رینن پراگ پر ویپنگ کے باعث جرمانہ: آئی پی ایل میں نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی
راجستھان رائلز کے کپتان رینن پراگ نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے باعث گرفت میں
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) 2026 کے سیزن میں جہاں کھلاڑیوں کی کارکردگی اور میدان میں ان کی جنگجویی کی پذیرائی ہو رہی ہے، وہیں کچھ ایسے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں جنہوں نے لیگ کے نظم و ضبط پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حالیہ ترین واقعے میں، راجستھان رائلز (RR) کے کپتان رینن پراگ کو ایک ایسی غلطی کی قیمت چکانی پڑی ہے جس کا تعلق کھیل سے نہیں بلکہ ڈریسنگ روم کے آداب اور ضابطہ اخلاق سے ہے۔
منگل کے روز نیو چندی گڑھ میں پنجاب کنگز (PBKS) کے خلاف کھیلے گئے میچ کے دوران رینن پراگ کو ڈریسنگ روم کے اندر “ویپ” (Vape) استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ اس واقعے کے بعد بی سی سی آئی (BCCI) نے فوری نوٹس لیتے ہوئے پراگ پر ان کی میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ عائد کیا ہے اور ساتھ ہی انہیں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی دیا گیا ہے۔
ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور بی سی سی آئی کا موقف
بی سی سی آئی کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک آفیشل بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ رینن پراگ نے آئی پی ایل کے کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.21 کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ آرٹیکل خاص طور پر ایسے رویوں سے متعلق ہے جو “کھیل کے وقار کو متاثر کرتے ہیں یا اسے بدنامی کی طرف لے جاتے ہیں”۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب راجستھان رائلز پنجاب کنگز کے خلاف ایک مشکل ہدف کا تعاقب کر رہی تھی۔ پنجاب کنگز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 222 رنز کا پہاڑ جیسا مجموعہ کھڑا کیا تھا، لیکن رینن پراگ کی قیادت میں راجستھان رائلز نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے یہ ہدف چار گیندیں باقی رہتے ہوئے حاصل کر لیا۔ تاہم، میدان میں اس بڑی جیت کے باوجود ڈریسنگ روم میں پراگ کی اس لاپرواہی نے انہیں مشکل میں ڈال دیا۔
رپورٹس کے مطابق، رینن پراگ نے اپنی غلطی تسلیم کر لی ہے اور میچ ریفری امت شرما کی جانب سے عائد کیے گئے جرمانے اور سزا کو قبول کر لیا ہے۔
بی سی سی آئی کی سخت وارننگ: کیا مزید کارروائی ہوگی؟
اس معاملے میں بی سی سی آئی کا رویہ کافی سخت نظر آ رہا ہے۔ بورڈ نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ صرف انفرادی جرمانے تک محدود نہیں رہیں گے۔ بی سی سی آئی نے کہا ہے کہ وہ “دیگر آپشنز پر غور کر رہے ہیں تاکہ متعلقہ ٹیم، اس کے حکام اور کھلاڑیوں کے خلاف مزید سخت کارروائی شروع کی جا سکے”۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ آئی پی ایل کی عالمی ساکھ اور ساکھ برقرار رہے اور کوئی بھی کھلاڑی یا عہدیدار اس بات کو معمولی نہ لے۔
راجستھان رائلز کے لیے مسائل کا تسلسل
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب راجستھان رائلز کے کسی رکن کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر سزا ملی ہو۔ رینن پراگ کے اس واقعے سے محض دو ہفتے قبل، ٹیم منیجر رومی بھنڈر کو بھی ایک جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
- n
- واقعہ: 10 اپریل کو گوہاٹی میں رائل چیلنجرز بنگلور کے خلاف میچ کے دوران رومی بھنڈر کو ٹیم ڈگ آؤٹ میں موبائل فون استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
- جرمانہ: اس خلاف ورزی پر ان پر ایک لاکھ بھارتی روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔
- قانون: یہ عمل آئی پی ایل کے پلیئرز اور میچ آفیشلز ایریا پروٹوکول کے آرٹیکل 4.1.1 کی صریح خلاف ورزی تھا۔
رومی بھنڈر نے اینٹی کرپشن یونٹ کو بتایا تھا کہ یہ غلطی غیر ارادی تھی اور انہوں نے غیر مشروط معذرت بھی کی۔ بعد میں جاری ہونے والی میڈیا ریلیز میں انہیں مستقبل میں زیادہ احتیاط برتنے اور گائیڈ لائنز پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
سوشل میڈیا کا کردار اور پیشہ ورانہ ذمہ داری
ان دونوں واقعات میں ایک بات مشترک ہے اور وہ ہے سوشل میڈیا۔ رومی بھنڈر کی موبائل فون استعمال کرتے ہوئے تصاویر (جن میں vibhav سوریہ ونشی بھی ان کے ساتھ تھے) میچ کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں، جس کے بعد بی سی سی آئی کو علم ہوا۔ بالکل اسی طرح، رینن پراگ کی ویپنگ کی تصاویر بھی پنجاب کنگز کے خلاف میچ کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں، جس نے بورڈ کو کارروائی پر مجبور کیا۔
ایک کپتان کے طور پر رینن پراگ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ٹیم کے لیے ایک مثال قائم کریں گے۔ ڈریسنگ روم جیسے حساس علاقے میں ایسی سرگرمیاں نہ صرف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ٹیم کے نظم و ضبط پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ آئی پی ایل جیسے بڑے پلیٹ فارم پر جہاں کروڑوں لوگ کھلاڑیوں کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں، وہاں ایسی غلطیاں کھلاڑی کے کیریئر اور ٹیم کے امیج کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہوگا کہ بی سی سی آئی رومی بھنڈر اور رینن پراگ کے ان مسلسل واقعات کے بعد راجستھان رائلز کی مینجمنٹ کے خلاف کیا مزید اقدامات اٹھاتا ہے۔
