بی سی سی آئی کا کریک ڈاؤن: آئی پی ایل ٹیموں کے لیے سخت ضابطہ اخلاق اور چھاپوں کا اعلان
آئی پی ایل میں نظم و ضبط کا نیا دور
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کی انتظامیہ اور بی سی سی آئی (BCCI) نے ٹورنامنٹ کی ساکھ اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیے ایک انتہائی اہم قدم اٹھایا ہے۔ حال ہی میں جاری ہونے والی 7 صفحات پر مشتمل گائیڈ لائنز کے بعد، بی سی سی آئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب آئی پی ایل کی تمام ٹیموں، بشمول رائل چیلنجرز بنگلور (RCB) اور چنئی سپر کنگز (CSK) کے دوروں اور ہوٹل کے قیام کے دوران اچانک چھاپے مار کر نگرانی کرے گی۔
یہ سخت اقدامات کیوں کیے گئے؟
یہ فیصلہ اچانک نہیں کیا گیا، بلکہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پیش آنے والے کچھ متنازعہ واقعات کے بعد بورڈ نے یہ سخت رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان واقعات میں راجستھان رائلز کے ٹیم مینیجر کا ڈگ آؤٹ میں موبائل فون کا استعمال اور کپتان ریان پراگ کا ڈریسنگ روم میں ای-سگریٹ پیتے ہوئے پایا جانا شامل تھا۔ ان واقعات نے بی سی سی آئی کے حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔
نئی گائیڈ لائنز اور خصوصی آپریشن ٹیم
بی سی سی آئی نے ان ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کروانے کے لیے ایک ‘اسپیشل آپریشن ٹیم’ تشکیل دی ہے۔ یہ ٹیم باقاعدگی سے ٹیموں کے ہوٹلز اور دیگر مقامات پر جا کر یہ دیکھے گی کہ آیا کھلاڑی اور اسٹاف بی سی سی آئی کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔ ہدایات میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کھلاڑیوں کے ساتھ ان کے قریبی رشتہ داروں یا دوستوں کے سفر کرنے کے حوالے سے بھی سخت نگرانی کی جائے گی۔ خاص طور پر ‘ہنی ٹریپ’ جیسے خطرات کے پیشِ نظر بی سی سی آئی پہلے ہی ٹیموں کو محتاط رہنے کا مشورہ دے چکا ہے۔
ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سزائیں
بی سی سی آئی کے عہدیدار دیواجیت سیکیا کے مطابق، کسی بھی خلاف ورزی کو معمولی نہیں سمجھا جائے گا۔ ٹیم مینیجرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مہمانوں کی آمد و رفت اور ہوٹل کی نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ رکھیں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے درج ذیل سزائیں تجویز کی گئی ہیں:
- شو کاز نوٹس: متعلقہ فرنچائز یا فرد کو باقاعدہ نوٹس جاری کیا جائے گا۔
- مالی جرمانہ: آئی پی ایل کے قوانین کے تحت بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔
- معطلی یا نااہلی: کھلاڑی، سپورٹ اسٹاف یا ٹیم آفیشل کو موجودہ یا آئندہ سیزن سے معطل کیا جا سکتا ہے۔
- قانونی کارروائی: منشیات کے استعمال، سیکیورٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی یا ہراساں کرنے کے معاملات میں معاملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا جائے گا۔
ٹیموں کے لیے انتباہ
بی سی سی آئی نے واضح کر دیا ہے کہ یہ ضابطہ اخلاق محض کاغذی نہیں ہے۔ فرنچائزز کو سختی سے مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ان ہدایات کو سنجیدگی سے لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کا عملہ اور کھلاڑی ان قوانین کی مکمل پاسداری کریں۔ بورڈ کا ماننا ہے کہ آئی پی ایل کی ساکھ کو بچانے کے لیے یہ سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔
یہ پیش رفت کرکٹ کے حلقوں میں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے کیونکہ اس سے قبل آئی پی ایل میں ٹیموں کو اتنی سخت نگرانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ اقدامات ٹورنامنٹ کے دوران ڈسپلن کو بہتر بنانے میں کتنے مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
