[CRK] جو کلارک 94 رنز پر، ناٹنگھم شائر کو وارکسھائر کے خلاف مشکلات کا سامنا – کاؤنٹی چیمپئن شپ
[CRK]
رسہ ٹائیج، 12 اپریل: وارکسھائر نے کاؤنٹی چیمپئن شپ کے مقابلے میں ناٹنگھم شائر کے خلاف کھیل کے دوسرے دن اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی، جہاں میزبان ٹیم 459 رنز کے بڑے ہدف کے جواب میں 264 رنز پر 8 وکٹیں گنوا چکی ہے۔ جو کلارک کی شاندار 94 رنز کی اننگز نے ناٹنگھم شائر کو مشکل صورتحال سے نکلنے کی امید دلائی، لیکن میچ اب بھی وارکسھائر کے کنٹرول میں ہے۔
بارنارڈ اور بوث کی شاندار شراکت
وارکسھائر نے پہلے کھیلتے ہوئے 375 رنز 8 وکٹوں کے لیے رات گزاری تھی، لیکن صبح کے سیشن میں ای ڈی بارنارڈ اور مائیکل بوث کی نویں وکٹ کی 119 رنز کی شراکت نے ان کی ٹیم کو بہترین پوزیشن دی۔ بارنارڈ نے اپنی اننگز کو مکمل کرتے ہوئے 165 رنز بنائے، جس میں 300 گیندوں پر 150 تک پہنچنے کے بعد ایک چھکا اور چوکا شامل تھا۔ بوث نے کیریئر بہترین 70 رنز بنائے، جو ان کے پچھلے بہترین اسکور 58 سے بھی آگے نکل گئے۔
بوث کا قہر، ٹونگ کی تکلیف
وسٹ مڈ لینڈ کے باؤلر جوش ٹونگ، جو پہلے سیشن میں پانچ وکٹیں لے چکے تھے، صبح کے وقت ان کا کچھ نہ چلا۔ بارنارڈ نے ان کے خلاف تین چوکے لگائے، جبکہ بوث نے پننگٹن اور لائنڈن جیمز کے خلاف گیندوں کے آخری دو اوورز میں دو چوکے اور تین چھکوں کی بارش کر دی، تاکہ بونس پوائنٹ حاصل کیا جا سکے۔ وہ 110 ویں اوور کی آخری گیند پر مڈ وکٹ کے اوپر چھکا لگا کر اس مقصد کو پورا کر گئے۔
ناٹنگھم شائر کا جواب
جواب میں، ناٹنگھم شائر کو صدر ہسیب حامد کی صفر پر آؤٹ ہونے کا صدمہ اٹھانا پڑا، جب کرس ووکس نے ان کو مڈ وکٹ کی طرف کھیلنے کی کوشش میں ستایا۔ اوپنر بن سلیٹر نے شروع میں اچھا آغاز کیا، لیکن بیمبر کی گیند پر بغیر شاٹ کھیلے بولڈ ہو گئے۔
ڈکٹ اور کلارک کی سازی
بن ڈکٹ اور جو کلارک نے سکور بورڈ کو آگے بڑھایا۔ ڈکٹ نے 84 گیندوں پر 50 رنز مکمل کیے، جس میں آٹھ چوکے شامل تھے۔ کلارک نے 94 رنز بنائے، جو ان کے سیشن کی چمکدار ترین چیز تھی۔ دونوں کے درمیان 100 رنز کی شراکت نے میزبان ٹیم کو امید دلائی۔
سب کچھ ختم کیسے ہوا؟
لیکن چائے کے فوراً بعد، آف اسپنر راب ییٹس کی ایک گیند پر ڈکٹ نے چھلانگ لگائی اور ووکس کو مڈ آن پر کیچ دے بیٹھے۔ اگلی ہی اوور میں، بوث نے جیک ہینز کو آؤٹ کر کے خالی جگہ کو نہیں بچنے دیا۔
کلارک 60 رنز پر ایک مشکل کیچ سے بچ گئے، لیکن آخری اوورز میں بوث نے پھر ان کو لینڈ سکوائر پر چھکا لگاتے ہوئے کیچ تھما دیا۔ رات کے نائٹ واچ مین پننگٹن اور لیام پیٹرسن وائٹ کو بھی آخری دو اوورز میں آؤٹ کر کے وارکسھائر نے دن کا اختتام ایک مضبوط نوٹ پر کیا۔
مقابلہ اب بھی کس کے حق میں؟
ناٹنگھم شائر اب بھی 195 رنز پیچھے ہیں، جبکہ صرف دو وکٹیں باقی ہیں۔ میچ جیتنے کے لیے وہ آؤٹ ہونے سے پہلے 310 رنز بنانا چاہیں گے، لیکن اس کے امکانات بہت کم ہیں۔ وارکسھائر کے سامنے بظاہر آسان فتح کا راستہ ہے، اگر وہ اب بھی باقاعدگی سے وکٹیں لیتے رہیں۔
دوسرے دن کا اختتام اس بات کا ثبوت ہے کہ کرکٹ کی جنگ صبر، حکمت اور ایک لمحے کی غلطیوں پر منحصر ہوتی ہے۔
