Bangladesh Cricket

بنگلہ دیش بمقابلہ پاکستان: تائج الاسلام کی تباہ کن باؤلنگ، بنگلہ دیش کی تاریخی فتح

Sneha Roy · · 1 min read

سلہٹ ٹیسٹ کا سنسنی خیز اختتام: بنگلہ دیش کی تاریخی فتح

بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم نے سلہٹ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ کے پانچویں اور آخری دن پاکستان کو 78 رنز سے شکست دے کر نہ صرف یہ میچ جیتا بلکہ دو میچوں کی سیریز میں 2-0 سے شاندار کلین سویپ بھی مکمل کر لیا۔ میچ کا آخری دن اعصاب شکن ثابت ہوا، جہاں دونوں ٹیموں کے درمیان بال بال کی جنگ دیکھنے کو ملی۔ پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے مزید 121 رنز درکار تھے اور اس کی صرف تین وکٹیں باقی تھیں، جبکہ بنگلہ دیش کو سیریز اپنے نام کرنے کے لیے صرف تین وکٹوں کی ضرورت تھی۔ اس سنسنی خیز مقابلے نے شائقینِ کرکٹ کے دلوں کی دھڑکنیں تیز کر دیں، اور آخر کار میزبان ٹیم نے میدان مار لیا۔

تائج الاسلام کی جادوئی باؤلنگ اور ناہید رانا کا وار

پانچویں دن کے آغاز پر بنگلہ دیش کی تمام تر امیدیں ان کے تجربہ کار لیفٹ آرم اسپنر تائج الاسلام سے وابستہ تھیں۔ تائج نے مایوس نہیں کیا اور دن کے ابتدائی سیشن میں ہی اپنی نپی تلی لائن و لینتھ اور شاندار ٹرن سے پاکستانی بلے بازوں کو شدید مشکلات میں ڈال دیا۔ انہوں نے دباؤ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جلد ہی اپنی پانچ وکٹیں مکمل کیں اور بعد میں اسے 6 وکٹوں کی شاندار کارکردگی میں تبدیل کر دیا۔ ان کی شاندار گیند بازی نے پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔

دوسری جانب سے نوجوان تیز گیند باز ناہید رانا نے اپنی تیز رفتار اور جارحانہ باؤلنگ کے ذریعے پاکستانی لوئر آرڈر بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ ناہید رانا کی باؤنسرز اور تیز رفتار گیندوں نے تائج الاسلام کے لیے دوسرے اینڈ سے دباؤ برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان دونوں گیند بازوں کی جوڑی نے پاکستانی کیمپ میں کھلبلی مچا دی اور فتح کی راہ ہموار کی جس کی وجہ سے بنگلہ دیشی ٹیم میچ پر حاوی ہو گئی۔

محمد رضوان کی دلیرانہ اور مزاحمتی اننگز

جب پاکستانی ٹیم مسلسل وکٹیں گنوا رہی تھی اور شکست کے دہانے پر کھڑی تھی، تو وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے ایک اینڈ سنبھال لیا۔ انہوں نے انتہائی دباؤ کی صورتحال میں بہترین تکنیک اور اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے 166 گیندوں پر 94 رنز کی شاندار اور دلیرانہ اننگز کھیلی۔ رضوان نے بنگلہ دیشی گیند بازوں کے خلاف دفاعی حکمت عملی اپنانے کے ساتھ ساتھ موقع ملنے پر خوبصورت چوکے بھی لگائے۔ ان کی اس بیٹنگ نے میچ کو یکطرفہ ہونے سے بچایا۔

رضوان نے پونچھل بلے بازوں کے ساتھ مل کر ٹیم کے اسکور کو آہستہ آہستہ ہدف کی طرف بڑھانا شروع کیا، جس سے میچ انتہائی سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو گیا۔ ایک وقت پر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ رضوان اکیلے ہی بنگلہ دیش کے ہاتھوں سے فتح چھین لیں گے۔ بنگلہ دیش کے کپتان اور گیند بازوں کے چہروں پر تناؤ واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا کیونکہ رضوان کی وکٹ میچ کا فیصلہ کن موڑ بن چکی تھی اور وہ ڈٹ کر مقابلہ کر رہے تھے۔

