[CRK] بنگلہ دیش بمقابلہ نیوزی لینڈ: شانتو کی سنچری اور مستفیض کی پانچ وکٹیں، بنگلہ دیش نے سیریز جیت لی

[CRK]

بنگلہ دیش کی شاندار فتح اور سیریز پر قبضہ

بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم نے ایک بار پھر اپنی ہوم کنڈیشنز میں اپنی برتری ثابت کر دی ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گئے تیسرے اور آخری ون ڈے میچ میں بنگلہ دیش نے مہمان ٹیم کو 55 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز 2-1 سے اپنے نام کر لی۔ یہ جیت نہ صرف بنگلہ دیش کے حوصلوں کو بلند کرے گی بلکہ ٹیم کی حالیہ کارکردگی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ بیر شریستھا شہید فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمن کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں بنگلہ دیش نے کھیل کے ہر شعبے میں نیوزی لینڈ کو پیچھے چھوڑ دیا۔

ٹاس اور اننگز کا مایوس کن آغاز

نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جو ابتدا میں درست ثابت ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ بنگلہ دیش کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا۔ اوپنر سیف حسن میچ کے پہلے ہی اوور میں بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔ ان کے فوراً بعد تنزید حسن تمیم بھی محض 1 رن بنا کر آؤٹ ہو گئے، جس سے ٹیم کا مجموعی اسکور صرف 9 رنز پر 2 کھلاڑی آؤٹ ہو گیا۔ اس نازک صورتحال میں بنگلہ دیشی مداحوں کے چہروں پر تشویش کے آثار نمایاں تھے، لیکن کریز پر موجود بلے بازوں نے ہمت نہ ہاری۔

نجم الحسن شانتو اور لیٹن داس کی مزاحمت

جب ٹیم مشکلات کا شکار تھی، تو نجم الحسن شانتو اور سومیہ سرکار نے اننگز کو سنبھالا۔ دونوں نے سمجھداری سے بیٹنگ کرتے ہوئے اسکور بورڈ کو آگے بڑھایا۔ سومیہ سرکار نے 28 گیندوں پر 18 رنز بنائے، لیکن وہ اپنی اننگز کو طویل نہ کر سکے۔ ان کے جانے کے بعد لیٹن داس کریز پر آئے اور شانتو کے ساتھ مل کر ایک ایسی شراکت داری قائم کی جس نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ لیٹن داس نے انتہائی کلاسی انداز میں بیٹنگ کی اور 91 گیندوں پر 76 رنز کی اننگز کھیلی۔ دوسری جانب، نجم الحسن شانتو نے اپنی بہترین فارم کو جاری رکھتے ہوئے ایک شاندار سنچری اسکور کی۔ شانتو نے 119 گیندوں پر 105 رنز بنائے، جس میں دلکش اسٹروکس شامل تھے۔ ان دونوں کی بدولت بنگلہ دیش ایک مستحکم پوزیشن میں آگیا۔

مڈل آرڈر کی جدوجہد اور مجموعی اسکور

شانتو اور لیٹن کے آؤٹ ہونے کے بعد، توحید ہردوئے نے برق رفتاری سے 29 گیندوں پر 33 رنز بنا کر ٹیم کے اسکور کو مہمیز دی، جبکہ کپتان مہدی حسن معراج نے بھی 22 رنز کا مفید حصہ ڈالا۔ بنگلہ دیش نے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 265 رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے ول اورورک سب سے کامیاب باؤلر رہے جنہوں نے 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ بین لسٹر اور جیڈن لیننکس نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

نیوزی لینڈ کی جوابی بیٹنگ اور مستفیض کا قہر

266 رنز کے ہدف کے تعاقب میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کبھی بھی پر اعتماد نظر نہیں آئی۔ مستفیض الرحمان نے اننگز کے آغاز میں ہی ہنری نکولس کو 4 رنز پر آؤٹ کر کے کیوی بیٹنگ لائن کو پہلا جھٹکا دیا۔ ول ینگ نے 19 رنز بنا کر کچھ مزاحمت کی کوشش کی لیکن ناہید رانا کی تیز رفتار گیند نے ان کا کام تمام کر دیا۔ کپتان ٹام لیتھم ایک بار پھر ناکام رہے اور صرف 5 رنز بنا سکے۔ مستفیض الرحمان کی ‘کٹر’ گیندوں نے نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کو بے بس کر کے رکھ دیا۔

نک کیلی اور ڈین فاکس کرافٹ کی لڑائی

ایک وقت پر جب نیوزی لینڈ کی وکٹیں مسلسل گر رہی تھیں، نک کیلی اور ڈین فاکس کرافٹ نے مزاحمت دکھائی۔ نک کیلی نے 59 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، لیکن ان کے آؤٹ ہوتے ہی نیوزی لینڈ کی امیدیں دم توڑنے لگیں۔ ڈین فاکس کرافٹ نے آخر تک لڑنے کی کوشش کی اور 72 گیندوں پر 75 رنز بنائے، لیکن دوسرے سرے سے انہیں کسی بلے باز کا ساتھ میسر نہ آیا۔ بنگلہ دیشی باؤلرز نے مستقل دباؤ برقرار رکھا اور نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم 210 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

باؤلنگ کارڈ: مستفیض الرحمان کا ریکارڈ فائیو وکٹ ہال

بنگلہ دیش کی فتح کے اصل ہیرو مستفیض الرحمان رہے جنہوں نے اپنی تباہ کن باؤلنگ سے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ یہ ان کے کیریئر کے بہترین اسپیلز میں سے ایک تھا۔ ناہید رانا اور مہدی حسن معراج نے بھی دو دو وکٹیں لے کر ان کا بھرپور ساتھ دیا، جبکہ شریف الاسلام نے ایک وکٹ حاصل کی۔ اس جیت کے ساتھ ہی بنگلہ دیش نے نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں 2-1 سے برتری حاصل کر کے ٹرافی اپنے نام کر لی۔ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی اس کارکردگی کو شائقین کی جانب سے بھرپور سراہا جا رہا ہے، خاص طور پر شانتو کی بیٹنگ اور مستفیض کی باؤلنگ نے دل جیت لیے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *