بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (BPL) میں سٹہ بازی کا طوفان: کرکٹ بورڈ کا کریک ڈاؤن
بنگلہ دیش پریمیئر لیگ: کرپشن کے سائے
بنگلہ دیشی کرکٹ کے ایوانوں میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) نے حال ہی میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے چار افراد کو معطل کر دیا ہے، جن میں ایک سابق ڈومیسٹک کرکٹر بھی شامل ہیں۔ یہ کارروائی بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (BPL) 2025-26 سیزن کے دوران سامنے آنے والے مبینہ کرپشن اور سٹہ بازی کے واقعات کے بعد کی گئی ہے۔
تفتیش کا دائرہ کار
بی سی بی کے انٹیگریٹی یونٹ کی جانب سے کی جانے والی اس تفتیش میں کرپٹ طرز عمل، سٹہ بازی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے اور انسدادِ بدعنوانی کے حکام کے ساتھ تعاون نہ کرنے جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔ یہ کارروائی کرکٹ کی دنیا میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
معطل ہونے والے افراد کون ہیں؟
معطل ہونے والوں میں سابق ڈومیسٹک کرکٹر امیت مجمدار، چٹاگانگ رائلز کے لاجسٹکس منیجر لبلور رحمٰن، سلہٹ ٹائٹنز کے منیجر رضوان کبیر صدیقی اور نوکھالی ایکسپریس کے شریک مالک توحید الحق شامل ہیں۔ ان تمام افراد کو 14 دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا جواب دے سکیں۔ یاد رہے کہ یہ ابتدائی معطلی ہے اور اسے حتمی سزا نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
امیت مجمدار کا پس منظر
اس فہرست میں سب سے زیادہ حیران کن نام امیت مجمدار کا ہے۔ امیت نے بنگلہ دیش کی انڈر 19 ٹیم کی نمائندگی 2008 اور 2010 کے ورلڈ کپ میں کی تھی۔ اپنے ڈومیسٹک کیریئر میں انہوں نے 2428 فرسٹ کلاس اور 2585 لسٹ اے رنز بنائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امیت نے کبھی بھی بی پی ایل کا کوئی میچ نہیں کھیلا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تفتیش میدان کے اندر کی بجائے فرنچائز کی آف فیلڈ سرگرمیوں سے متعلق ہو سکتی ہے۔
سمنور رحمٰن پر سخت ایکشن
دیگر افراد کے برعکس، چٹاگانگ رائلز کے ایک اہم عہدیدار سمنور رحمٰن کے خلاف بی سی بی نے ‘ایکسکلوژن آرڈر’ جاری کیا ہے۔ یہ ایک سخت تادیبی کارروائی ہے جس کے تحت ان پر کرکٹ سے متعلقہ تمام سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سمنور رحمٰن نے اپنے خلاف الزامات کو قبول کر لیا ہے، جو کہ بی سی بی کے سخت موقف کو تقویت دیتا ہے۔
لیگ کی ساکھ کا سوال
بی پی ایل پر ہر سیزن میں کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں، جس سے لیگ کی مقبولیت اور ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔ بی سی بی کے نئے سربراہ تمیم اقبال کی قیادت میں بورڈ اس ٹورنامنٹ کو نئے سرے سے منظم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ تاہم، کرکٹ کے حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ جب تک بدعنوانی کے ناسور کو جڑ سے ختم نہیں کیا جاتا، تب تک لیگ کی عالمی سطح پر بحالی ممکن نہیں ہوگی۔
نتیجہ
فی الحال یہ ایک تحقیقاتی مرحلہ ہے، لیکن ان الزامات کی نوعیت انتہائی سنگین ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا انٹیگریٹی یونٹ پردے کے پیچھے مسلسل کام کر رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کرکٹ کا کھیل سٹہ بازی اور کرپشن سے پاک رہے۔ شائقین کرکٹ اب ان 14 دنوں کے بعد آنے والے فیصلوں کے منتظر ہیں، جو بی پی ایل کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
