بابر اعظم کا کرکٹ کی دنیا پر راج: اس دہائی میں سب سے زیادہ انٹرنیشنل رنز بنانے والے کھلاڑی
بابر اعظم کی کرکٹ کی دنیا میں شاندار حکمرانی
پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بلے باز بابر اعظم نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ موجودہ دور کے بہترین بیٹرز میں سے ایک ہیں۔ سلہٹ میں بنگلہ دیش کے خلاف سیریز کے فیصلہ کن دوسرے ٹیسٹ میچ میں، انجری کے بعد ٹیم میں واپسی کرتے ہوئے بابر اعظم نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ 84 گیندوں پر 68 رنز کی ان کی اننگز نہ صرف ٹیم کے لیے اہم تھی بلکہ اس نے انہیں ایک بڑا سنگ میل عبور کرنے میں بھی مدد دی۔
9,000 انٹرنیشنل رنز کا تاریخی سنگ میل
بابر اعظم نے 2020 کی دہائی میں اب تک 9,000 انٹرنیشنل رنز مکمل کر لیے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، انہوں نے 212 میچوں کی 231 اننگز میں 42.53 کی اوسط سے 9,060 رنز بنا رکھے ہیں۔ اس عرصے کے دوران انہوں نے 17 سنچریاں بھی اسکور کی ہیں، جو جو روٹ اور شبمن گل کے بعد اس دہائی میں کسی بھی بلے باز کی جانب سے سب سے زیادہ سنچریاں ہیں۔

ویرات کوہلی کہاں کھڑے ہیں؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ بابر اعظم کے ہم عصر بھارتی بلے باز ویرات کوہلی اس دہائی کے ٹاپ پانچ رن سکوررز کی فہرست میں بھی شامل نہیں ہیں۔ کوہلی، جنہوں نے 2010 کی دہائی میں عالمی کرکٹ پر راج کیا تھا، 2020 کے بعد سے اب تک 198 اننگز میں 6,873 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ کوہلی کی ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹس سے ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی مجموعی رنز کی رفتار میں واضح کمی آئی ہے، جبکہ بابر اعظم تینوں فارمیٹس میں مسلسل اپنی کارکردگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کی صورتحال
سلہٹ ٹیسٹ کے دوسرے دن بنگلہ دیشی بولرز نے پاکستانی بیٹنگ لائن اپ کو 232 رنز پر آؤٹ کر کے 46 رنز کی اہم برتری حاصل کر لی۔ ناہید رانا اور تیج الاسلام نے تین تین وکٹیں حاصل کیں، جبکہ پاکستان کی جانب سے بابر اعظم ہی واحد بلے باز تھے جنہوں نے نصف سنچری اسکور کی۔ بنگلہ دیش نے دن کے اختتام تک اپنی برتری کو مزید مستحکم کر لیا ہے اور میچ ایک دلچسپ موڑ پر داخل ہو چکا ہے۔
مستقبل کے چیلنجز اور بابر کا عزم
بابر اعظم کی یہ اننگز اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ وہ دباؤ کے لمحات میں اپنی ٹیم کو سہارا دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ پاکستانی ٹیم اس وقت بنگلہ دیش کے خلاف مشکل صورتحال سے دوچار ہے، لیکن بابر کی فارم میں واپسی ٹیم کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔ کرکٹ کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر بابر اسی طرح رنز بناتے رہے تو وہ اس دہائی کے اختتام تک کئی اور ریکارڈز اپنے نام کر لیں گے۔
بابر اعظم کی یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی محنت کا ثمر ہے بلکہ یہ پاکستان کرکٹ کے لیے بھی ایک فخر کا لمحہ ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا وہ اپنی اس فارم کو جاری رکھتے ہوئے ٹیم کو سیریز میں واپسی دلانے میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں۔
