News

اذان اویس کی شاندار سنچری: ڈیبیو پر تاریخ رقم کرنے والی اننگز کی کہانی

Danish Qureshi · · 1 min read

ڈیبیو پر سنچری: اذان اویس کا شاندار آغاز

کرکٹ کی تاریخ میں بہت کم کھلاڑی ایسے ہوتے ہیں جو اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں سنچری بنا کر خود کو ایک بہترین کھلاڑی کے طور پر منوا لیں۔ پاکستان کے نوجوان اوپنر اذان اویس نے بنگلہ دیش کے خلاف اپنے ڈیبیو میچ میں کچھ ایسا ہی کارنامہ انجام دیا ہے۔ 21 سالہ اذان اویس ٹیسٹ ڈیبیو پر سنچری بنانے والے 14 ویں پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں۔

خوفناک آغاز اور ذہنی مضبوطی

میچ کا آغاز اذان اویس کے لیے اتنا آسان نہیں تھا۔ اننگز کی پہلی ہی گیند پر بنگلہ دیشی فاسٹ بولر ناہید رانا کی تیز رفتار گیند سیدھی ان کے ہیلمٹ پر جا لگی۔ اذان نے اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اس ضرب کے بعد وہ تقریباً پانچ منٹ تک مکمل طور پر حواس باختہ رہے تھے۔ تاہم، اس مشکل صورتحال میں انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ اذان کا کہنا ہے کہ ‘جب گیند ہیلمٹ پر لگی تو میں پانچ منٹ کے لیے بالکل غائب ہو گیا تھا، لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ اب وقت ہے کہ میں اپنی اصل صلاحیت دکھاؤں۔’

میدان پر موجود طبی عملے نے ان کا دو بار کنکشن ٹیسٹ کیا جس کے بعد وہ بیٹنگ جاری رکھنے کے قابل ہوئے۔ یہ واقعہ ان کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔

حریف بولر پر جوابی حملہ

ہیلمٹ پر گیند لگنے کے بعد اذان اویس کا اعتماد مزید بڑھ گیا۔ انہوں نے خاص طور پر ناہید رانا کے خلاف جارحانہ انداز اپنایا اور ان کی شارٹ پچ گیندوں پر خوب رنز بنائے۔ اذان نے ناہید رانا کی 23 گیندوں پر 27 رنز بنائے، جس میں پانچ چوکے شامل تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی سنچری بھی اسی بولر کے خلاف مکمل کی جس نے انہیں میچ کے شروع میں تکلیف پہنچائی تھی۔

ڈومیسٹک کرکٹ کا تجربہ

اپنی اس شاندار کارکردگی کا سہرا اذان اویس نے گزشتہ دو سالوں کی ڈومیسٹک کرکٹ کو دیا ہے۔ وہ گزشتہ دو سالوں میں پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں۔ اذان نے بتایا کہ ‘میں نے گزشتہ دو سالوں میں 33 فرسٹ کلاس میچز کھیلے ہیں۔ ہمیں ڈومیسٹک کرکٹ میں ہر قسم کی پچز فراہم کی گئیں، جس کی وجہ سے مجھے اس گرین ٹاپ وکٹ پر کھیلنے میں کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئی۔ ہیوی ڈیوکس بال کے ساتھ پریکٹس نے مجھے ذہنی طور پر تیار رکھا تھا۔’

پر سکون مزاج اور مستقبل کے ارادے

اپنی سنچری مکمل کرنے کے بعد اذان کا ردعمل نہایت پرسکون تھا، جو ان کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘میں ایک پرسکون مزاج کا انسان ہوں، اس لیے میں نے عام جشن منایا۔ یہ میرے لیے ایک خواب کی تعبیر جیسا ہے کہ میں اپنے ملک کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہا ہوں اور میں نے اچھا پرفارم کیا۔’

ٹیم پاکستان کی پوزیشن

گرین ٹاپ وکٹ پر جہاں اکثر بیٹسمین مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، وہاں پاکستان کے ٹاپ آرڈر نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ اذان اویس اور ان کے ساتھیوں کی بدولت پاکستان نے 210 رنز پر صرف ایک وکٹ کھوئی۔ یہ کارکردگی ظاہر کرتی ہے کہ ٹیم اب بین الاقوامی پچز کے چیلنجز کو سمجھنے اور ان کے مطابق حل نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اذان اویس کا یہ ڈیبیو نہ صرف ان کے ذاتی کیریئر کے لیے اہم ہے بلکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے بھی ایک خوش آئند پیغام ہے۔ کرکٹ کے شائقین کو امید ہے کہ یہ نوجوان کھلاڑی آنے والے وقت میں پاکستان کے لیے کئی اور شاندار اننگز کھیلے گا۔

Avatar photo
Danish Qureshi

Danish Qureshi covers team rankings, win-loss records, and comparative statistical analysis in franchise cricket.