بابر اعظم کا پاکستان کے لیجنڈز کے تنقیدی بیانات پر ردعمل
بابر اعظم کا سابق لیجنڈز کے بیانات پر مؤقف
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد سے ہی سابق کھلاڑی اور کرکٹ ماہرین ٹیم کی سخت تنقید کر رہے ہیں۔ اس تنقید کی زد میں خاص طور پر آل راؤنڈر شاداب خان رہے، جنہیں ٹیم سے ڈراپ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اب بابر اعظم نے اس معاملے پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے اپنے ساتھی کھلاڑی کی حمایت کی ہے۔
شاداب خان کا سابق کرکٹرز کو کرارا جواب
جب شاداب خان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو انہوں نے سابق لیجنڈز کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے۔ شاداب نے کہا کہ ‘ہم تنقید کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔ سابق کرکٹرز یقیناً لیجنڈز ہیں، لیکن وہ ٹیم کے لیے وہ نتائج حاصل نہیں کر سکے جو ہم نے حاصل کیے، خاص طور پر 2021 کے ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف فتح۔’
بابر اعظم نے زلمی ٹی وی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شاداب نے یہ بات جذبات میں آ کر کہی ہوگی، تاہم انہوں نے سابق کرکٹرز کے رویے پر بھی سوال اٹھایا۔ بابر کا ماننا ہے کہ اگر سابق کھلاڑی تنقید کر سکتے ہیں تو موجودہ کھلاڑیوں کا جواب دینا بھی ان کا حق ہے، لیکن اس کا انداز ہر کسی کا اپنا ہوتا ہے۔
اتحاد کی ضرورت اور مثبت تنقید کا مطالبہ
بابر اعظم نے سوشل میڈیا کے دور میں کھلاڑیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی تقسیم پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ‘آخرکار ہم آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ہمیں پاکستان ٹیم کو سپورٹ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہم جانتے ہیں کہ ورلڈ کپ میں ہماری کارکردگی اچھی نہیں تھی، لیکن سوشل میڈیا کے دور میں تنقید کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں ہے۔’
پی ایس ایل 2026 میں شاندار فارم
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں خراب کارکردگی کے باوجود، شاداب خان نے پی ایس ایل 2026 میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیے زبردست کھیل پیش کیا۔ شاداب نے 10 میچوں میں 17 وکٹیں حاصل کیں اور بیٹنگ میں بھی مؤثر رہے۔ دوسری طرف، بابر اعظم پشاور زلمی کی قیادت کرتے ہوئے شاندار فارم میں نظر آئے اور 10 میچوں میں 84 کے اوسط سے 588 رنز بنا کر ٹیم کو فائنل تک پہنچایا۔
پاکستان کرکٹ کا مستقبل
ورلڈ کپ کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے حالات کچھ زیادہ سازگار نہیں رہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے سیریز میں شکست کے بعد اب قومی ٹیم کو بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کا چیلنج درپیش ہے۔ شائقین کرکٹ اب یہ امید کر رہے ہیں کہ بابر اعظم اور شاداب خان کی فارم ٹیم کے لیے آگے چل کر فائدہ مند ثابت ہوگی۔
خلاصہ: بابر اعظم کی جانب سے اتحاد کی یہ اپیل اس وقت انتہائی اہم ہے جب پاکستان کرکٹ ٹیم کو آگے بڑھنے کے لیے یکجہتی کی ضرورت ہے۔ سابق لیجنڈز اور موجودہ کھلاڑیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ختم کرنا ہی کرکٹ کی بہتری کا واحد راستہ ہے۔
