Report

بنگلہ دیش بمقابلہ پاکستان: میرپور ٹیسٹ کے چوتھے روز مومنول اور شانتو کی شاندار مزاحمت

Aditya Kulkarni · · 1 min read

میرپور ٹیسٹ: چوتھے روز کا احوال اور بنگلہ دیش کی مستحکم پوزیشن

بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان میرپور میں جاری پہلے ٹیسٹ میچ کا چوتھا روز انتہائی سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ کھیل کے آغاز میں پاکستانی باؤلرز نے جارحانہ انداز اپنایا اور بنگلہ دیش کی دو اہم وکٹیں جلد گرا دیں، لیکن اس کے بعد مومنول حق اور نجم الحسن شانتو نے ایک بار پھر اپنی ٹیم کو بحران سے نکالا۔ لنچ کے وقفے تک بنگلہ دیش نے اپنی دوسری اننگز میں 2 وکٹوں پر 93 رنز بنائے ہیں، اور اسے پاکستان پر مجموعی طور پر 120 رنز کی برتری حاصل ہو چکی ہے۔

پاکستانی باؤلرز کا ابتدائی وار

چوتھے روز کی صبح جب کھیل کا آغاز ہوا تو آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور فلڈ لائٹس روشن کر دی گئی تھیں۔ ان حالات نے فاسٹ باؤلرز کے لیے مددگار ماحول پیدا کیا۔ محمد عباس اور حسن علی نے نئی گیند کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ پہلی اننگز کی طرح اس بار بھی بنگلہ دیشی اوپنرز پاکستانی پیس اٹیک کے سامنے بے بس نظر آئے۔

محمد عباس نے اپنی روایتی نپی تلی باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے محمود الحسن جوئے کو ایل بی ڈبلیو کیا۔ عباس کی گیند پچ پر پڑنے کے بعد تیزی سے اندر آئی اور بلے باز کے پیڈز پر لگی۔ امپائر نے انہیں آؤٹ قرار دیا، جس سے بنگلہ دیشی ٹیم دباؤ میں آ گئی۔ ابھی ٹیم اس صدمے سے سنبھلی ہی نہیں تھی کہ حسن علی نے شادمان اسلام کو پویلین کی راہ دکھا دی۔ حسن علی کی ایک اٹھتی ہوئی گیند شادمان کے بلے کے اوپری حصے سے ٹکرا کر گلی میں کھڑے فیلڈر کے ہاتھوں میں چلی گئی۔

مومنول اور شانتو کی ذمہ دارانہ شراکت داری

دو وکٹیں محض چند رنز پر گرنے کے بعد بنگلہ دیشی اننگز کو سہارے کی ضرورت تھی، اور یہ ذمہ داری ایک بار پھر مومنول حق اور نجم الحسن شانتو نے اپنے کندھوں پر لی۔ ان دونوں بلے بازوں نے پہلی اننگز میں بھی ٹیم کی پوزیشن مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ مومنول حق نے محتاط انداز اپنایا، جبکہ شانتو نے موقع ملتے ہی رنز بنانے کی رفتار کو بڑھایا۔

ان دونوں کے درمیان اب تک 70 رنز کی ناقابل شکست شراکت داری قائم ہو چکی ہے، جس نے پاکستانی باؤلرز کے حوصلے پست کر دیے ہیں۔ جیسے جیسے سیشن آگے بڑھا، گیند کی چمک کم ہوئی اور بیٹنگ کے لیے حالات سازگار ہوتے گئے۔ مومنول حق 37 اور نجم الحسن شانتو 34 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں اور میچ کو پاکستان کی پہنچ سے دور لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پچ کی صورتحال اور اسپنرز کا کردار

میرپور کی پچ پر چوتھے روز متغیر باؤنس (Variable Bounce) دیکھنے کو مل رہا ہے، جو بلے بازوں کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ سلمان علی آغا نے اپنی اسپن باؤلنگ سے کچھ خطرات پیدا کیے، لیکن وہ کوئی وکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ایک موقع پر محمد رضوان نے سلمان آغا کی گیند پر مومنول حق کا ایک مشکل کیچ چھوڑا، جو پاکستان کے لیے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔

لنچ سے قبل آخری اوورز میں بنگلہ دیشی بلے بازوں نے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ مومنول حق نے سلمان آغا کو کریز سے باہر نکل کر ایک شاندار چھکا بھی رسید کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میزبان ٹیم اب جارحانہ موڈ میں آ رہی ہے۔

پاکستان کی پہلی اننگز کا مختصر جائزہ

اس سے قبل پاکستان کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 386 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔ پاکستان کی جانب سے اویس نے شاندار 103 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ فضل نے 60، محمد رضوان نے 59 اور سلمان علی آغا نے 58 رنز بنا کر ٹیم کو بنگلہ دیش کے 413 رنز کے جواب میں ایک معقول اسکور تک پہنچایا۔ بنگلہ دیش کی جانب سے مہدی حسن میراز نے تباہ کن باؤلنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ تیج الاسلام اور تسکین احمد نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

میچ کا مستقبل: کیا پاکستان واپسی کر پائے گا؟

بنگلہ دیش کی 120 رنز کی برتری اب ایک خطرناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ میرپور کی پچ پر چوتھی اننگز میں 200 سے زائد رنز کا تعاقب کرنا کسی بھی ٹیم کے لیے ناممکن کے قریب ہوتا ہے۔ پاکستان کو اگر اس میچ میں واپسی کرنی ہے تو اسے لنچ کے فوراً بعد مومنول اور شانتو کی اس جوڑی کو توڑنا ہوگا اور بنگلہ دیش کو جلد سے جلد آؤٹ کرنا ہوگا۔ دوسری طرف، بنگلہ دیشی بلے بازوں کی کوشش ہوگی کہ وہ اس برتری کو 250 یا 300 تک لے جائیں تاکہ پاکستان پر نفسیاتی دباؤ بڑھایا جا سکے۔