بابر اعظم کی ٹیسٹ کپتانی میں واپسی کا امکان، شان مسعود کا مستقبل خطرے میں
پاکستان کرکٹ میں ہلچل: بابر اعظم کی کپتانی میں واپسی کی بازگشت
میرپور ٹیسٹ میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں پاکستان کی شرمناک شکست نے قومی کرکٹ کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ 163 رنز پر پوری ٹیم کا ڈھیر ہو جانا نہ صرف شائقین کرکٹ کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا بلکہ اس نے ٹیم کی موجودہ قیادت پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے اب شان مسعود کی کپتانی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جا رہا ہے، جس کے بعد بابر اعظم کی بحیثیت ٹیسٹ کپتان واپسی کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔
کیا شان مسعود کا دور ختم ہونے والا ہے؟
میرپور ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد سے کپتان شان مسعود سخت دباؤ کا شکار ہیں۔ ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ، خاص طور پر چوتھی اننگز میں ناکامی نے مینجمنٹ کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگرچہ ٹیم میں نئے کھلاڑیوں جیسے عبداللہ فضل اور اذان اویس نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، لیکن تجربے کی کمی واضح طور پر محسوس کی گئی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کو سیریز بچانے کے لیے دوسرے ٹیسٹ میں سخت فیصلوں کی ضرورت ہے۔
بابر اعظم کی واپسی: ایک ناگزیر ضرورت؟
بابر اعظم کو پہلے ٹیسٹ میں انجری کا بہانہ بنا کر باہر رکھا گیا تھا، تاہم نیٹ پریکٹس کے دوران ان کی موجودگی نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اب مکمل فٹ ہیں۔ اب جبکہ ٹیم کے لیے دوسرا ٹیسٹ کسی ‘کرو یا مرو’ کی صورتحال اختیار کر چکا ہے، ماہرین کا ماننا ہے کہ بابر اعظم کا ٹیم میں شامل ہونا اب صرف ایک انتخاب نہیں بلکہ ضرورت ہے۔
پی سی بی کے باخبر ذرائع کے مطابق، بورڈ کے کئی بااثر افراد کا خیال ہے کہ بابر اعظم کو دوبارہ کپتانی دینے کا وقت آ گیا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اگر بابر اعظم دوسرے ٹیسٹ میں اپنی فارم بحال کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو انگلینڈ کے دورے سے قبل انہیں دوبارہ ٹیسٹ کپتان مقرر کیا جا سکتا ہے۔
بابر اعظم کا فارم کا بحران
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بابر اعظم خود بھی حالیہ عرصے میں اپنی فارم کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں۔ 2022 میں 1,184 رنز بنانے کے بعد سے وہ ٹیسٹ کرکٹ میں ایک بڑی اننگز کے منتظر ہیں۔ 2024 کے بعد سے ان کی کارکردگی میں تسلسل کا فقدان نظر آیا ہے، تاہم پی ایس ایل 2026 میں 558 رنز بنا کر اور پشاور زلمی کو ٹائٹل جتوا کر انہوں نے اپنی فارم کے واپسی کے اشارے دیے ہیں۔
ٹیم میں متوقع تبدیلیاں
دوسرے ٹیسٹ میں بابر اعظم کی واپسی کے لیے ٹیم مینجمنٹ کو مشکل فیصلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امام الحق یا شان مسعود میں سے کسی ایک کو ڈراپ کرنا پڑے گا، جبکہ سعود شکیل اپنی پوزیشن بچانے کے لیے مضبوط امیدوار ہیں۔ پوائنٹس ٹیبل پر ساتویں پوزیشن پر موجود پاکستان کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے سلیکٹ ٹیم اور حکمت عملی میں تبدیلی لانا ہوگی۔
مستقبل کے امکانات
بابر اعظم کی کپتانی میں واپسی کا انحصار مکمل طور پر ان کی کارکردگی پر ہے۔ اگر وہ سلہیٹ ٹیسٹ میں اپنی بیٹنگ کی پرانی جھلک دکھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو بورڈ انہیں قیادت کی ذمہ داری دوبارہ سونپنے کے لیے تیار ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان کرکٹ ٹیم اس بحران سے نکل کر دوبارہ فتح کی راہ پر گامزن ہو پاتی ہے یا نہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے مداحوں کی نظریں اب 16 مئی سے شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ پر جمی ہوئی ہیں۔ ٹیم کو نہ صرف ایک نئی حکمت عملی بلکہ ایک ایسے قائد کی ضرورت ہے جو ٹیم کو متحد رکھ کر مشکلات سے نکال سکے۔ کیا بابر اعظم دوبارہ وہ کردار ادا کر سکیں گے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
