[CRK]
کینیڈا کرکٹ میں کرپشن کا طوفان: آئی سی سی کی تحقیقات کا آغاز
کرکٹ کی عالمی تنظیم آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ (ACU) نے کینیڈا کرکٹ کے حوالے سے کرپشن کے سنگین الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ان الزامات کا مرکز حالیہ مردوں کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں کینیڈا کے ایک میچ کی کارکردگی اور کینیڈا کرکٹ کے انتظامی ڈھانچے میں موجود خامیوں پر مبنی ہے۔
ورلڈ کپ میچ میں مشکوک کارکردگی
ایس پین کرک انفو کی رپورٹ کے अनुसार، آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ اس وقت دو فعال تحقیقات کر رہا ہے، جس میں کینیڈا کے کسی ایک میچ میں آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزیوں کے الزامات شامل ہیں۔ یہ تمام انکشافات ایک کینیڈین دستاویزی فلم ‘کرپشن، کرائم اینڈ کرکٹ’ (Corruption, Crime and Cricket) میں کیے گئے ہیں، جو کہ کینیڈین عوامی نشریاتی ادارے CBC کے ذریعے نشر کی گئی ہے۔
دستاویزی فلم میں خاص طور پر کینیڈا کے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے پانچویں اوور کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس اوور میں، کینیڈا کے کپتان دلپریت باجوہ نے بولنگ کی، جو کہ بنیادی طور پر ایک بیٹنگ آل راؤنڈر تھے اور ٹورنامنٹ سے محض تین ہفتے پہلے کپتان مقرر ہوئے تھے۔
نیوزی لینڈ کی بیٹنگ کے دوران، جب ان کا اسکور 35 رنز فی 2 وکٹیں تھا، باجوہ نے پانچویں اوور میں ایک نو بال اور ایک وائیڈ گیند پھینکی اور اس اوور میں 15 رنز conceded کیے۔ اس مشکوک اوور کی اب آئی سی سی کی تحقیقات کا حصہ ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا اس میں کوئی بیرونی اثر و رسوخ یا بدنیتی شامل تھی یا نہیں۔
انتظامی مداخلت اور کھلاڑیوں کے انتخاب میں دباؤ
کرپشن کے ان الزامات کے ساتھ ساتھ، ایک اور تحقیقاتی رخ یہ ہے کہ کینیڈا کرکٹ کے سابقہ کوچ خرم چوہان کے ایک لیک شدہ فون کال کی ریکارڈنگ موجود ہے، جس میں وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بورڈ کے سینیئر ممبران نے ان پر مخصوص کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا۔
سابقہ کوچ پوبودو دسانایک بھی اسی طرح کے دعوے کر رہے ہیں کہ ان پر 2024 کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے کھلاڑیوں کے انتخاب میں غیر قانونی مداخلت کی گئی اور جب انہوں نے اس دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکایا تو انہیں بتایا گیا کہ ان کا کنٹریکٹ ختم کر دیا جائے گا۔ دسانایک اس وقت کینیڈا کرکٹ کے خلاف غلط طریقے سے فارغ کرنے کے لیے قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔
بورڈ کی بدانتظامی اور مالیہ مسائل
کینیڈا کرکٹ اس وقت شدید انتظامی بحران سے گزر رہا ہے۔ سابقہ سی ای او سلمان خان کی تقرری اور پھر ان کی برطرفی نے آئی سی سی کی توجہ حاصل کی، کیونکہ انہوں نے اپنی تقرری کے وقت سابقہ مجرمانہ الزامات کو ظاہر نہیں کیا تھا۔ سلمان خان پر کیلگری پولیس نے چوری اور فراڈ کے الزامات عائد کیے ہیں، اگرچہ انہوں نے ان الزامات کی رد کر دیا ہے۔
علاوة ازیں، کینیڈا کے کھلاڑیوں کو 2024 کے ٹی 20 ورلڈ کپ کی انعامی رقم کی ادائیگی میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، اور دستاویزی فلم میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ قومی کھلاڑیوں کے پاس جولائی 2025 تک کوئی باقاعدہ کنٹریکٹ نہیں تھا، جس نے کھلاڑیوں کی حالت کو مزید خراب کر کیا۔
آئی سی سی کا موقف
آئی سی سی کے انٹیگریٹی یونٹ کے عبوری جنرل منیجر اینڈریو ایپ گریو نے بتایا کہ آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ ان الزامات سے باخبر ہے اور اپنے مقررہ طریقہ کار کے مطابق تحقیقات کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ انٹیلیجنس، روک تھام اور تعلیم، اور تحقیقات کے تین بنیادی کام کرتا ہے تاکہ کھیل کی شفافیت کو برقرار رکھا رکھا جائے
دستاویزی فلم میں منظم کرائم (Organised Crime) کے ساتھ روابط کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جس کے بعد ایک سابقہ کھلاڑی نے دعویٰ کیا کہ اسے دھمکیاں دی گئیں۔ تاہم، اینڈریو ایپ گریو نے واضح کیا کہ یہ معاملہ اب آئی سی سی کے دائرہ اختیار سے باہر ہے اور یہ مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی تحقیقات کریں
نتیجہ
کینیڈا کرکٹ میں ہونے والی بدانتظامی اور کرپشن کے الزامات نے عالمی کرکٹ میں ایک نیا بحث چدھا دی ہے۔ اگر ان تحقیقات میں کوئی ثبوت ملتا ہے تو یہ کینیڈا کرکٹ کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف ان کی ساکھ بلکہ ان طور پر کھیل کے مستقبل پر بھی اثر پڑے گا