ڈین لارنس کی شاندار سنچری: سرے اور ناٹنگھم شائر کے درمیان کانٹے کا مقابلہ
سرے اور ناٹنگھم شائر کے درمیان دلچسپ معرکہ: ڈین لارنس کی دھواں دھار بیٹنگ
کاؤنٹی چیمپئن شپ میں گزشتہ سال کی پہلی اور دوسری پوزیشن کی ٹیموں، سرے اور ناٹنگھم شائر کے درمیان ہونے والا مقابلہ ایک سنسنی خیز رخ اختیار کر چکا ہے۔ کھیل کے تیسرے دن ڈین لارنس کی 104 رنز کی اننگز نے سرے کو پہلی اننگز میں 449 رنز تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں انہیں ناٹنگھم شائر کی پہلی اننگز کے 415 رنز کے جواب میں معمولی برتری حاصل ہوئی۔
دن کے اختتام پر ناٹنگھم شائر نے اپنی دوسری اننگز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 99 رنز بنا لیے تھے اور اب انہیں سرے پر مجموعی طور پر 65 رنز کی برتری حاصل ہے۔ اگرچہ میچ ڈرا کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، لیکن دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے اپنی کارکردگی سے کھیل کو زندہ رکھا ہوا ہے۔
ڈین لارنس اور ایڈم تھامس کی شراکت داری
سرے کی اننگز کا خاص پہلو ڈین لارنس اور نووارد ایڈم تھامس کے درمیان ہونے والی 108 رنز کی شراکت تھی۔ لارنس نے اپنی اننگز کے دوران 15 دلکش چوکے اور ایک بلند و بالا چھکا لگایا۔ انہوں نے اپنی سنچری پیٹرسن وائٹ کی گیند پر تھرڈ مین کی جانب کٹ شاٹ کھیل کر مکمل کی۔ تاہم، لنچ سے ٹھیک پہلے وہ جوش ٹونگ کی گیند پر وکٹ کیپر کائل ویرین کو کیچ دے بیٹھے۔
دوسری جانب، ایڈم تھامس جنہوں نے گزشتہ ہفتے اپنے پہلے ہی فرسٹ کلاس میچ میں سنچری اسکور کی تھی، اس بار بھی 37 رنز بنا کر ٹیم کے اسکور کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوئے۔ ان دونوں کی شراکت نے نہ صرف سرے کو فالو آن سے بچایا بلکہ ایک مضبوط پوزیشن میں بھی لا کھڑا کیا۔
گس اٹکنسن کی بدقسمتی اور انجری کے مسائل
انگلینڈ کے تیز گیند باز جوش ٹونگ نے جہاں 89 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، وہیں ان کی ایک شارٹ پچ گیند انگلش ٹیم کے ساتھی کھلاڑی گس اٹکنسن کے لیے مصیبت کا باعث بن گئی۔ اٹکنسن کے ہیلمٹ پر دو بار گیند لگی، جس کے بعد وہ ‘Delayed Concussion’ (دماغی چوٹ کے اثرات) کا شکار ہو گئے۔
قوانین کے مطابق، اٹکنسن اب سرے کے اگلے میچ سے باہر ہو گئے ہیں، جو کہ لارڈز میں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ سے قبل ان کا آخری موقع ہو سکتا تھا۔ ان کی جگہ ریس ٹوپلی کو بطور متبادل کھلاڑی ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے۔
اولی پوپ کی بیٹنگ پوزیشن پر سوالات
سرے کے مڈل آرڈر کے اہم ستون اولی پوپ، جو عموماً چوتھے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہیں، اس میچ میں آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئے۔ ان کی اس تاخیر کی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آئی، جس نے کرکٹ مبصرین اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے، خاص طور پر جب ٹیسٹ سیریز سر پر ہو۔
ناٹنگھم شائر کی گیند بازی اور دوسری اننگز کا آغاز
ناٹنگھم شائر کے بائیں ہاتھ کے اسپنر لیام پیٹرسن وائٹ نے ایک بار پھر اپنی افادیت ثابت کی۔ انہوں نے 45.3 اوورز کے طویل اسپیل میں 135 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اس سیزن میں ان کی وکٹوں کی تعداد 19 تک پہنچ گئی ہے، جو ان کی بہترین فارم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
کھیل کے آخری سیشن میں جب ناٹنگھم شائر نے اپنی دوسری اننگز کا آغاز کیا تو ان کے کپتان حسیب حمید جلد ہی پویلین لوٹ گئے، انہیں شان ایبٹ نے کلین بولڈ کیا۔ تاہم، بین ڈکٹ نے اپنی شاندار فارم کو برقرار رکھتے ہوئے 35 رنز بنائے ہیں اور وہ کریز پر موجود ہیں۔ ان کا ساتھ بین سلیٹر دے رہے ہیں جو 42 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ ہیں۔
میچ کا ممکنہ نتیجہ
اگرچہ ناٹنگھم شائر کے پاس اب بھی نو وکٹیں باقی ہیں اور وہ 65 رنز کی برتری حاصل کر چکے ہیں، لیکن وقت کی کمی کے باعث یہ میچ ڈرا کی جانب جاتا ہوا نظر آتا ہے۔ تاہم، کرکٹ میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوتا ہے۔ آخری دن کی پچ گیند بازوں کو مدد دے سکتی ہے، اور اگر ناٹنگھم شائر تیزی سے رنز بنا کر اننگز ڈیکلیئر کرتا ہے، تو ہمیں ایک سنسنی خیز اختتام دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
سرے کی مجموعی کارکردگی
- ڈین لارنس: 104 رنز (15 چوکے، 1 چھکا)
- ڈوم سیبلی: 77 رنز
- جارڈن کلارک: 54 رنز
- جوش ٹونگ: 4 وکٹیں (89 رنز)
- لیام پیٹرسن وائٹ: 4 وکٹیں (135 رنز)
اب تمام نظریں چوتھے دن کے کھیل پر ہیں کہ کیا سرے کے گیند باز ناٹنگھم شائر کو جلد آؤٹ کر کے میچ جیتنے کی کوشش کریں گے یا ناٹنگھم شائر کے بلے باز اپنی برتری کو اتنا بڑھا دیں گے کہ میچ محفوظ ہو جائے۔
