Cricket News

BCCI کی جانب سے سن رائزرز حیدرآباد کی ناقص کارکردگی پر سرزنش

Sneha Roy · · 1 min read

سن رائزرز حیدرآباد کی گجرات ٹائٹنز کے خلاف بدترین شکست

انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کے ایک اہم مقابلے میں سن رائزرز حیدرآباد (SRH) کو نریندر مودی اسٹیڈیم میں گجرات ٹائٹنز کے ہاتھوں 82 رنز کی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ میچ نہ صرف حیدرآباد کے لیے مایوس کن رہا بلکہ میچ کے بعد بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (BCCI) کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے بھی ٹیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

میچ کا خلاصہ: گجرات ٹائٹنز کا پلڑا بھاری رہا

پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے گجرات ٹائٹنز نے مقررہ اوورز میں 168 رنز کا ہدف مقرر کیا۔ اس ٹوٹل تک پہنچنے میں بی سائی سدرشن اور واشنگٹن سندر کی نصف سنچریاں اہم ثابت ہوئیں۔ جواب میں سن رائزرز حیدرآباد کی پوری ٹیم محض 86 رنز پر ڈھیر ہو گئی، جو کہ اس سیزن میں ان کی سب سے کم ترین کارکردگی میں سے ایک ہے۔

بی سی سی آئی کی ناراضگی اور راجیو شکلا کا بیان

بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سن رائزرز حیدرآباد کے بلے بازوں کے جارحانہ انداز پر کھل کر تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 160-170 رنز کے معمولی ہدف کا پیچھا کرتے ہوئے ٹیم کو شروع سے ہی چھکے مارنے کی جلدی کیوں تھی۔

راجیو شکلا کا کہنا تھا: “جب صرف 160 رنز ہی بنانے ہیں تو آتے ہی چھکے مارنے کی کوشش کر کے وکٹ کیوں گنوائی جائے؟” ان کے مطابق، کرکٹ میں حالات کے مطابق کھیلنا ضروری ہے اور حیدرآباد کے بلے بازوں نے غیر ضروری جارحیت دکھا کر میچ خود اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا۔

ٹائٹنز کے طاقتور بولنگ اٹیک کے سامنے بیبس SRH

گجرات ٹائٹنز کے پاس محمد سراج، پرسدھ کرشنا، کگیسو ربادا اور جیسن ہولڈر جیسے تیز گیند بازوں کی ایک مضبوط فوج موجود تھی۔ نریندر مودی اسٹیڈیم کی پچ پر ان گیند بازوں نے حیدرآباد کے بیٹنگ لائن اپ کی دھجیاں اڑا دیں۔ ٹریوس ہیڈ، ابھیشیک شرما اور ہینرک کلاسن جیسے بلے باز اس مضبوط بولنگ اٹیک کے سامنے ٹک نہ سکے اور وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں۔

آگے کی راہ: چنئی سپر کنگز کے خلاف اہم مقابلہ

اب سن رائزرز حیدرآباد کی توجہ اپنے اگلے بڑے مقابلے پر ہے جہاں ان کا مقابلہ فارم میں موجود چنئی سپر کنگز (CSK) سے ہوگا۔ پیٹ کمنز کی قیادت میں، حیدرآباد کے لیے یہ میچ پلے آف کی دوڑ میں برقرار رہنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ٹیم کو چاہیے کہ وہ اپنی ماضی کی غلطیوں سے سیکھے اور محتاط انداز اپناتے ہوئے پوائنٹس ٹیبل پر اپنی پوزیشن مستحکم کرے۔

نتیجہ

سن رائزرز حیدرآباد کا بیباک انداز اکثر سراہا جاتا رہا ہے، لیکن گجرات ٹائٹنز کے خلاف میچ نے یہ ثابت کیا کہ کرکٹ صرف جارحیت کا نام نہیں بلکہ حکمت عملی کا نام بھی ہے۔ اگر ٹیم کو ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنا ہے تو انہیں بی سی سی آئی کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اپنی بیٹنگ اپروچ میں توازن لانا ہوگا۔