News

پی ایس ایل فائنل: حیدرآباد کنگزمین کی شکست پر جے سن گلیسپی کا جذباتی بیان

Vihaan Clarke · · 1 min read
Share

شکست کا دکھ اور ٹیم پر فخر: جے سن گلیسپی کے جذبات

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے سنسنی خیز فائنل میں حیدرآباد کنگزمین کا سفر اختتام پذیر ہوا، لیکن یہ اختتام ویسا نہ تھا جیسا کنگزمین کے مداحوں اور کوچ نے سوچا تھا۔ ہیڈ کوچ جے سن گلیسپی نے اعتراف کیا کہ پشاور زلمی نے فائنل میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا اور وہ واقعی چیمپئن بننے کے حقدار تھے۔ بابر اعظم کی قیادت میں پشاور زلمی نے پانچ وکٹوں سے فتح حاصل کی، جو کہ پی ایس ایل کی تاریخ میں گیندوں کے لحاظ سے فائنل کی سب سے بڑی جیت ثابت ہوئی۔

بیٹنگ لائن کی ناکامی اور اہم موڑ

گلیسپی نے میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے باؤلرز کو دفاع کے لیے کافی رنز فراہم نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پوری کوشش کی، لیکن پشاور نے ہر حملے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنی ٹیم کو فتح کی دہلیز تک پہنچا دیا۔ میچ کا رخ اس وقت مڑا جب کنگزمین کی بیٹنگ لائن اچانک لڑکھڑا گئی۔ ٹورنامنٹ کے درمیانی حصے سے، کنگزمین کا مڈل آرڈر ان کی طاقت رہا ہے، جس نے پاور پلے اور 14ویں اوور کے درمیان 502 رنز بنائے تھے، جو کسی بھی دوسری ٹیم سے زیادہ ہیں۔ لیکن فائنل میں کہانی بالکل مختلف تھی۔

پاور پلے میں اچھے آغاز کے بعد، کنگزمین کو ایک خود ساختہ تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ اگلے آٹھ اوورز میں انہوں نے صرف 39 رنز بنائے اور 6 اہم وکٹیں گنوا دیں۔ خاص طور پر ساتویں اور آٹھویں اوور میں چار وکٹیں گرنے نے میچ کا نقشہ ہی بدل دیا۔ ان وکٹوں میں دو رن آؤٹ اور گلین میکسویل کی پہلی ہی گیند پر غیر ذمہ دارانہ شاٹ شامل تھی جس نے ٹیم کی کمر توڑ دی۔ گلیسپی نے افسوس کے ساتھ کہا کہ اس مختصر وقفے نے ہماری کشتی کے بادبانوں سے ہوا نکال دی، اور اتنی جلدی وکٹیں گرنے کے بعد کھیل میں واپس آنا ناممکن ہو گیا تھا۔

باؤلرز کی ہمت اور معجزے کی امید

صرف 129 رنز کے معمولی ٹوٹل پر ڈھیر ہونے کے بعد، جو کہ پی ایس ایل فائنل کا سب سے کم اسکور تھا، کنگزمین کے باؤلرز نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ جانتے تھے کہ انہیں جلد وکٹیں درکار ہیں۔ بابر اعظم، جو ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی تھے، صفر پر آؤٹ ہو کر سب کو حیران کر گئے۔ حنین شاہ اور عاکف جاوید نے پشاور زلمی کے مڈل آرڈر کو بھی نشانہ بنایا، جس سے اسکور 40 رنز پر 4 وکٹیں ہو گیا۔ اس لمحے ایسا لگا کہ شاید کنگزمین ایک بار پھر کوئی معجزہ کر دکھائیں گے۔

گلیسپی نے بتایا کہ ہم نے ڈریسنگ روم میں صرف ایک ہی بات کی تھی: یقین رکھو۔ ہم نے اس ٹورنامنٹ میں کئی بار مشکل حالات سے نکلنے کے راستے ڈھونڈے تھے۔ ہمیں بس ایک اور چھوٹے سے موڑ کی ضرورت تھی، لیکن بدقسمتی سے وہ آج نہ ہو سکا۔ ہمارے کھلاڑی اس یقین کے ساتھ میدان میں اترے تھے کہ اگر ہم جلد وکٹیں لے لیں تو ہم جیت سکتے ہیں، اور ہم نے وہ وکٹیں لیں بھی، لیکن قسمت نے ساتھ نہ دیا۔

پشاور زلمی کا جوابی وار: ایرون ہارڈی اور عبدالصمد کا جادو

کنگزمین کی امیدوں کے چراغ اس وقت گل ہوئے جب ایرون ہارڈی اور عبدالصمد نے میدان سنبھالا۔ ایرون ہارڈی، جنہوں نے باؤلنگ میں 27 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کی تھیں، بیٹنگ میں بھی کمال کر گئے۔ انہوں نے 39 گیندوں پر 56 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ ان کا ساتھ عبدالصمد نے دیا، جنہوں نے 34 گیندوں پر 48 رنز بنا کر 85 رنز کی فیصلہ کن شراکت قائم کی۔ اس پارٹنرشپ نے کنگزمین کے لیے واپسی کے تمام دروازے بند کر دیے۔

ناقالب یقین سفر: ہنسی کے نشانہ بننے سے فائنل تک

شکست کے باوجود، جے سن گلیسپی نے اپنی ٹیم کے مجموعی سفر پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ٹورنامنٹ کے پہلے حصے میں کنگزمین کا مذاق اڑایا جا رہا تھا کیونکہ وہ پہلے چاروں میچ ہار چکے تھے۔ لیکن پھر انہوں نے ایسی واپسی کی کہ اگلے آٹھ میں سے سات میچ جیت کر فائنل تک رسائی حاصل کی۔ گلیسپی نے کہا کہ ہمیں معلوم تھا کہ ہم کسی نہ کسی وقت بہتر پرفارم کریں گے۔ شروع میں ہم ٹکڑوں میں اچھا کھیل رہے تھے لیکن مکمل گیم پلان پر عمل نہیں ہو پا رہا تھا۔

انہوں نے ٹیم کی فلاسفی پر بات کرتے ہوئے کہا:

  • ہم نے کھلاڑیوں پر بھروسہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھائیں۔
  • ہم نے ڈریسنگ روم کا ماحول مثبت اور پرسکون رکھا۔
  • ہمارا منتر تھا کہ پرسکون رہو، واضح رہو اور اپنی مہارتوں کا بہترین استعمال کرو۔

گلیسپی نے آخر میں جذباتی انداز میں کہا کہ مجھے اپنے کھلاڑیوں پر بے حد فخر ہے۔ ہمیں بہت جلد ٹورنامنٹ سے باہر تصور کر لیا گیا تھا، لیکن ان لڑکوں نے ہمت نہیں ہاری اور فائنل تک پہنچ کر سب کو غلط ثابت کیا۔ یہ ہار عارضی ہے، لیکن اس ٹیم نے جو جذبہ دکھایا ہے، وہ ہمیشہ یاد رہے گا۔

Avatar photo
Vihaan Clarke

Vihaan Clarke is a cricket blogger writing about trending topics, viral cricket moments, and fan discussions. His content is highly engaging.