بی سی سی آئی کا آئی پی ایل ٹیموں کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن کا فیصلہ
آئی پی ایل 2026: ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والی ٹیموں پر بی سی سی آئی کا گھیرا تنگ
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے حالیہ سیزن میں کچھ ناخوشگوار واقعات نے کرکٹ کے حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے اب اس معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والی ٹیموں کے خلاف مزید کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ بی سی سی آئی کے سیکرٹری دیواجیت سائیکا نے حال ہی میں ممبئی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ بورڈ ٹیموں کے رویے کو بہتر بنانے کے لیے نئے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔
راجستھان رائلز تنازعات کی زد میں
آئی پی ایل کے موجودہ سیزن میں راجستھان رائلز کی ٹیم دو مرتبہ غلط وجوہات کی بنا پر سرخیوں میں رہی ہے۔ پہلا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹیم کے مینیجر رویندر سنگھ بھنڈر کو میچ کے دوران ڈگ آؤٹ میں فون کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا، جو کہ آئی پی ایل کے سخت پروٹوکولز کے خلاف ہے۔ اس خلاف ورزی پر ان پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔
دوسرا اور زیادہ سنگین واقعہ ٹیم کے کپتان ریان پراگ سے متعلق تھا، جنہیں ڈریسنگ روم میں ویپنگ (vaping) کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ اس واقعے پر بی سی سی آئی نے انہیں میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ کیا اور ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی دیا گیا۔ اگرچہ بھنڈر نے بی سی سی آئی کی اینٹی کرپشن یونٹ کو یہ وضاحت دی کہ یہ غلطی نادانستہ طور پر ہوئی تھی اور انہوں نے معافی بھی مانگ لی تھی، لیکن بورڈ اس معاملے کو اتنی آسانی سے نظر انداز کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔
بی سی سی آئی کا موقف اور مستقبل کا لائحہ عمل
دیواجیت سائیکا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: “ہم ان ٹیموں کو ضابطے میں لانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں جو قواعد کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ بی سی سی آئی آئی پی ایل کے تمام ٹرمز اینڈ کنڈیشنز اور پروٹوکولز کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تمام ٹیمیں ایک خاص وقار کے ساتھ کھیلیں۔
سائیکا کے مطابق، یہ مسئلہ صرف کھلاڑیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ پوری ٹیم کو ایک ڈیکورم برقرار رکھنا ہوگا تاکہ آئی پی ایل کے امیج پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بورڈ جلد ہی اس حوالے سے مزید سخت فیصلے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
قانونی پہلو اور ای-سگریٹ کا معاملہ
ریان پراگ کے واقعے کے بعد قانونی سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں، کیونکہ بھارت میں ای-سگریٹس کی خرید و فروخت اور پیداوار پر پابندی ہے۔ جب سائیکا سے اس بارے میں پوچھا گیا کہ کیا اس واقعے کے کوئی قانونی مضمرات ہو سکتے ہیں، تو انہوں نے بتایا کہ بی سی سی آئی کو پنجاب پولیس کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ مراسلہ موصول نہیں ہوا ہے۔ یاد رہے کہ یہ واقعہ چندی گڑھ میں پنجاب کنگز کے خلاف میچ کے دوران پیش آیا تھا۔
فرنچائز کا ردعمل
دوسری جانب راجستھان رائلز کے ہیڈ کوچ کمار سنگاکارا نے اس معاملے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ یہ مسائل بی سی سی آئی اور فرنچائز کے درمیان زیر بحث آئے ہیں اور انہیں حل کر لیا گیا ہے۔ سنگاکارا نے زور دے کر کہا کہ ان کی ٹیم ہمیشہ اپنے اندر ایک مثبت اور صحت مند کلچر کو فروغ دینے کی کوشش کرتی ہے۔
نتیجہ
آئی پی ایل کی مقبولیت اس کے نظم و ضبط اور معیار پر منحصر ہے۔ بی سی سی آئی کا یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بورڈ لیگ کی ساکھ کو بچانے کے لیے کسی بھی قسم کی نرمی برتنے کے حق میں نہیں ہے۔ آنے والے میچوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ٹیمیں ان نئے سخت ضابطوں پر کس حد تک عمل پیرا ہوتی ہیں اور بی سی سی آئی اپنی دھمکی پر کتنا عمل درآمد کرتا ہے۔ کرکٹ شائقین یقیناً اس بات کے منتظر ہیں کہ کھیل کے میدان میں صرف کھیل کی بات ہو اور ایسے تنازعات کا خاتمہ ہو۔
