کرکٹ کا طریقہ کار ہے۔ آج کل دنیا بھر میں سیریز اسی طرح کھیلی جا رہی ہیں۔ کھلاڑیوں پر کام کا بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ آپ کو دستیاب سہولیات اور محدود میچز کے ساتھ ہی آگے بڑھنا پڑتا ہے۔’

برینڈن میک کولم اور بین اسٹوکس کا فلسفہ

جب سے برینڈن میک کولم اور بین اسٹوکس نے ٹیم کی کمان سنبھالی ہے، انگلینڈ نے روایتی وارم اپ میچز کے بجائے ٹریننگ کیمپس اور انٹرا اسکواڈ میچز کو ترجیح دی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حکمت عملی کے باوجود انگلینڈ نے گزشتہ پانچ بیرونِ ملک دوروں کے پہلے ٹیسٹ میچوں میں کامیابی حاصل کی ہے، جن میں بھارت، پاکستان اور نیوزی لینڈ جیسے مشکل مقامات بھی شامل ہیں۔

تنقید اور جواب

مائیکل وان جیسے سابق کھلاڑیوں نے اس بات پر سوال اٹھایا ہے کہ کیا کلب گراؤنڈ پر پریکٹس کرنا آپٹپس اسٹیڈیم کی تیز پچوں کے لیے موزوں ہے؟ تاہم ٹریسکوتھک نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم اپنی تیاریوں سے ‘بہت خوش’ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے نیٹ سیشنز کے ساتھ ساتھ آپٹپس اسٹیڈیم میں بھی تین دن کی پریکٹس کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ کھلاڑی پچ کی نوعیت سے ہم آہنگ ہو سکیں۔

کھلاڑیوں کا نقطہ نظر

اوپننگ بلے باز بین ڈکٹ نے بھی تیاریوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گیم ٹائم کی کمی محسوس نہیں ہو رہی۔ ڈکٹ نے کہا: ‘ہم مسلسل کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ نیٹ پر جوفرا آرچر اور مارک وڈ جیسے تیز گیند بازوں کا سامنا کرنا کسی بھی وارم اپ میچ سے بہتر تیاری ہے۔’

کیا یہ تکبر ہے؟

دوسری جانب، ایان بوتھم جیسے سابق لیجنڈز کا ماننا ہے کہ ایسی محدود تیاری ‘تکبر’ کے زمرے میں آتی ہے۔ آسٹریلیا کی ٹیم اس کے برعکس شیفیلڈ شیلڈ کے میچز کھیل کر مکمل پریکٹس کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔ یہ موازنہ اب ایشیز سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ کی کارکردگی پر منحصر ہوگا کہ آیا ان کی ‘جدید حکمت عملی’ کامیاب ہوتی ہے یا پرانے روایتی طریقے ہی اب بھی بہتر ثابت ہوتے ہیں۔

آئندہ جمعہ کو آپٹپس اسٹیڈیم میں شروع ہونے والا پہلا ٹیسٹ نہ صرف دونوں ٹیموں کے لیے اہم ہے بلکہ یہ جدید دور کی کرکٹ تیاریوں کے اس بحث کا حتمی فیصلہ بھی کرے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *