News

IPL 2026: دہلی کیپٹلز کے لیے ارون جیٹلی اسٹیڈیم ‘ہوم گراؤنڈ’ کے بجائے ‘اوے وینیو’ کیوں بن گیا؟

Riya Sen · · 1 min read

دہلی کیپٹلز کا ہوم گراؤنڈ پر بحران: کیا ارون جیٹلی اسٹیڈیم ٹیم کے لیے سازگار نہیں؟

آئی پی ایل 2026 کا سیزن دہلی کیپٹلز (DC) کے لیے اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہا ہے، لیکن سب سے زیادہ تشویشناک بات ان کا اپنے ہی ہوم گراؤنڈ، ارون جیٹلی اسٹیڈیم پر غیر تسلی بخش کارکردگی ہے۔ راجستھان رائلز (RR) کے خلاف اتوار کو فتح حاصل کرنے کے باوجود، ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیمنگ بدانی نے اس بات کا برملا اظہار کیا ہے کہ اب وہ اس پچ کے بارے میں بحث کرنا چھوڑ چکے ہیں۔

‘ہم اسے اوے وینیو سمجھتے ہیں’

ہیمنگ بدانی نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں انتہائی مایوسی کے ساتھ کہا کہ ان کے لیے ارون جیٹلی اسٹیڈیم اب ہوم گراؤنڈ نہیں رہا، بلکہ وہ اسے ایک ‘اوے وینیو’ (دوسری ٹیم کا میدان) کے طور پر دیکھتے ہیں۔ بدانی اس سے پہلے بھی اس مسئلے کو اٹھا چکے ہیں، جہاں انہوں نے پچ کے بدلتے مزاج پر تنقید کی تھی اور بی سی سی آئی (BCCI) سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان پچز کی دیکھ بھال پر توجہ دیں۔

اس سیزن میں اعداد و شمار بدانی کے تحفظات کی تصدیق کرتے ہیں۔ دہلی کی ٹیم نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر 7 میچ کھیلے ہیں جن میں سے صرف 2 میں انہیں کامیابی ملی ہے، جبکہ 5 میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے برعکس، ٹیم نے اپنے اوے میچز (دوسرے میدانوں پر) میں 6 میں سے 4 میچ جیتے ہیں۔

پچز کا غیر متوقع برتاؤ

بدانی کے مطابق، پچ کا رنگ، ٹیکسچر اور گھاس کا معیار ہر بار مختلف ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ٹیم اپنی حکمت عملی مرتب نہیں کر پاتی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایک ہی سیزن میں دہلی کیپٹلز کبھی 264 رنز بناتی ہے تو کبھی محض 75 رنز پر ڈھیر ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا:

  • پچ نمبر 4، 5 اور 6 پر کھیلے گئے میچز بالکل مختلف رہے ہیں۔
  • جب آپ کو یہ معلوم نہ ہو کہ پچ کا پار اسکور 180 ہے یا 250، تو ٹیم کی ساخت (structure) بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔
  • کھلاڑیوں کے لیے پچ کی نوعیت کو سمجھنا ناممکن ہو گیا ہے۔

کیا ہوم ایڈوانٹیج ملنا چاہیے؟

جب بدانی سے پوچھا گیا کہ کیا ٹیموں کو اپنی مرضی کے مطابق پچ تیار کرنے کی اجازت ملنی چاہیے تاکہ وہ ہوم ایڈوانٹیج حاصل کر سکیں، تو انہوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ سب کے لیے ایک جیسا ہونا چاہیے۔ تاہم، ان کا اصل مطالبہ یہ ہے کہ کم از کم پچ کی نوعیت کے بارے میں پیش گوئی کرنا ممکن ہونا چاہیے۔

بدانی نے مزید وضاحت کی کہ راجستھان رائلز کے خلاف میچ میں بھی پچ کا برتاؤ عجیب تھا۔ اننگز کے آخری لمحات میں گیند ریورس سوئنگ ہونے لگی تھی اور پچ پر گیند رک کر آ رہی تھی، جس سے بیٹنگ کرنا انتہائی مشکل ہو گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی کیپٹلز نے کھیل کو گہرائی تک لے جانے کی حکمت عملی اپنائی۔

نتیجہ

دہلی کیپٹلز کی ٹیم پلے آف کی دوڑ میں شامل رہنے کے لیے کوشاں ہے، لیکن اپنے ہوم گراؤنڈ پر غیر یقینی صورتحال ان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ بدانی کا بیان واضح کرتا ہے کہ کرکٹ میں صرف کھلاڑیوں کی صلاحیت ہی کافی نہیں ہوتی، بلکہ پچ کی مطابقت بھی اتنی ہی اہم ہے جو ٹیم کے اسٹائل آف پلے (Style of play) کے مطابق ہو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آنے والے میچوں میں دہلی کیپٹلز اس میدان پر کوئی توازن ڈھونڈ پاتی ہے یا ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔

Avatar photo
Riya Sen

Riya Sen focuses on young cricket talent, under-19 prospects, and breakout performers in domestic tournaments.