روہت شرما ویرات کوہلی کے ریکارڈ کے قریب، آئی پی ایل میں مزیدمدمقابلی کا امکان
روہت شرما، ویرات کوہلی کے سب سے بڑے ریکارڈ کے قریب پہنچ گئے
ویرات کوہلی اور روہت شرما نے ایک دہائی سے زائد عرصے تک آئی پی ایل میں نہ صرف اپنی ٹیموں کی قیادت کی، بلکہ ایک دوسرے کے خلاف بیٹنگ کے محاذ پر بھی برابر کا مقابلہ کیا۔ دونوں بیٹسمین کی لگاتار کارکردگی، طویل عرصے تک فارم میں رہنا، اور مخالف باؤلرز پر غلبہ نے انہیں لیگ کے مادہ جدید اسٹارز بنا دیا۔
ایک ریکارڈ، دو عظیم بیٹسمین
وہ وقت جب ویرات کوہلی کو آئی پی ایل میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز حاصل ہے، اب اسی کے ایک اور اہم ریکارڈ پر روہت شرما کی نظر ہے: ایک ہی مخالف ٹیم کے خلاف سب سے زیادہ رنز۔
آئی پی ایل میں ایک ہی ٹیم کے خلاف مسلسل بڑے اسکور کرنا نہایت مشکل ہے۔ کیونکہ ہر سال ٹیمیں اپنی اسٹریٹجی تبدیل کرتی ہیں، باؤلرز کا ترکیب بدل جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود روہت شرما نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کے خلاف اپنی برتری کو برقرار رکھا ہے۔
آئی پی ایل میں ایک حریف کے خلاف سب سے زیادہ رنز
اس فہرست کی سر فہرست ویرات کوہلی ہیں، جنہوں نے پنجاب کنگز کے خلاف اپنے ریکارڈ توڑ اسکورنگ کے ذریعے ایک الگ مقام بنایا ہے۔ لیکن روہت شرما کا نام بھی اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے، اور وہ تیزی سے اس فاصلے کو کم کر رہے ہیں۔
روہت شرما نے اب تک کے کے آر کے خلاف 37 میچز میں 1176 رنز بنائے ہیں، جس میں سات نصف سنچریاں اور ایک مکمل سنچری بھی شامل ہے۔ ان کا اوسط 39.2 ہے جو کہ آئی پی ایل میں کسی بھی بیٹسمین کے لیے قابل فخر ہے۔
ایڈن گارڈنز، روہت شرما کا جادوئی میدان
کے کے آر کے خلاف روہت کی کامیابی صرف مجموعی بنیاد پر نہیں، بلکہ خاص طور پر ایڈن گارڈنز میں ان کا جادو دوبالا ہے۔ میدان جہاں کے کے آر کا گڑھ ہے، وہیں روہت شرما نے بھی اپنے جوہر دکھائے۔
ایڈن گارڈنز میں روہت نے 446 رنز اسکور کیے ہیں، صرف کے کے آر کے خلاف، جس کا اوسط 49.55 اور اسٹرائیک ریٹ 138.08 ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف ایک بات ثابت کرتے ہیں: جیسے کے کے آر کے لیے ایڈن گارڈنز ایک طاقت ہے، ویسے ہی روہت شرما کے لیے یہ ایک کھیل کا میدان سے کہیں زیادہ ہے۔
آئی پی ایل 2026: ابتدائی دھماکہ، پھر سست روی
آئی پی ایل 2026 میں روہت شرما نے شاندار آغاز کیا تھا۔ پہلے میچ میں ہی، ایڈن گارڈنز پر، انہوں نے 35 گیندوں میں 78 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی، جس نے تمام توقعات کو جنم دیا کہ شاید یہ ان کا ایک اور یادگار سیزن ہوگا۔
لیکن اس کے بعد چوٹوں اور بیٹنگ فارم کی کمی کے باعث وہ پچھلے مراحل میں ناکام رہے۔ اس سیزن میں ان کے مجموعی رنز 283 ہیں، اور ریورس فکسر میں صرف 15 رنز بنانے سے یہ واضح ہوا کہ 39 سالہ اوپنر کے لیے یہ سیزن بہتر نہیں رہا۔
مستقل مزاجی کا اعزاز
اگرچہ ویرات کوہلی اس فہرست میں تین بار شامل ہیں (پنجاب کنگز، سی ایس کے، اور دہلی کیپیٹلز کے خلاف)، لیکن روہت شرما کی کے کے آر کے خلاف مسلسل کارکردگی بھی قابل ستائش ہے۔ ڈیوڈ وارنر بھی پنجاب کنگز کے خلاف اپنی کارکردگی کی بنا پر اس فہرست میں نمایاں ہیں۔
لیکن جہاں تک روہت شرما کا تعلق ہے، تو وہ نہ صرف ایک ٹیم کے خلاف کامیابی حاصل کر رہے ہیں، بلکہ ایک ممکنہ اور قریبی مستقبل میں وہ ویرات کوہلی کے اس ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ، آئی پی ایل کی تاریخ میں نہ صرف ان دونوں دنوں کی یادیں سنہری حروف میں لکھی جائیں گی، بلکہ یہ مقابلہ بھی کرکٹ کے شائقین کے دلوں پر نقش رہے گا۔
