بابر اعظم کی قومی ٹیم میں واپسی: پی سی بی کن 3 کھلاڑیوں کو ڈراپ کر سکتا ہے؟
بابر اعظم کا شاندار کم بیک: کیا قومی ٹیم میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں؟
پاکستان کرکٹ کے افق پر بابر اعظم کا نام ایک بار پھر چھایا ہوا ہے۔ پی ایس ایل 2026 میں اپنی کپتانی اور بیٹنگ سے پشاور زلمی کو دوسری بار ٹائٹل جتوانے کے بعد، دائیں ہاتھ کے اس بلے باز نے اپنے ناقدین کو خاموش کروا دیا ہے۔ بابر نے ٹورنامنٹ کے 11 میچوں میں 73.50 کی شاندار اوسط کے ساتھ 588 رنز بنائے، جو ان کی فارم اور اعتماد کی بحالی کا واضح ثبوت ہے۔
بابر اعظم کی پی ایس ایل 2026 میں کارکردگی – (ماخذ: اے ایف پی)
سلیکٹرز پر واپسی کے لیے دباؤ
ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں مایوس کن کارکردگی (4 اننگز میں صرف 91 رنز) کے بعد بابر اعظم شدید تنقید کی زد میں تھے۔ یہاں تک کہ انہیں ون ڈے ٹیم سے بھی ڈراپ کر دیا گیا تھا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اب آگے بڑھ چکا ہے۔ تاہم، پی ایس ایل میں ان کی حالیہ کامیابی نے صورتحال بدل دی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بابر اعظم کی واپسی کے لیے پی سی بی کن کھلاڑیوں کو قربان کرے گا؟
1. سائم ایوب (ٹی 20 فارمیٹ)
اگرچہ بابر اعظم کو باضابطہ طور پر ٹی 20 ٹیم سے ڈراپ نہیں کیا گیا تھا، لیکن پی ایس ایل میں ان کی شاندار کارکردگی نے سائم ایوب کی جگہ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سائم ایوب طویل عرصے سے بیٹنگ میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں وہ صرف 70 رنز بنا سکے جبکہ پی ایس ایل کے 13 میچوں میں بھی وہ اپنی ساکھ کے مطابق کارکردگی نہ دکھا سکے۔ چونکہ بابر اعظم اوپننگ کے لیے بہترین آپشن ہیں، اس لیے سائم ایوب کا ٹیم سے باہر ہونا ایک منطقی فیصلہ دکھائی دیتا ہے۔
2. شامل حسین (ون ڈے فارمیٹ)
بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے سیریز میں پاکستان نے شامل حسین کو موقع دیا تھا، لیکن 21 سالہ یہ بائیں ہاتھ کے بیٹر متاثر کرنے میں ناکام رہے۔ دو اننگز میں صرف 10 رنز بنا کر انہوں نے سلیکٹرز کو مایوس کیا ہے۔ اگر بابر اعظم ون ڈے میں واپسی کرتے ہیں، تو شامل حسین کا ٹیم سے اخراج تقریباً یقینی ہے، کیونکہ ٹیم کو تجربہ کار کھلاڑی کی اشد ضرورت ہے۔
3. صاحبزادہ فرحان (ون ڈے فارمیٹ)
صاحبزادہ فرحان بھی ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن کی جگہ خطرے میں ہے۔ انہوں نے بھی بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے ڈیبیو کیا تھا، مگر وہ تین اننگز میں صرف 64 رنز بنا سکے۔ اگر پی سی بی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ بابر اعظم کو ون ڈے میں بھی بطور اوپنر کھلایا جائے، تو صاحبزادہ فرحان کے لیے ٹیم میں جگہ برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ وہ پچاس اوور کے فارمیٹ میں اپنی فارم ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
نتیجہ
بابر اعظم کی فارم میں واپسی پاکستان کرکٹ کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اگرچہ نئے کھلاڑیوں کو آزمانا ضروری ہے، لیکن بین الاقوامی کرکٹ میں تجربے کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی سی بی سلیکشن کمیٹی بابر کی واپسی کے لیے کیا حکمت عملی اپناتی ہے اور کیا یہ تین کھلاڑی اپنی جگہ برقرار رکھ پائیں گے یا نہیں۔
آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا بابر اعظم کو فوری طور پر ٹیم میں واپس آنا چاہیے؟ ہمیں کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
