News

IPL 2026: متھیا مرلی دھرن کا انکشاف، آئی پی ایل اب صرف کھیل نہیں بڑا کاروبار ہے

Vihaan Clarke · · 1 min read
Share

آئی پی ایل 2026: جب بلے بازوں کا راج ہو تو باؤلر کیا کرے؟

آئی پی ایل 2026 میں بیٹنگ ریکارڈز کا ٹوٹنا معمول بن چکا ہے۔ جب 265 رنز کا ہدف محض 19 اوورز سے کم میں حاصل کر لیا جائے، تو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ کرکٹ کا توازن بری طرح بلے بازوں کے حق میں جھک چکا ہے۔ سن رائزرز حیدرآباد (SRH) کے اسپن باؤلنگ کوچ، متھیا مرلی دھرن، کا ماننا ہے کہ اب باؤلرز کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے: حقیقت کو تسلیم کرنا اور خود کو بدلنا۔

جدید کرکٹ کا بدلتا ہوا مزاج

ایک پریس کانفرنس کے دوران مرلی دھرن نے کہا کہ آج کل ہر ٹیم کے اوپنرز کا مائنڈ سیٹ یکسر بدل چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ‘جب ہم کھیلتے تھے، تو چھ اوورز میں 40 سے 50 رنز بنانا ایک اچھا اسکور سمجھا جاتا تھا۔ آج یہ اوسط 70 سے 80 رنز تک پہنچ چکی ہے۔’ مرلی دھرن کے مطابق، نوجوان کھلاڑی اب وکٹ پر رکنے کے بجائے ہر گیند پر چھکا مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے 23 سالہ سلیل اروڑا کی مثال دی جس نے جسپریت بمراہ جیسے باؤلر کو ‘نو لک’ چھکا رسید کیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آج کے نوجوانوں میں خوف ختم ہو چکا ہے۔

اسپن باؤلنگ کا مستقبل اور مسائل

مرلی دھرن نے اسپن باؤلنگ کے تکنیکی پہلوؤں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ گراس روٹ لیول پر اب بچوں کو گیند کو ‘اسپن’ کرنا نہیں سکھایا جاتا۔ ‘وہ صرف تیز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر آپ 10-12 سال کی عمر میں اسپن کرنا نہیں سیکھیں گے، تو بعد میں یہ ممکن نہیں رہتا۔ آج کل نیٹ پر بلے بازوں کو تھرو ڈاؤن پر پریکٹس کرائی جاتی ہے، جس سے انہیں گیند کی لائن میں آنے اور ہٹ لگانے کی عادت پڑ جاتی ہے۔’

کیا شین وارن اور مرلی دھرن آج بھی کامیاب ہوتے؟

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر وہ اور شین وارن آج کے دور کی پچوں پر گیند بازی کرتے تو کیا ہوتا، تو مرلی دھرن نے بڑی ایمانداری سے جواب دیا: ‘ہم گیند کو ٹرن ضرور کراتے، لیکن کوئی بڑا اثر نہیں چھوڑ پاتے۔ آج کی پچز اتنی بہترین ہیں کہ باؤلر کو بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ ہم شاید ایک یا دو وکٹیں لے لیتے، لیکن پھر بھی بلے باز 40 رنز آسانی سے بنا لیتے۔’

‘یہ محض کھیل نہیں، ایک بڑا کاروبار ہے’

سب سے اہم بات جو مرلی دھرن نے کہی وہ یہ تھی کہ آئی پی ایل میں توازن لانا شاید ممکن نہ ہو۔ انہوں نے کہا، ‘اگر ہم مشکل اور متوازن پچز بنا دیں تو شائقین اسے بورنگ کہیں گے۔ ٹی 20 کے مداح تفریح چاہتے ہیں، وہ چوکے اور چھکے دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ اب ایک بہت بڑا کاروبار ہے، اسپانسرز اور کمرشل مفادات اس کھیل کے پیچھے ہیں۔’

مرلی دھرن کا ماننا ہے کہ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔ باؤلرز کو خود کو ڈھالنا ہوگا، وہ نئی حکمت عملی بنائیں گے اور بلے باز اس کے جواب میں کچھ نیا ڈھونڈ نکالیں گے۔ یہی جدید کرکٹ کا سفر ہے۔ SRH کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنی جارحانہ حکمت عملی پر قائم رہیں گے کیونکہ کرکٹ کا مستقبل اب اسی پاور ہٹنگ کے گرد گھومتا ہے۔

نتیجہ: آئی پی ایل جس مقام پر کھڑا ہے، وہاں باؤلنگ اب ایک فن سے زیادہ ایک امتحان بن چکی ہے۔ مرلی دھرن کے الفاظ اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ شائقین کی تفریح اور تجارتی مفادات نے کرکٹ کو ایک نئی شکل دے دی ہے، جہاں اب ‘دفاع’ کی نہیں، بلکہ ‘حملے’ کی جگہ ہے۔

Avatar photo
Vihaan Clarke

Vihaan Clarke is a cricket blogger writing about trending topics, viral cricket moments, and fan discussions. His content is highly engaging.