[CRK] آکاش چودھری نے فاسٹیسٹ فسٹ کلاس ففٹی بنائی – رنجی ٹرافی میں تاریخی چھے چھے
[CRK]
آکاش چودھری کا تاریخی کارنامہ
مینگا لایا کی ٹیم کے 25 سالہ آل راؤنڈر آکاش چودھری نے ایک دن میں کرکٹ کی تاریخ کے سب سے کم وقت میں فسٹ کلاس کرکٹ کا نصف سو بناتے ہوئے سب سے تیز ریکارڈ قائم کیا۔ یہ کارنامہ رنجی ٹرافی کے پلیٹ گروپ میچ میں ارونچل پردیش کے خلاف سورت میں ہوا۔
آٹھ مسلسل چھے اور گیارہ گیندوں میں ففٹی
چودھری نے میچ کے دوسرے دن 126ویں اوور میں بائیں ہاتھ کے اسپنر لمار دابی کے خلاف آٹھ مسلسل چھے مارے۔ اس کے فوراً بعد اگلے اوور میں اسپنر ٹی این آر موہت کے خلاف دو اور چھے لگائے۔ اس طرح اس نے صرف گیارہ گیندوں میں اپنی ففٹی مکمل کی۔ اس ریکارڈ کے ساتھ وہ صرف دو دیگر کھلاڑیوں—گیری سوبیرس اور راوی شاستری—کے ساتھ اس سنگم میں شامل ہوا۔ مائیک پروکٹر نے بھی چھے مسلسل چھے مارے تھے لیکن دو اوورز پر پھیل کر۔
ریکارڈ کی تفصیل اور تاریخی پس منظر
یہ ففٹی پہلے سے موجود ریکارڈ—جو 2012 میں وین وائٹ نے 12 گیندوں میں بنائی تھی—سے ایک گیند کم کر کے توڑی۔ وقت کے لحاظ سے بھی یہ دوسری سب سے تیز ففٹی ہے؛ اس نے صرف نو منٹ لگائے جبکہ سب سے تیز ریکارڈ کلیو ان مین کا ہے جو 1965 میں صرف آٹھ منٹ میں 13 گیندوں میں ففٹی بنائی تھی۔
میچ کا نتیجہ اور چودھری کی دیگر کارکردگی
چودھری نے صرف 50 رن نہ بنائے بلکہ میچ میں اپنی باؤلنگ سے بھی ٹیم کو اہم برتری دلائی۔ میگا لایا نے 628 رن بنائے اور اعلان کیا کہ ان کی ٹیم نے 628/6 پر اننگز بند کردی۔ ارونچل پردیش صرف 73 رن بنا سکا، جہاں چودھری نے ایک وکٹ لی۔ فالو اپ میں دو مزید وکٹیں لے کر مخالف ٹیم 29/3 پر رہ گئی۔
کیریئر کا جائزہ
یہ میچ اس کے 31ویں فسٹ کلاس میچ کی حیثیت سے آیا۔ اس سے پہلے اس نے 503 رن بنائے تھے، اوسط 14.37 کے ساتھ، صرف دو نصف سو کے ساتھ۔ اس کے علاوہ اس نے 28 لسٹ‑اے اور 30 ٹی‑20 میچ بھی کھیلے ہیں۔ باؤلنگ میں اس کے پاس 87 فسٹ کلاس وکٹیں ہیں، اوسط 29.97 کے ساتھ، لسٹ‑اے میں 37 وکٹیں اور ٹی‑20 میں 28 وکٹیں ہیں۔
پچھلے میچ کا ذکر
چودھری نے اس تاریخی ففٹی سے پہلے بھی اپنی طاقت کا جادہ دکھایا تھا؛ بہار کے خلاف میچ میں اس نے 62 گیندوں میں 60 رن بنائے اور چار چھے بھی مارے تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس کے جارحانہ کھیلنے کا انداز اس کے کیریئر کا حصہ رہا ہے۔
آنے والے میچز اور توقعات
آکاش چودھری کی یہ کارکردگی نہ صرف مینگا لایا کے لیے حوصلہ افزا ہے بلکہ اس سے انڈین ڈومیسٹک کرکٹ میں نئی توانائی کا بھی اشارہ ملتا ہے۔ اس کے فاسٹ اسٹرائیک اور سمینگ دونوں مہارتیں اسے ٹیم کے لیے قیمتی اسٹیٹک بناتی ہیں۔ مستقبل کے میچز میں اس سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اسی جارحیت کے ساتھ اپنی ٹیم کو جیت کی طرف لے جائے گا۔
یہ ریکارڈ اور اس کے نازک لمحات نہ صرف میگا لایا کے شائقین کے دلوں میں بسا ہے، بلکہ پوری کرکٹ دنیا کو بھی حیران کر گیا ہے۔ آکاش چودھری نے ثابت کیا کہ محنت، ہمت اور صحیح موقع پر درست فیصلہ کر کے کوئی بھی ریکارڈ توڑا جا سکتا ہے۔
