بی سی سی آئی کی آئی پی ایل فرنچائزز کو سخت وارننگ: ہنی ٹریپ اور سیکیورٹی پروٹوکول پر نئی ہدایات
آئی پی ایل میں نظم و ضبط کی بحالی: بی سی سی آئی کا اہم اقدام
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے جاری سیزن کے درمیان، بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے تمام فرنچائزز کے لیے ایک انتہائی اہم اور تفصیلی سات صفحات پر مشتمل ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس دستاویز کا بنیادی مقصد کھلاڑیوں، اسپورٹ اسٹاف اور پورے ٹورنامنٹ کی ساکھ کو محفوظ بنانا ہے۔ بی سی سی آئی کی جانب سے یہ اقدام حالیہ کچھ واقعات کے بعد اٹھایا گیا ہے جن میں پروٹوکول کی خلاف ورزیاں دیکھی گئی تھیں۔
ہنی ٹریپ اور سیکیورٹی کے سنگین خدشات
بی سی سی آئی کے دیواجیت سیکیا کی جانب سے جاری کردہ اس ایڈوائزری میں سب سے اہم انتباہ ‘ہنی ٹریپ’ کے خطرات سے متعلق ہے۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ ہائی پروفائل کھیلوں کے ماحول میں کھلاڑیوں کو ہدف بنانا اور انہیں قانونی مسائل میں پھنسانا ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ جنسی بدسلوکی کے الزامات جیسے سنگین قانونی معاملات سے بچنے کے لیے تمام فرنچائزز کو انتہائی چوکس رہنا ہوگا۔ کھلاڑیوں اور عملے کو ان خطرات سے نمٹنے کے لیے پہلے سے تیار رہنا چاہیے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
کھلاڑیوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں
ایڈوائزری میں ٹیم ہوٹلوں سے کھلاڑیوں کی بلااجازت نقل و حرکت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ بی سی سی آئی نے نشاندہی کی ہے کہ کئی کھلاڑی اور اسٹاف ممبران بغیر کسی اطلاع کے ہوٹل سے باہر نکل جاتے ہیں، جو کہ سیکیورٹی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ بورڈ نے ہدایت کی ہے کہ اب کسی بھی کھلاڑی یا اسٹاف ممبر کو ہوٹل سے باہر جانے کے لیے سیکیورٹی رابطہ افسر (SLO) اور ٹیم انٹیگریٹی افسر (TIO) کی پیشگی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگی۔ ٹیم مینیجرز کو اب ہر دن کی نقل و حرکت اور مہمانوں کی آمد و رفت کا مکمل ریکارڈ رکھنے کا پابند کیا گیا ہے۔
ویپنگ اور ڈریسنگ روم کے قواعد
آئی پی ایل کے حالیہ میچوں کے دوران کچھ کھلاڑیوں کی جانب سے ڈریسنگ روم میں ویپنگ (الیکٹرانک سگریٹ نوشی) کے واقعات سامنے آئے تھے۔ بی سی سی آئی نے اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے یاد دلایا ہے کہ بھارتی قانون کے تحت ویپس کا استعمال ممنوع ہے اور ایسا کرنا نہ صرف آئی پی ایل کے قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ ایک قابلِ تعزیر جرم بھی ہو سکتا ہے۔ کھلاڑیوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اس طرح کی حرکتیں نہ صرف ان کی اپنی ساکھ کو متاثر کرتی ہیں بلکہ ٹیم کے لیے بھی قانونی مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔
ڈگ آؤٹ اور میچ کے دوران نظم و ضبط
بی سی سی آئی نے ڈگ آؤٹ کے تقدس کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا ہے۔ فرنچائز مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ براہ راست میچ کے دوران ڈگ آؤٹ میں داخل ہونے یا کھلاڑیوں سے غیر ضروری بات چیت کرنے سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ، اسٹیڈیم میں داخلے کے وقت ایکریڈیشن چیک کے دوران کسی بھی قسم کی ہچکچاہٹ دکھانے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ بی سی سی آئی کی جانب سے یہ سات صفحات پر مشتمل ایڈوائزری اس بات کا ثبوت ہے کہ بورڈ آئی پی ایل کے معیار اور کھلاڑیوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ امید ہے کہ ان سخت قواعد و ضوابط پر عمل درآمد سے آنے والے میچوں میں نظم و ضبط کی بہتر صورتحال دیکھنے کو ملے گی۔
