[CRK]
برینڈن ڈوگیٹ کی ایزیز کے لیے تیاری
آسٹریلیا کے فاسٹ بولر برینڈن ڈوگیٹ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ طویل عرصے سے قومی ٹیم کی کال کا انتظار کر رہے ہیں اور اب وہ آسٹریلوی سلیکٹرز کی جانب سے ایزیز سیریز کے پہلے ٹیسٹ اسکواڈ میں شمولیت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ 31 سالہ ڈوگیٹ حالیہ شیفیلڈ شیلڈ میچوں میں اپنی شاندار کارکردگی کے بعد اسکواڈ میں جگہ بنانے کے مضبوط امیدوار ہیں۔
انجری سے شاندار واپسی
ہیمسٹرنگ انجری کے باعث کچھ عرصہ میدان سے باہر رہنے والے ڈوگیٹ نے جنوبی آسٹریلیا کی جانب سے ویسٹرن آسٹریلیا کے خلاف کھیلتے ہوئے 48 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کر کے اپنی فٹنس اور فارم کا ثبوت دیا ہے۔ اگرچہ پیٹ کمنز پہلے ٹیسٹ سے باہر ہیں، لیکن ڈوگیٹ کے لیے ٹیسٹ ڈیبیو شاید ابھی فوری نہ ہو، کیونکہ وہ مچل اسٹارک، جوش ہیزل ووڈ اور اسکاٹ بولینڈ جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کے متبادل کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
انتظار اور حوصلہ
ایڈیلیڈ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈوگیٹ نے کہا کہ، “میں کافی عرصے سے اس موقع کا منتظر ہوں۔ اگر مجھے اسکواڈ میں بلایا جاتا ہے، تو میں تیار ہوں۔” وہ اس سے قبل ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کے فائنل اور ویسٹ انڈیز کے دورے کے لیے بھی اسکواڈ کا حصہ تھے، لیکن ہپ انجری کے باعث انہیں ٹیم سے باہر ہونا پڑا تھا۔
ڈوگیٹ کی صلاحیتوں کا اعتراف
برینڈن ڈوگیٹ کو آسٹریلیا کا ایک ابھرتا ہوا فاسٹ بولر سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر فلیٹ ٹیسٹ وکٹوں پر، جہاں ان کی تیز رفتاری اور نئی گیند کو سونگ کرنے کی صلاحیت بہت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال شیفیلڈ شیلڈ کے فائنل میں 11 وکٹیں لے کر اپنی ٹیم کو 29 سال بعد ٹائٹل جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
ریان ہیرس کا کلیدی کردار
ڈوگیٹ نے اپنی کامیابی کا سہرا جنوبی آسٹریلیا کے کوچ اور سابق آسٹریلوی ہیرو ریان ہیرس کے سر باندھا ہے۔ ڈوگیٹ کے مطابق، “رائینو (ریان ہیرس) نے پچھلے 12 مہینوں میں مجھ پر بہت کام کیا ہے۔ انہوں نے مجھے اعتماد دیا ہے اور اپنی تکنیکی مہارتوں کو نکھارنے میں مدد کی ہے۔”
مستقبل کے امکانات
ڈوگیٹ کا شمار ان بولرز میں ہوتا ہے جنہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں تسلسل کے ساتھ وکٹیں حاصل کی ہیں۔ گزشتہ 12 میچوں میں ان کی کارکردگی شاندار رہی ہے، جہاں انہوں نے 20.40 کی اوسط سے 57 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آسٹریلوی سلیکٹرز بدھ کو اعلان ہونے والے اسکواڈ میں اس باصلاحیت بولر پر اعتماد ظاہر کرتے ہیں یا نہیں۔
کرکٹ شائقین کے لیے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ڈوگیٹ کی یہ محنت انہیں طویل عرصے بعد ٹیسٹ کیپ پہننے کا موقع فراہم کرتی ہے یا نہیں۔ ڈوگیٹ کا کہنا ہے کہ وہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق ہر قسم کی بولنگ کے لیے تیار ہیں، چاہے وہ جارحانہ بولنگ ہو یا نئی گیند سے سوئنگ کروانا۔