[CRK]
بنگلہ دیش بمقابلہ آئرلینڈ ٹیسٹ سیریز: محمود الحسن جوئے کی واپسی اور ایک نئے عزم کا آغاز
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) نے آئرلینڈ کے خلاف سلہٹ اور ڈھاکہ میں کھیلے جانے والے دو ٹیسٹ میچوں کے لیے اپنے قومی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سیریز کی سب سے بڑی خبر ٹاپ آرڈر بلے باز محمود الحسن جوئے کی ٹیم میں واپسی ہے، جن سے شائقین کو بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔ یہ سیریز نہ صرف بنگلہ دیش کے لیے اپنی فارم کو بہتر بنانے کا موقع ہے بلکہ کچھ کھلاڑیوں کے لیے اپنے کیریئر کے نئے ریکارڈز قائم کرنے کا بھی موقع ہے۔
محمود الحسن جوئے: ایک امید افزا واپسی
محمود الحسن جوئے، جنہوں نے اب تک 18 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں، کو بنگلہ دیش کرکٹ کا ایک انتہائی باصلاحیت کھلاڑی سمجھا جاتا ہے۔ ان کی شہرت اس وقت عروج پر پہنچی جب انہوں نے 2022 میں جنوبی افریقہ کی سرزمین پر بنگلہ دیش کی جانب سے پہلی ٹیسٹ سنچری اسکور کی تھی۔ تاہم، 2024 کے آغاز سے اب تک کے سات ٹیسٹ میچوں میں ان کی کارکردگی مایوس کن رہی، جہاں ان کی اوسط صرف 14.92 رہی، جس کی وجہ سے انہیں ٹیم سے باہر ہونا پڑا۔
لیکن کرکٹ کی خوبصورتی یہی ہے کہ محنت سے واپسی ممکن ہے۔ نیشنل کرکٹ لیگ (NCL) کے نئے سیزن میں جوئے نے اپنی فارم دوبارہ حاصل کی اور چٹگራም ڈویژن کی نمائندگی کرتے ہوئے راجشاہ ڈویژن کے خلاف 127 اور 51 رنز بنا کر سلیکٹرز کو متاثر کیا۔ ان کی اسی شاندار فارم نے انہیں دوبارہ قومی ٹیم میں جگہ دلائی ہے، اور اب تمام نظریں اس بات پر ہوں گی کہ کیا وہ انٹرنیشنل لیول پر اپنی سابقہ جھلک دوبارہ دکھا پاتے ہیں یا نہیں۔
کپتانی میں تسلسل اور اسکواڈ میں تبدیلیاں
ٹیم کی قیادت ایک بار پھر نجمول حسین شانتو کریں گے۔ واضح رہے کہ شانتو نے جون میں سری لنکا کے خلاف سیریز (جو بنگلہ دیش 0-1 سے ہار گیا تھا) کے بعد کپتانی چھوڑ دی تھی، لیکن بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے انہیں دوبارہ کپتان مقرر کیا ہے۔ BCB نے واضح کیا ہے کہ شانتو 2027 کے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل کے اختتام تک ٹیم کی قیادت سنبھالیں گے۔ یہ فیصلہ ٹیم میں استحکام لانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، سری لنکا کے دورے کا حصہ رہنے والے کھلاڑیوں، انمول حق، ماہیدل اسلام انکون اور نعیم حسن کو اس سیریز کے اسکواڈ سے باہر رکھا گیا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ سلیکٹرز اب نئے تجربات اور فارم پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
مشفیقور رحیم: 100 ٹیسٹ میچوں کا تاریخی سنگ میل
اس سیریز کا ایک اور بڑا आकर्षण تجربہ کار وکٹ کیپر بلے باز مشفیقور رحیم ہوں گے۔ اگر مشفیقور آئرلینڈ کے خلاف دونوں میچز کھیلتے ہیں، تو وہ 100 ٹیسٹ میچ کھیلنے والے پہلے بنگلہ دیشی کرکٹر بن جائیں گے۔ 38 سالہ مشفیقور نے 2005 میں اپنا ڈیبیو کیا تھا اور وہ نہ صرف بنگلہ دیش کے سب سے زیادہ میچ کھیلنے والے کھلاڑی ہیں بلکہ اس فارمیٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔
مشفیقور اس وقت بہترین فارم میں ہیں، جس کا ثبوت سلہٹ ڈویژن کے لیے ان کی 115 رنز کی اننگز ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی ٹیسٹ میچ اسی گراؤنڈ پر کھیلا جائے گا جہاں انہوں نے یہ رنز بنائے تھے۔
بولنگ اٹیک: رفتار اور اسپن کا امتزاج
بنگلہ دیش نے اپنی بولنگ لائن اپ میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ٹیم میں چار فاسٹ بولرز شامل کیے گئے ہیں جن میں عبادت حسین، ناہید رانا، حسن محمود اور خالد احمد شامل ہیں۔ یہ فاسٹ بولرز تین اسپنرز، مہیدی حسن মিراز، تائیجل اسلام اور حسن مراد کا ساتھ دیں گے۔
حسن مراد ابھی اپنے ٹیسٹ ڈیبیو کے منتظر ہیں، لیکن اکتوبر میں NCL میں چٹگራም کے لیے ان کی 135 رنز کے عوض 9 وکٹوں کی شاندار کارکردگی نے انہیں ٹیم میں جگہ دلائی ہے۔ دوسری طرف، تائیجل اسلام ایک اور بڑے ریکارڈ کے قریب ہیں؛ وہ شکیب الحسن کو پیچھے چھوڑ کر ٹیسٹ کرکٹ میں بنگلہ دیش کے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے بولر بننے کے لیے صرف 10 وکٹوں سے دور ہیں۔
سیریز کا شیڈول اور اہم معلومات
آئرلینڈ کے خلاف یہ دونوں ٹیسٹ میچ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کا حصہ نہیں ہیں، لیکن بنگلہ دیش کے لیے اپنی ٹیم کی تیاریوں کو جانچنے کا بہترین موقع ہیں۔ سیریز کا شیڈول درج ذیل ہے:
- پہلا ٹیسٹ: 11 سے 15 نومبر، سلہٹ
- دوسرا ٹیسٹ: 19 سے 23 نومبر، ڈھاکہ
بنگلہ دیش کا مکمل ٹیسٹ اسکواڈ
نجمول حسین شانتو (کپتان)، شدمان اسلام، محمود الحسن جوئے، مومینول حق، مشفیقور رحیم، لٹن داس، جاکر علی، مہیدی حسن میراز، تائیجل اسلام، خالد احمد، حسن محمود، ناہید رانا، عبادت حسین چوہدری، حسن مراد۔