دہلی کیپیٹلز میں بڑی تبدیلیاں: آئی پی ایل 2026 کے بعد کوچنگ اسٹاف اور کپتان فارغ
دہلی کیپیٹلز کا مایوس کن سیزن اور انتظامیہ کا سخت فیصلہ
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کے 19ویں سیزن میں دہلی کیپیٹلز کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے۔ ٹیم پلے آف کی دوڑ سے تقریباً باہر ہو چکی ہے اور پوائنٹس ٹیبل پر ساتویں پوزیشن پر موجود ہے۔ 12 میچوں میں صرف 10 پوائنٹس حاصل کرنے والی یہ ٹیم ممبئی انڈینز اور لکھنؤ سپر جائنٹس کے نقش قدم پر چل رہی ہے، جس کے بعد فرنچائز مالکان نے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔
کوچنگ اسٹاف کی چھٹی یقینی
مستند ذرائع کے مطابق، فرنچائز کے مالکان نے فیصلہ کیا ہے کہ اس مایوس کن سیزن کے اختتام پر موجودہ کوچنگ اسٹاف کو مکمل طور پر فارغ کر دیا جائے گا۔ ٹیم کی ناقص حکمت عملی اور کھلاڑیوں کے غلط استعمال پر سابق کرکٹرز اور شائقین کی جانب سے مسلسل تنقید کی جا رہی تھی۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ٹیم میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی موجودگی کے باوجود کوچنگ پینل ان سے بہتر نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
ایکسر پٹیل کی کپتانی پر سوالات
رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایکسر پٹیل کا بطور کپتان مستقبل انتہائی غیر یقینی ہے۔ ایکسر پٹیل نہ صرف کپتانی میں ناکام رہے بلکہ بطور آل راؤنڈر بھی اپنی فارم کھو چکے ہیں۔ 9 اننگز میں صرف 100 رنز بنانا اور 12 میچوں میں صرف 10 وکٹیں حاصل کرنا ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ خاص طور پر ان پر الزام ہے کہ وہ خود کو بطور بولر کم استعمال کر رہے ہیں اور اہم فیصلوں کے لیے مکمل طور پر ہیمانگ بدانی اور وینوگوپال راؤ پر انحصار کرتے ہیں۔
مالکیت میں تبدیلی اور مستقبل کی حکمت عملی
دہلی کیپیٹلز کی ملکیت جے ایس ڈبلیو (JSW) اور جی ایم آر (GMR) کے درمیان باری باری تبدیل ہوتی ہے۔ آنے والے 20ویں سیزن میں پارتھ جندال کی سربراہی میں جے ایس ڈبلیو انتظامی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔ اس تبدیلی کے ساتھ ہی ٹیم کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
ٹیم سلیکشن اور کھلاڑیوں کے ساتھ رویہ
دہلی کیپیٹلز کے حوالے سے سب سے زیادہ تنقید ٹیم سلیکشن پر کی گئی ہے۔ ابھشیک پورل کو نظر انداز کرنا اور مادھو تیواری جیسے آل راؤنڈر کو مستقل مواقع نہ دینا ٹیم کی ناکامی کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ ساحل پارکھ جیسے باصلاحیت کھلاڑی کو بھی ٹیم میں وہ اعتماد نہیں ملا جس کے وہ حقدار تھے۔ کے ایل راہول واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنی کارکردگی سے متاثر کیا ہے اور 450 سے زائد رنز بنائے ہیں، تاہم ان کے علاوہ کوئی بھی کھلاڑی مستقل مزاجی دکھانے میں ناکام رہا۔
نتیجہ
آئی پی ایل 2026 دہلی کیپیٹلز کے لیے ایک سبق رہا ہے۔ ٹیم کے پاس ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے، لیکن درست قیادت اور کوچنگ کی عدم موجودگی نے انہیں اس نہج پر پہنچا دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے سیزن میں جے ایس ڈبلیو کی سربراہی میں دہلی کیپیٹلز کس طرح اپنی ساکھ کو بحال کرتی ہے اور نئے کوچنگ پینل کے ساتھ کیا حکمت عملی اپنائی جاتی ہے۔ ایکسر پٹیل کے لیے یہ سیزن ان کے کیریئر کا مشکل ترین دور ثابت ہوا ہے اور اب ٹیم کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔
