[CRK]
ممبئی انڈینز کی آئی پی ایل میں مشکلات: ماہیلہ جے وردھنے کا تجزیہ
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی تاریخ میں پانچ مرتبہ ٹائٹل جیتنے والی ممبئی انڈینز (ایم آئی) کے لیے موجودہ سیزن کا آغاز کچھ خاص نہیں رہا۔ ابتدائی میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد، ٹیم کو اگلے پانچ میں سے چار میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں سے دو شکستیں ان کے ہوم گراؤنڈ پر ہوئیں۔ اس صورتحال پر ٹیم کے ہیڈ کوچ ماہیلہ جے وردھنے نے کھل کر بات کی ہے اور ٹیم کی کارکردگی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ جے وردھنے کا کہنا ہے کہ ٹیم ابھی تک اپنی وہ “چمک” تلاش نہیں کر پائی ہے جس کے لیے وہ جانی جاتی ہے، اور خصوصاً بولنگ کے شعبے کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان شکستوں کا تمام تر بوجھ کپتان ہاردک پانڈیا پر نہیں ڈالا جا سکتا، بلکہ یہ پوری ٹیم اور انتظامیہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
کپتان ہاردک پر نہیں، سب پر ہے دباؤ
پنجاب کنگز (پی بی کے ایس) کے خلاف سات وکٹوں کی شکست کے بعد، جے وردھنے نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، “مجھے نہیں لگتا کہ یہ صرف ہاردک پر ہے، میرا خیال ہے کہ جب ہم اچھا نہیں کر رہے ہوتے تو یہ ہم سب پر ہوتا ہے۔ یہ کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ مجھ پر، انتظامیہ میں شامل ہر شخص پر ہے کہ ہم کیسے بہتر ہو سکتے ہیں۔” ان کے اس بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ٹیم انتظامیہ اور کوچنگ اسٹاف بھی اس صورتحال کی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں اور اجتماعی طور پر حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جے وردھنے نے مزید کہا کہ “مجھے معلوم ہے کہ ہم اچھی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ ہمیں مکمل طور پر شکست نہیں دی گئی، لیکن ساتھ ہی ساتھ دیگر ٹیمیں بہت بہتر اور ‘کلینیکل’ ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب انہیں اس طرح کا آغاز ملتا ہے تو ان کا اعتماد بھی بلند ہوتا ہے، اس لیے ہمیں صرف ان مراحل کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے جن پر ہم قابو پا سکتے ہیں۔” ان کا اشارہ تھا کہ اگرچہ ممبئی انڈینز کی ٹیم میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے، لیکن میچ کے اہم لمحات میں وہ دباؤ میں آ کر غلطیاں کر رہے ہیں، جبکہ مخالف ٹیمیں انہیں بہتر انداز میں بھنا رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ “یہ صرف ایک فرد پر نہیں ہے۔ ایک فرنچائز کے طور پر، ایک ٹیم مینجمنٹ کے طور پر، ہمیں بہتر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم کچھ ردم حاصل کریں اور پھر کچھ جیت حاصل کریں جو ہمیں وہ اعتماد دے۔”
کھلاڑیوں کی عدم دستیابی اور زخمیوں کا اثر
جے وردھنے کے مطابق، ممبئی انڈینز کی کارکردگی میں عدم تسلسل کی ایک بڑی وجہ کھلاڑیوں کی عدم دستیابی اور زخم بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ روہت شرما پنجاب کنگز کے میچ سے زخمی ہونے کی وجہ سے باہر تھے، جبکہ آئی پی ایل 2026 کے آغاز کے بعد ٹیم میں شامل ہونے والے مچل سینٹنر بھی بیماری کے باعث میچ سے باہر رہے۔ ہاردک پانڈیا بھی دہلی کیپیٹلز کے خلاف میچ میں طبیعت ناسازی کے باعث دستیاب نہیں تھے۔
جے وردھنے نے صورتحال کو بیان کرتے ہوئے کہا، “میرے خیال میں جو چار میچ ہم ہارے ہیں – دو باہر اور دو گھر میں – وہ مختلف قسم کے میچ تھے اور ہم نے کچھ کمبینیشنز آزمائے، اور ان میں سے کچھ کمبینیشنز ہمیں چوٹوں اور کھلاڑیوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے مجبوراً استعمال کرنے پڑے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “ہم دستیاب کھلاڑیوں کے ساتھ کچھ نیا بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم کچھ شعبوں میں ‘چمک’ تلاش کر رہے ہیں لیکن دوسرے شعبے، خاص طور پر بولنگ میں، ہمیں ابھی تک مخالفین کو پینیٹریٹ کرنے میں کامیابی نہیں ملی ہے، اس لیے یہ وہ شعبہ ہے جس پر ہمیں واقعی سخت محنت کرنی ہے اور دیکھنا ہے کہ ہم اسے کیسے بہتر بنا سکتے ہیں۔” یہ واضح کرتا ہے کہ ٹیم کو بہترین الیون میدان میں اتارنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کا براہ راست اثر ان کی کارکردگی پر پڑ رہا ہے۔
جسپریت بمراہ کی کارکردگی اور بولنگ کا مسئلہ
اگرچہ ممبئی انڈینز کو تینوں شعبوں – بلے بازی، بولنگ اور فیلڈنگ – میں مشکلات کا سامنا ہے، لیکن ان کی بولنگ کی جدوجہد خاص طور پر قابل ذکر رہی ہے۔ ٹیم کے اسٹار فاسٹ بولر جسپریت بمراہ، جو اپنی وکٹ لینے کی صلاحیت کے لیے جانے جاتے ہیں، پہلے پانچ میچوں میں کوئی وکٹ حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ پنجاب کنگز کے خلاف میچ میں انہوں نے 10.25 کے اکانومی ریٹ سے رنز دیے۔ کیا بمراہ کا وکٹ نہ لینا دیگر بولرز پر اضافی دباؤ ڈال رہا ہے؟
اس سوال کے جواب میں جے وردھنے نے بمراہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا، “مجھے لگتا ہے کہ بمراہ اچھی بولنگ کر رہے ہیں – یہ صرف پاور پلے میں ہے جہاں ہم دباؤ نہیں ڈال پا رہے ہیں۔” انہوں نے وضاحت کی، “مخالف بلے باز جانتے ہیں کہ انہیں بمراہ کے خلاف زیادہ رسک لینے کی ضرورت نہیں ہے، اور ہم نے کچھ مختلف چیزیں آزمائی ہیں، جو وہ بھی آزما رہے ہیں، لیکن وہ اچھی بلے بازی کر رہے ہیں۔ میں انگلی رکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ وکٹ کیوں نہیں لے رہے… لیکن ایک یونٹ کے طور پر ہم مختلف پچوں پر وہ پینیٹریشن حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، اور یہ وہ چیز ہے جس پر ہمیں کام کرنے اور یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔”
بمراہ کی رفتار میں معمولی کمی بھی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ جے وردھنے نے ورک لوڈ کو قرار دیا۔ “مجھے لگتا ہے کہ ابتدائی طور پر کیونکہ انہیں ہلکا سا درد تھا… ہم انہیں تیار کرنا چاہتے تھے، پچھلے کچھ میچوں میں ان کی رفتار بڑھی ہے، ہم نے یہ سب دیکھا ہے، اس لیے وہ بہت آرام دہ ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ کبھی کبھی تھوڑی قسمت کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جب دوسرے بولر چند وکٹیں لیتے ہیں تو اسے ایسے میچ اپس ملتے ہیں جن میں وہ بہت آرام دہ اور بہت اچھا ہوتا ہے۔ “اس نے شروع میں شریاس (ائر) کو بھی کچھ بہت اچھی گیندیں کروائیں، لیکن وہ خوش قسمت نہیں تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ ایک بار جب وہ وکٹیں لینا شروع کر دے گا تو شاید اسے روکنا ممکن نہیں ہو گا۔”
روہت شرما کی واپسی کا محتاط انداز
روہت شرما کی واپسی کے حوالے سے، ٹیم انتظامیہ محتاط انداز اپنا رہی ہے اور انہیں جلدی میدان میں اتارنے کے حق میں نہیں ہے۔ جے وردھنے نے روہت کی صورتحال پر بتایا، “روہت نے کل دوڑنا شروع کیا، ہم روزانہ کی بنیاد پر دیکھیں گے کہ وہ کیسا محسوس کرتے ہیں۔ وہ اپنے جسم کو کسی اور سے بہتر جانتے ہیں، لہذا یہ کوئی سنجیدہ مسئلہ نہیں ہے لیکن ساتھ ہی ہم انہیں دھکیلنا نہیں چاہتے اور ابھی سیزن کا آغاز ہے۔” یہ ٹیم کی جانب سے اپنے اہم کھلاڑی کی صحت کو ترجیح دینے کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے تاکہ وہ مکمل فٹنس کے ساتھ میدان میں واپس آ سکیں۔
اختتامی طور پر، ممبئی انڈینز کے لیے یہ ایک مشکل وقت ہے، لیکن ماہیلہ جے وردھنے کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ٹیم انتظامیہ اور کھلاڑی صورتحال کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اپنی خامیوں کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ آنے والے میچز ممبئی انڈینز کے لیے بہت اہم ہوں گے تاکہ وہ ٹورنامنٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر سکیں اور اپنی کھوئی ہوئی “چمک” واپس حاصل کر سکیں۔