شریف الاسلام کا فیصلہ کن وار اور بنگلہ دیش کی فتح

پاکستان کی امیدیں ابھی قائم تھیں کہ بنگلہ دیشی کپتان نے گیند شریف الاسلام کے حوالے کی۔ شریف الاسلام نے ایک بہترین اور نپی تلی گیند پر خطرناک نظر آنے والے محمد رضوان کو آؤٹ کر کے بنگلہ دیشی خیمے میں خوشی کی لہر دوڑا دی۔ رضوان کے آؤٹ ہوتے ہی پاکستان کی مزاحمت دم توڑ گئی اور پوری ٹیم پویلین لوٹ گئی۔ شریف الاسلام کی اس وکٹ نے بنگلہ دیش کے لیے تاریخی فتح کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ کو دور کر دیا۔

تائج الاسلام نے میچ میں مجموعی طور پر 6 وکٹیں حاصل کر کے بنگلہ دیش کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس شاندار باؤلنگ اسپیل کی بدولت بنگلہ دیش نے پاکستان کو 78 رنز سے شکست دے کر سیریز 2-0 سے اپنے نام کر لی۔ یہ جیت بنگلہ دیشی کرکٹ کی تاریخ کے سنہری ابواب میں لکھی جائے گی کیونکہ پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ کرنا ایک بہت بڑا اور غیر معمولی کارنامہ ہے۔

میچ کی بنیاد: لٹن داس اور مشفق الرحیم کی شاندار سنچریاں

اگرچہ پانچویں دن کا ہیرو تائج الاسلام اور شریف الاسلام کو قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس تاریخی جیت کی بنیاد میچ کے ابتدائی دنوں میں ہی رکھ دی گئی تھی۔ بنگلہ دیش نے پہلی اننگز میں لٹن داس کی شاندار اور کلاسیکی 126 رنز کی اننگز کی بدولت ایک مضبوط پوزیشن حاصل کی تھی۔ لٹن داس کی اس اننگز نے ٹیم کو ایک بڑا اسکور فراہم کرنے میں مدد کی جس نے پاکستانی باؤلرز کو بیک فٹ پر دھکیل دیا۔

دوسری اننگز میں تجربہ کار بلے باز مشفق الرحیم نے اپنی کلاس کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اور شاندار سنچری اسکور کی۔ مشفق کی اس ذمہ دارانہ اننگز کی بدولت بنگلہ دیش نے پاکستان کو جیت کے لیے 437 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف دیا، جو کہ آخری اننگز میں کسی بھی ٹیم کے لیے حاصل کرنا ناممکن کے قریب تھا۔ ان دونوں بلے بازوں کی کارکردگی نے بنگلہ دیشی باؤلرز کو کھل کر باؤلنگ کرنے کا موقع فراہم کیا اور پاکستان پر دباؤ برقرار رکھا۔

بنگلہ دیشی کرکٹ کے لیے ایک تاریخی سنگ میل

پاکستان کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر 2-0 سے ٹیسٹ سیریز جیتنا بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے لیے ایک بہت بڑا سنگ میل ہے۔ اس فتح سے نہ صرف ٹیم کے اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر بھی ان کی پوزیشن مستحکم ہوگی۔ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں نے کھیل کے ہر شعبے یعنی بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ میں پاکستان کو آؤٹ کلاس کیا۔ دوسری جانب پاکستان ٹیم کے لیے یہ سیریز ایک بڑا جھٹکا ہے، اور انہیں اپنی بیٹنگ اور باؤلنگ لائن اپ میں موجود خامیوں پر قابو پانے کے لیے سخت محنت کی ضرورت ہوگی۔