لکھنؤ سپر جائنٹس کے نئے سٹار آکاش سنگھ کون ہیں؟ آئی پی ایل 2026 میں سی ایس کے کے خلاف شاندار کارکردگی
آئی پی ایل 2026: آکاش سنگھ کا اکانہ اسٹیڈیم میں دھماکہ خیز آغاز
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کا سیزن اپنے عروج پر ہے اور لکھنؤ کے اکانہ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے 59ویں میچ میں ایک نیا ہیرو سامنے آیا ہے۔ لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) نے چنئی سپر کنگز (CSK) کے خلاف اہم مقابلے میں اپنی پلیئنگ الیون میں بڑی تبدیلیاں کیں، جن میں سب سے اہم فیصلہ نوجوان فاسٹ باؤلر آکاش سنگھ کو شامل کرنا تھا۔ آکاش سنگھ نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور میچ کے آغاز ہی میں اپنی برق رفتار گیند بازی سے سی ایس کے کے ٹاپ آرڈر کو ہلا کر رکھ دیا۔
اپنے پہلے ہی اوور سے انہوں نے گیند کو دونوں طرف سوئنگ کر کے بلے بازوں کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ پاور پلے کے دوران انہوں نے تین اوورز کرائے اور سی ایس کے کے دونوں اوپنرز، رتوراج گائیکواڑ اور سنجو سیمسن کو آؤٹ کر کے لکھنؤ کو ایک بہترین پوزیشن میں لا کھڑا کیا۔ اس کارکردگی نے نہ صرف اسٹیڈیم میں موجود تماشائیوں کو بلکہ کرکٹ ماہرین کو بھی اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔

آکاش سنگھ کون ہیں؟ ایک باصلاحیت بائیں ہاتھ کے پیسر کا پروفائل
آکاش سنگھ کا تعلق راجستھان کے شہر بھرت پور سے ہے۔ وہ ایک بائیں ہاتھ کے درمیانے درجے کے تیز گیند باز ہیں جن کی سب سے بڑی طاقت نئی گیند کو سوئنگ کرنا اور پچ سے موومنٹ حاصل کرنا ہے۔ آکاش سنگھ آئی پی ایل کے منظر نامے کے لیے کوئی نیا نام نہیں ہیں، لیکن 2026 کے سیزن میں ان کی کارکردگی نے انہیں ایک نئی پہچان دی ہے۔
وہ پہلی بار 2020 کے آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ کے دوران قومی سطح پر سرخیوں میں آئے تھے، جہاں وہ بھارتی ٹیم کے کلیدی رکن تھے جس نے فائنل تک رسائی حاصل کی تھی۔ اس ٹورنامنٹ میں ان کی گیند بازی نے ثابت کر دیا تھا کہ وہ مستقبل کے ایک بڑے کھلاڑی بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آئی پی ایل کا سفر: مختلف فرنچائزز کے ساتھ تجربہ
آکاش سنگھ کا آئی پی ایل سفر کافی متنوع رہا ہے۔ لکھنؤ سپر جائنٹس میں شامل ہونے سے پہلے وہ راجستھان رائلز (RR)، چنئی سپر کنگز (CSK) اور سن رائزرز حیدرآباد (SRH) جیسے بڑے ناموں کے ساتھ منسلک رہ چکے ہیں۔
- 2023 کا سیزن: انہوں نے چنئی سپر کنگز کی نمائندگی کرتے ہوئے 6 میچوں میں 5 وکٹیں حاصل کیں۔
- 2025 کا سیزن: لکھنؤ سپر جائنٹس نے انہیں 30 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر خریدا۔ اس سیزن میں انہوں نے 3 میچ کھیلے اور 4 وکٹیں حاصل کیں، جس میں پنجاب کنگز کے خلاف ان کی بہترین کارکردگی 30 رنز کے عوض 2 وکٹیں تھی۔
- 2026 کا سیزن: ان کی افادیت کو دیکھتے ہوئے ایل ایس جی نے انہیں 30 لاکھ روپے کی تنخواہ پر برقرار رکھا، اور انہوں نے سی ایس کے کے خلاف اپنی سلیکشن کو درست ثابت کر دیا۔
انڈر 19 ورلڈ کپ کا تنازعہ اور آئی سی سی کی پابندی
آکاش سنگھ کے کیریئر کا ایک پہلو ان کا جارحانہ مزاج بھی ہے۔ 2020 کے انڈر 19 ورلڈ کپ فائنل میں بنگلہ دیش کے خلاف میچ کے بعد ہونے والی بدمزگی میں وہ بھی شامل تھے۔ جنوبی افریقہ میں کھیلے گئے اس فائنل کے اختتام پر دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی تھی، جس کے بعد آئی سی سی نے آکاش سنگھ سمیت پانچ کھلاڑیوں پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے تحت جرمانہ عائد کیا تھا۔
آکاش سنگھ اور روی بشنوئی کو آئی سی سی کے آرٹیکل 2.21 کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا تھا، جو کھیل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہے۔ اس واقعے کے باوجود، اس ٹورنامنٹ میں ان کی کارکردگی شاندار رہی تھی، جہاں انہوں نے 7 وکٹیں حاصل کیں اور بھارت کو رنر اپ بنوانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انوکھا جشن: ‘پرچی سیلیبریشن’ اور جارحانہ انداز
سی ایس کے کے خلاف میچ میں آکاش سنگھ نے 4 اوورز میں صرف 26 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے پہلے کپتان رتوراج گائیکواڑ کو چلتا کیا، پھر سنجو سیمسن اور اس کے بعد ارویل پٹیل کو آؤٹ کیا۔ ہر وکٹ کے بعد ان کا جشن منانے کا انداز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے۔
آکاش نے اپنی ہر وکٹ کے بعد ایک ‘پرچی’ یا نوٹ نکال کر دکھایا جس پر لکھا تھا، “#Akki on fire – Akash knows how to take wickets in T20 game”۔ یہ جشن کا انداز مداحوں کے لیے نیا اور دلچسپ تھا۔ تاہم، یہ پہلا موقع نہیں ہے جب انہوں نے اپنے جشن سے توجہ حاصل کی ہو۔ 2025 میں گجرات ٹائٹنز کے خلاف میچ کے دوران، انہوں نے اپنے ساتھی کھلاڑی ڈگیش راٹھی کے جشن کے انداز کی نقل کی تھی جب انہوں نے جوس بٹلر کی اہم وکٹ لی تھی۔
مستقبل کی توقعات
آکاش سنگھ کی اس کارکردگی نے لکھنؤ سپر جائنٹس کے باؤلنگ اٹیک کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ٹیم کو ٹاپ آرڈر وکٹوں کی ضرورت تھی، آکاش نے ثابت کیا کہ وہ دباؤ میں بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ ان کی سوئنگ باؤلنگ اور ٹی 20 کرکٹ میں وکٹ لینے کی صلاحیت انہیں آنے والے میچوں میں ایل ایس جی کے لیے ایک ناگزیر کھلاڑی بنا سکتی ہے۔
کرکٹ کے مداحوں کو امید ہے کہ یہ نوجوان کھلاڑی اپنی کارکردگی میں تسلسل برقرار رکھے گا اور مستقبل میں بھارتی قومی ٹیم کے دروازے پر بھی دستک دے گا۔
