[CRK] BCB کا پی ایس ایل 2026 کے بقیہ میچوں کے لیے مستفیض الرحمان اور ناہید رانا کی این او سی منسوخ
[CRK]
پی ایس ایل 2026: مستفیض الرحمان اور ناہید رانا کا سفر ختم
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) نے ایک اہم فیصلے میں اپنے دو اہم کھلاڑیوں، مستفیض الرحمان اور ناہید رانا کی پاکستان سپر لیگ (PSL) 2026 کے بقیہ میچوں کے لیے جاری کردہ ‘نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ’ (NOC) واپس لے لی ہے۔ یہ فیصلہ ان کھلاڑیوں کی فٹنس اور آنے والی بین الاقوامی سیریز کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔
مستفیض الرحمان کی انجری اور بحالی کا عمل
لاہور قلندرز کی نمائندگی کرنے والے مایہ ناز فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو پی ایس ایل سے واپسی کے بعد گھٹنے کی تکلیف کا سامنا تھا۔ بی سی بی کے میڈیکل پینل کے مطابق، مستفیض کو فوری طور پر اسکین اور بحالی کے پروگرام (Rehabilitation Programme) کی ضرورت ہے۔ بورڈ کے اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ کھلاڑی کی صحت کو ترجیح دیتے ہوئے این او سی منسوخ کی گئی ہے تاکہ وہ مکمل آرام اور علاج پر توجہ مرکوز کر سکیں۔
مستفیض نے پی ایس ایل 2026 میں 5 میچ کھیلے جس میں انہوں نے 7.17 کی اکانومی کے ساتھ 6 وکٹیں حاصل کیں۔ بنگلہ دیش واپسی پر، وہ نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے دو ون ڈے میچز نہیں کھیل سکے تھے، تاہم تیسرے میچ میں انہوں نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں۔
ناہید رانا کا ورک لوڈ مینجمنٹ
پشاور زلمی کے لیے کھیلنے والے نوجوان فاسٹ بولر ناہید رانا نے ٹورنامنٹ میں اپنی تیز رفتاری اور درست لائن لینتھ سے سب کو متاثر کیا۔ انہوں نے 4 میچوں میں 5.42 کی متاثر کن اکانومی کے ساتھ 7 وکٹیں حاصل کیں، جن میں ایک میچ میں چار وکٹوں کی کارکردگی بھی شامل ہے۔
بی سی بی نے ناہید رانا، مستفیض الرحمان اور ٹاسکن احمد کو نیوزی لینڈ کے خلاف آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے ابتدائی دو میچوں کے لیے آرام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ‘ورک لوڈ مینجمنٹ’ کے تحت کیا گیا ہے تاکہ کھلاڑیوں کو طویل کرکٹ سیزن کے لیے فٹ رکھا جا سکے۔
مستقبل کے منصوبے
ان کھلاڑیوں کی پی ایس ایل سے دستبرداری کے بعد ان کے مستقبل کے شیڈول پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال کچھ یوں ہے:
- ناہید رانا: ان کا اگلا اہم اسائنمنٹ مئی میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز ہے۔
- مستفیض الرحمان: ان کے جون میں آسٹریلیا کے خلاف وائٹ بال سیریز میں شرکت کے قوی امکانات ہیں۔
کرکٹ شائقین کے لیے یہ خبر ضرور مایوس کن ہے کہ ان کے پسندیدہ کھلاڑی پی ایس ایل کے بقیہ حصے میں ایکشن میں نظر نہیں آئیں گے، لیکن کھلاڑیوں کی طویل مدتی فٹنس اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے پیشِ نظر بی سی بی کا یہ اقدام انتہائی ذمہ دارانہ سمجھا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ اس فیصلے کے بعد، اب لاہور قلندرز اور پشاور زلمی کی ٹیمیں اپنے متبادل کھلاڑیوں کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے حکمت عملی تیار کریں گی۔
