بابر اعظم کی واپسی؟ بنگلہ دیش کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد شان مسعود کی کپتانی خطرے میں
پاکستان کرکٹ میں ہلچل: شان مسعود کی قیادت پر سوالیہ نشان
ڈھاکا کے شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو بنگلہ دیش کے ہاتھوں ملنے والی شکست نے کرکٹ حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ 267 رنز کے تعاقب میں پوری پاکستانی ٹیم محض 163 رنز پر ڈھیر ہو گئی، جس کے نتیجے میں مہمان ٹیم کو 104 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست کے بعد سے کپتان شان مسعود کے مستقبل کے حوالے سے قیاس آرائیاں عروج پر ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی قیادت پر گہرے بادل منڈلا رہے ہیں۔
بابر اعظم کی دوبارہ واپسی کے امکانات
مختلف باخبر ذرائع کے مطابق، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے کچھ اہم حلقے اب بابر اعظم کو دوبارہ ٹیسٹ کپتان بنانے کے حق میں ہیں۔ بابر اعظم، جو ماضی میں بھی ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں، ایک تجربہ کار بلے باز ہیں اور ان کا کپتانی کا ریکارڈ بھی خاصا بہتر رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، بابر نے 20 ٹیسٹ میچوں میں ٹیم کی قیادت کی، جن میں سے 10 میں پاکستان کو کامیابی ملی، یعنی ان کی جیت کا تناسب 50 فیصد رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بابر اعظم فٹنس برقرار رکھتے ہیں اور دوسرے ٹیسٹ میچ میں بلے سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، تو انہیں دوبارہ کپتان بنانے کے مطالبے میں مزید شدت آئے گی۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ خود بابر اعظم بھی دوبارہ قیادت کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔
بیٹرز کی ناکامی اور ناہید رانا کا جادو
پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستانی بیٹنگ لائن اپ پوری طرح فلاپ ثابت ہوئی۔ امام الحق اپنی خراب فارم کو جاری رکھتے ہوئے صرف 2 رنز پر پویلین لوٹ گئے۔ عبداللہ فضل نے ضرور مزاحمت دکھائی اور اپنی ڈیبیو سیریز میں دوسری نصف سنچری اسکور کی، لیکن وہ تنہا ٹیم کو جیت نہ دلا سکے۔ بنگلہ دیشی پیسر ناہید رانا نے اپنی برق رفتار گیندوں سے پاکستانی بلے بازوں کو شدید مشکلات میں مبتلا رکھا۔
ناہید رانا نے 9.5 اوورز میں صرف 40 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کر کے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ انہوں نے شان مسعود، سعود شکیل اور محمد رضوان جیسے تجربہ کار بلے بازوں کو آؤٹ کر کے پاکستانی ٹیم کی کمر توڑ دی۔ بعد ازاں نعمان علی اور شاہین آفریدی کی وکٹیں لے کر انہوں نے اپنی پانچ وکٹوں کا کوٹہ مکمل کیا۔
شان مسعود کا موقف اور مستقبل
میچ کے بعد پریس کانفرنس میں شان مسعود نے تسلیم کیا کہ ٹیم مواقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی۔ انہوں نے کہا، “ہم جب بھی موقع ملا، اپنی گرفت مضبوط کرنے میں ناکام رہے۔ ہم اپنے بولرز کی کوششوں پر سوال نہیں اٹھا سکتے، لیکن ایسی پچوں پر جہاں مواقع کم ملتے ہیں، ہمیں مخالف ٹیم پر دباؤ ڈالنا چاہیے تھا، جس میں ہم ناکام رہے۔”
اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا؟
سیریز کا دوسرا اور آخری ٹیسٹ میچ سلہٹ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ہفتے سے شروع ہو رہا ہے۔ پاکستانی ٹیم کی کوشش ہوگی کہ اس میچ میں کامیابی حاصل کر کے سیریز 1-1 سے برابر کی جائے۔ تاہم، اگر بابر اعظم کو دوبارہ کپتان مقرر کیا جاتا ہے، تو یہ شان مسعود کے لیے نہ صرف کپتانی بلکہ ٹیم میں ان کی جگہ کے حوالے سے بھی ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان کرکٹ کے شائقین اب نظریں جمائے بیٹھے ہیں کہ کیا مینجمنٹ کوئی سخت فیصلہ لیتی ہے یا شان مسعود کو خود کو ثابت کرنے کا ایک اور موقع دیا جاتا ہے۔ آنے والا ٹیسٹ میچ پاکستانی کرکٹ کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
