Cricket News

بھارت بمقابلہ افغانستان: عاقب نبی کی شاندار کارکردگی کے باوجود ٹیم میں شمولیت مشکوک

Sneha Roy · · 1 min read

بھارتی کرکٹ کا مستقبل: عاقب نبی اور سلیکشن کا معمہ

رنجی ٹرافی 2025/26 کا سیزن جموں و کشمیر کے فاسٹ بولر عاقب نبی کے لیے ایک یادگار سفر ثابت ہوا، جہاں انہوں نے اپنی شاندار بولنگ سے نہ صرف ٹیم کو پہلی بار ٹائٹل جتوانے میں مدد کی بلکہ 10 میچوں میں 60 وکٹیں حاصل کرکے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ تاہم، اب جبکہ بھارت اور افغانستان کے درمیان سیریز قریب ہے، کرکٹ کے حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا یہ 29 سالہ کھلاڑی قومی ٹیم میں جگہ بنانے کے قابل ہے یا نہیں۔

کیا عاقب نبی ٹیسٹ ڈیبیو کے لیے تیار ہیں؟

بی سی سی آئی (BCCI) کی جانب سے جلد ہی ٹیسٹ اور ون ڈے اسکواڈ کا اعلان متوقع ہے۔ شوبمن گل کی قیادت میں بننے والی ٹیم میں جسپریت بمراہ کی شمولیت پر اب بھی سوالیہ نشان برقرار ہے۔ اگر بمراہ کو آرام دیا جاتا ہے تو محمد سراج اور پرسدھ کرشنا کے ساتھ تیسرے فاسٹ بولر کا انتخاب ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ عاقب نبی اور گرنور برار کے نام اس فہرست میں سب سے اوپر ہیں، لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔

اگرچہ عاقب نبی کی رنجی ٹرافی میں کارکردگی شاندار رہی ہے، لیکن ان کی بولنگ کی رفتار سلیکٹرز کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ میں جس رفتار کی ضرورت ہوتی ہے، عاقب نبی اس معیار پر پورے اترتے دکھائی نہیں دیتے۔

بی سی سی آئی کی حکمت عملی اور فاسٹ بولنگ کا بحران

ایک معروف صحافی کے مطابق، عاقب نبی کی 60 وکٹیں اپنی جگہ، لیکن ان کی بولنگ کی رفتار کسی کو بھی زیادہ متاثر نہیں کر سکی ہے۔ حتیٰ کہ اگر انہیں 15 رکنی اسکواڈ میں شامل کر بھی لیا جاتا ہے، تب بھی ان کا ٹیسٹ ڈیبیو کرنا کافی مشکل لگتا ہے۔ بی سی سی آئی کی پالیسی ہمیشہ سے فارمیٹس کو الگ رکھنے کی رہی ہے، اور اسی وجہ سے ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھا کھیلنے والے ہر کھلاڑی کو فوری طور پر قومی ٹیم میں نہیں لایا جاتا۔

آئی پی ایل کی کارکردگی بمقابلہ ڈومیسٹک فارم

عاقب نبی کو دہلی کیپیٹلز کی جانب سے آئی پی ایل 2026 میں موقع ملا، لیکن وہ وہاں اپنی چھاپ چھوڑنے میں ناکام رہے۔ چار میچوں کے باوجود وہ ایک بھی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔ دوسری جانب، گرنور برار کو بی سی سی آئی طویل عرصے سے مستقبل کے فاسٹ بولر کے طور پر تیار کر رہی ہے، اگرچہ انہوں نے حال ہی میں ریڈ بال کرکٹ زیادہ نہیں کھیلی۔

ون ڈے اسکواڈ اور مستقبل کے چیلنجز

ٹیسٹ کے علاوہ ون ڈے فارمیٹ میں بھی ٹیم مینجمنٹ کو سخت فیصلوں کا سامنا ہے۔ 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے ویرات کوہلی اور روہت شرما کے مستقبل کے بارے میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔ پرنس یادو اور کارتک تیاگی جیسے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو ون ڈے اسکواڈ کے لیے زیر غور لایا جا رہا ہے، جبکہ ہاردک پانڈیا کی فٹنس بھی ٹیم کے لیے ایک مستقل درد سر بنی ہوئی ہے۔

نتیجہ

بھارتی سلیکٹرز کے لیے یہ دور انتہائی نازک ہے۔ جہاں ایک طرف نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے کا دباؤ ہے، وہیں ٹیم کی متوازن ساخت اور بین الاقوامی معیار کے تقاضے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ عاقب نبی کے لیے یہ ایک مشکل وقت ہے، کیونکہ ڈومیسٹک کرکٹ کی کامیابی کا مطلب خود بخود بین الاقوامی ٹیم میں جگہ نہیں ہوتا۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ کیا سلیکٹرز رفتار پر سمجھوتہ کرکے تکنیک کو ترجیح دیتے ہیں یا عاقب نبی کو اپنی جگہ بنانے کے لیے مزید انتظار کرنا پڑے گا۔