News

راجستھان رائلز کی فروخت پر تنازع: کال سومانی گروپ کے سنگین الزامات

Vihaan Clarke · · 1 min read
Share

راجستھان رائلز کی فروخت کا معاملہ: ایک غیر متوقع موڑ

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی دنیا اس وقت حیرت زدہ رہ گئی جب راجستھان رائلز (RR) کی ملکیت کے حوالے سے ایک سنگین تنازع سامنے آیا۔ حال ہی میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ بھارتی نژاد معروف بزنس مین لکشمی متل اور آدر پونا والا نے راجستھان رائلز کو 1.65 بلین امریکی ڈالر (تقریباً 15,660 کروڑ روپے) میں خرید لیا ہے۔ تاہم، اس فیصلے نے ان سرمایہ کاروں کو مایوس کر دیا ہے جو طویل عرصے سے اس دوڑ میں سب سے آگے تھے۔

کال سومانی گروپ کا ردعمل اور ‘لیول پلینگ فیلڈ’ کا سوال

ایریزونا سے تعلق رکھنے والے ٹیک کاروباری شخصیت کال سومانی کی قیادت میں قائم امریکی کنسورشیم نے ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے رائلز بورڈ کے فیصلے کو ‘حیران کن اور مایوس کن’ قرار دیا ہے۔ اس گروپ میں این ایف ایل (NFL) کی ٹیموں ‘ڈینور برونکوس’ اور ‘ڈیٹرائٹ لائنز’ کے مالکان، بشمول روب والٹن اور مائیکل ہیمپ شامل ہیں۔

کنسورشیم کا کہنا ہے کہ رائلز بورڈ کا فیصلہ ایک ‘لیول پلینگ فیلڈ’ یعنی یکساں مواقع فراہم کرنے والے عمل کی عکاسی نہیں کرتا۔ ان کے مطابق، وہ اس چھ ماہ طویل عمل کے دوران شروع سے آخر تک سب سے زیادہ بولی لگانے والے گروپ کے طور پر سامنے رہے تھے، لیکن آخری لمحات میں بازی پلٹ دی گئی۔

بولی کے چار مراحل اور مالیاتی حقائق

ذرائع کے مطابق، کال سومانی کی قیادت میں کنسورشیم نے بولی کے تمام چاروں مراحل میں سب سے اوپر پوزیشن حاصل کی تھی۔ ان کی بولی 1.635 بلین ڈالر تھی، جبکہ لکشمی متل، جو اس وقت آزادانہ طور پر مقابلہ کر رہے تھے، کی بولی 1.1 بلین ڈالر کے لگ بھگ سمجھی جاتی تھی۔

  • کال سومانی گروپ کی بولی: 1.635 بلین ڈالر
  • کامیاب بولی (متل اور پونا والا): 1.65 بلین ڈالر
  • سرمایہ کاری کے شعبے: NFL، MLB، EPL، اور لا لیگا کے تجربہ کار مالکان

شفافیت اور اخلاقیات پر سوالات

کنسورشیم نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ انہوں نے اس عمل کو ایمانداری، دیانت اور پیشہ ورانہ مہارت کے اعلیٰ ترین معیار کے ساتھ اپنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ: “ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہفتہ کو ہونے والے بورڈ میٹنگ میں ہمارے کنسورشیم کی منظوری دی جائے گی، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔”

گروپ نے ان افواہوں کی بھی سختی سے تردید کی کہ انہوں نے اپنی بولی واپس لے لی تھی یا ان کے پاس فنڈز کی کمی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خبریں میڈیا میں جان بوجھ کر پلانٹ کی گئی تھیں تاکہ ان کی پوزیشن کو کمزور کیا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر مرحلے پر مکمل طور پر فنڈڈ تھے اور ڈیل کلوز کرنے کے لیے تیار تھے۔

منوج بدالے کا کردار اور خاموشی

راجستھان رائلز کے موجودہ پرنسپل مالک منوج بدالے سے جب اس حوالے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ کال سومانی، جو خود 2021 سے رائلز بورڈ کا حصہ ہیں، نے مفادات کے ٹکراؤ سے بچنے کے لیے بورڈ کے اس اجلاس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی جس میں خریدار کا فیصلہ ہونا تھا۔

مستقبل کا منظرنامہ: 2026 کا نیا بورڈ

اگرچہ اس تنازع نے فرنچائز کے مستقبل پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، لیکن موجودہ منصوبے کے مطابق بی سی سی آئی (BCCI) کی منظوری کے بعد 2026 کی تیسری سہ ماہی میں نیا بورڈ اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گا۔ اس نئے بورڈ کی قیادت لکشمی متل، ان کے بیٹے آدتیہ، بیٹی ونیشا متل بھاٹیہ اور آدر پونا والا کریں گے، جبکہ منوج بدالے کے پاس اقلیتی حصص رہیں گے۔

نتیجہ

راجستھان رائلز کی فروخت محض ایک کاروباری ڈیل نہیں ہے بلکہ یہ آئی پی ایل کی ساکھ اور شفافیت کا بھی امتحان ہے۔ سومانی گروپ نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ وہ اس نتیجے سے مایوس ہیں، لیکن وہ اسے اپنے وسیع تر سفر کا ایک حصہ سمجھتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا کرکٹ کی دنیا کے ریگولیٹری ادارے اس معاملے میں مداخلت کرتے ہیں یا یہ ڈیل اسی طرح مکمل ہو جائے گی۔

Avatar photo
Vihaan Clarke

Vihaan Clarke is a cricket blogger writing about trending topics, viral cricket moments, and fan discussions. His content is highly engaging.